Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سعودی عرب کا دوہرا معیار: امن کا دعویٰ اور امریکہ کی کھلی مدد* *(پرنس سلطان ایئر بیس پر حملہ: کیا سعودی عرب واقعی جنگ سے الگ ہے؟)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*سعودی عرب کا دوہرا معیار: امن کا دعویٰ اور امریکہ کی کھلی مدد*

*(پرنس سلطان ایئر بیس پر حملہ: کیا سعودی عرب واقعی جنگ سے الگ ہے؟)*

بقلم: *اسماء جبین فلک*

عصرِ حاضر کے انتہائی پیچیدہ اور کثیر الجہتی عالمی منظر نامے میں، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ریاستی بیانیے اور عملی اقدامات کے درمیان حائل خلیج روز بروز وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے میں کسی بھی ملک کے طرزِ عمل کا تجزیہ عموماً اس کی اعلانیہ خارجہ پالیسی اور زمینی حقائق کے باہمی تقابل سے کیا جاتا ہے۔ موجودہ مشرقِ وسطیٰ تنازعے کے دوران مملکتِ سعودی عرب کا کردار اس ساختی تضاد اور دوہری پالیسی کی ایک واضح مثال بن کر ابھرا ہے۔ سفارتی محاذ پر سعودی قیادت خود کو ایک غیر جانبدار فریق اور خطے میں امن کے داعی کے طور پر پیش کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے تاکہ مملکت کو براہ راست فوجی تصادم کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم، عسکری اور انٹیلی جنس کی سطح پر سعودی عرب کا امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اشتراک اور اس کی عسکری مہم جوئی کے لیے لاجسٹک تعاون فراہم کرنا اس اعلانیہ بیانیے کی مکمل نفی کرتا ہے۔ یہ تضاد محض کوئی عارضی سفارتی ابہام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی ریاستی حکمت عملی ہے جو 27 مارچ 2026 کو پرنس سلطان ایئر بیس پر ہونے والے تباہ کن حملے اور امریکی ذرائع ابلاغ میں منظرِ عام پر آنے والی تہلکہ خیز رپورٹس کے بعد پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ اس واقعے اور اس کے پسِ پردہ محرکات کا خالصتاً تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اسے بین الاقوامی تعلقات کے مروجہ نظریات، تاریخی تسلسل، اور معاشی حرکیات کے وسیع تر تناظر میں پرکھیں۔

اس ریاستی طرزِ عمل کی تفہیم کے لیے بین الاقوامی تعلقات کے دو کلیدی نظریات، یعنی نو-حقیقت پسندی (Neorealism) اور تعمیریت پسندی (Constructivism)، انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ نو-حقیقت پسندی کے اصولوں کے تحت، عالمی نظام بنیادی طور پر ایک طوائف الملوکی (Anarchy) پر مبنی ہے جہاں ہر ملک کا اولین اور حتمی مقصد اپنی بقاء کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کے لیے کمزور یا عدم تحفظ کا شکار ممالک عموماً کسی بڑی عالمی طاقت کے ساتھ الحاق (Bandwagoning) کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے امریکہ پر مکمل انحصار اور اسے اپنی سرزمین پر فوجی اڈے اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا دراصل اسی نظریے کا عملی اطلاق ہے، جس کا مقصد ایران جیسی ابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ دوسری جانب، تعمیریت پسندی کا نظریہ یہ واضح کرتا ہے کہ ریاستی مفادات محض مادی و عسکری طاقت تک محدود نہیں ہوتے، بلکہ ان کا تعین ریاستی شناخت، نظریات اور تاریخی مسابقت سے بھی ہوتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جاری یہ سرد جنگ محض جغرافیائی سرحدوں کا تنازع نہیں ہے، بلکہ یہ مسابقتی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی شناختوں کا ایک ایسا گہرا تصادم ہے جس نے پورے خطے کو ایک طویل پراکسی وار کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

اس نظریاتی پس منظر کی روشنی میں اگر 27 مارچ 2026 کے واقعات کا معروضی جائزہ لیا جائے، تو سعودی عرب کی غیر جانبداری کا دعویٰ زمینی حقائق سے یکسر متصادم نظر آتا ہے۔ ایران کی جانب سے ریاض کے قریب واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیا جانے والا مربوط حملہ مشرقِ وسطیٰ کی عسکری تاریخ کا ایک انتہائی فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں امریکی فضائیہ کا جدید ترین ‘ای-3 سینٹری اواکس’ (E-3 Sentry AWACS) طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کی حتمی تصدیق ان سیٹلائٹ تصاویر سے بھی ہو چکی ہے جو طیارے کو دو حصوں میں کٹا اور جلا ہوا دکھاتی ہیں۔ عسکری نقطہ نظر سے یہ کوئی معمولی جنگی نقصان نہیں تھا؛ ای-3 اواکس طیارہ دراصل امریکی فضائیہ کا اڑتا ہوا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور حساس ترین ریڈار سسٹم ہے، جس کی مالیت اربوں روپے میں بتائی جاتی ہے۔ اس طیارے کی بنیادی ذمہ داری دشمن کی فضائی حدود کی گہری نگرانی، جنگی طیاروں کو اہداف کی نشاندہی، اور پورے خطے میں امریکی و اتحادی فضائی آپریشنز کو مربوط کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، اس تباہ کن حملے میں امریکہ کے فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے کے سی-135 (KC-135 Stratotanker) طیارے بھی شدید متاثر ہوئے، جو امریکی بمبار جہازوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے اور فضا میں دیر تک موجود رہنے کے قابل بناتے ہیں۔

یہاں یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اگر سعودی عرب واقعی موجودہ جنگ میں فریق نہیں ہے، تو اس کی مختار سرزمین پر امریکہ کے وہ انتہائی حساس اور جارحانہ نوعیت کے فضائی اثاثے کیا کر رہے ہیں جو ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے براہِ راست استعمال کیے جاتے ہیں؟۔ بین الاقوامی جنگی قوانین اور اسٹریٹجک اصولوں کی رو سے، جو ملک کسی بیرونی طاقت کو اپنی سرزمین سے لاجسٹک، انٹیلی جنس اور آپریشنل اعانت فراہم کرتا ہے، وہ خود بخود اس تنازع کا ایک فعال حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سنگین اور ناقابلِ تردید تضاد ہے کہ سفارتی محاذ پر کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن قائم کرنے کی بات کی جائے، جبکہ عملی طور پر دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو اپنی سرزمین ایک وسیع عسکری بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ یہ تضاد اس وقت مزید گہرا اور نمایاں ہو جاتا ہے جب ہم جدید ترین امریکی دفاعی نظام کی عبرتناک ناکامی پر نظر ڈالتے ہیں۔ پرنس سلطان ایئر بیس محض ایک عام ہوائی اڈہ نہیں ہے، بلکہ اسے امریکہ کے انتہائی جدید اور مہنگے فضائی دفاعی نظاموں، بشمول پیٹریاٹ (Patriot) اور تھاڈ (THAAD) کے ذریعے محفوظ ترین مقام قرار دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا ان کثیر الجہتی دفاعی حصاروں کو کامیابی سے عبور کر کے “ای-3 اواکس” جیسے انتہائی قیمتی ہدف کو نشانہ بنانا، امریکی دفاعی چھتری کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے مفروضے پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ صورتحال سعودی عرب کی قومی سلامتی کے فیصلہ سازوں کے لیے ایک سنگین لمحہِ فکریہ ہے کہ اگر امریکی افواج اپنے ہی اربوں ڈالر کے جنگی اثاثوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں، تو وہ کس طرح سعودی عرب کے وسیع تر تیل کے ذخائر، ریفائنریز، اور حساس شہری انفراسٹرکچر اور مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ جیسے مقدس مقامات کو کسی ممکنہ وسیع تر جنگ میں محفوظ رکھ سکیں گی۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے اس دوہرے پن کو سب سے زیادہ تقویت حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی ان تہلکہ خیز امریکی صحافتی رپورٹس سے ملی ہے، جنہوں نے ریاض کے امن پسند بیانیے کا پردہ مکمل طور پر چاک کر دیا ہے۔ مشہور امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے مارچ 2026 کے اواخر میں اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان پسِ پردہ امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم کو مزید تیز کرنے اور ایران کا مکمل خاتمہ کرنے پر اکسا رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق، شہزادہ محمد بن سلمان اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متعدد خفیہ رابطے ہوئے ہیں، جن میں سعودی ولی عہد نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف اپنی جنگی کارروائیوں کو اس وقت تک ترک نہ کریں جب تک کہ وہاں موجودہ حکومت کا مکمل طور پر صفایا نہ ہو جائے۔ ولی عہد کی جانب سے مبینہ طور پر یہ استدلال پیش کیا گیا کہ ایران خطے کے استحکام کے لیے ایک ایسا مستقل اور وجودی خطرہ ہے جسے صرف اس کی ریاست کے مکمل خاتمے کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ چشم کشا انکشافات اس بات کی ناقابلِ تردید قیاس آرائیوں کو یقین میں بدل دیتے ہیں کہ سعودی عرب کا جنگ سے الگ رہنے کا دعویٰ محض ایک سفارتی ڈھال ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی نیا رجحان نہیں ہے، بلکہ 1945 میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور شاہ عبدالعزیز کے درمیان ہونے والے ‘کوئنسی معاہدے’ کے بعد سے سعودی عرب کا امریکی فوجی طاقت پر انحصار اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہا ہے، اور 2010 کی وکی لیکس دستاویزات میں بھی سابق شاہ عبداللہ کی جانب سے امریکہ کو ایران پر حملہ کر کے “سانپ کا سر کچلنے” کی ترغیب اسی تاریخی تسلسل کا حصہ تھی۔

اس انتہائی جارحانہ مگر خفیہ پالیسی کا سب سے تشویشناک پہلو وہ سنگین معاشی مضمرات ہیں جو مملکت کی معاشی بقاء کے لیے ایک ہولناک خطرہ بن چکے ہیں۔ سیاسی معاشیات کے محققین کے نقطہ نظر سے، مملکت کا یہ رویہ اس کے اپنے وضع کردہ طویل مدتی معاشی اہداف سے براہ راست متصادم ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا ‘سعودی وژن 2030’ ایک انتہائی پرعزم قومی منصوبہ ہے جس کا مقصد سعودی معیشت کا تیل پر انحصار ختم کرنا، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنا، سیاحت کو فروغ دینا، اور ملک کو جدیدیت کی جانب گامزن کرنا ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا سب سے بنیادی تقاضا اس ملک کا داخلی امن اور علاقائی استحکام ہوتا ہے، جبکہ خطے میں جنگ اور جغرافیائی و سیاسی کشیدگی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح مجروح کرتی ہے۔ جب سعودی عرب اپنی سرزمین کو امریکی فضائی حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت دیتا ہے اور خفیہ طور پر ایک وسیع تر علاقائی جنگ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنے ہی وژن 2030 کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہوتا ہے۔ پرنس سلطان ایئر بیس پر ہونے والا کامیاب حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اور اس کے حامی عناصر سعودی سرزمین پر موجود انتہائی حساس اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، اور اگر یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو سعودی تیل کی تنصیبات اور میگا پراجیکٹس کو پہنچنے والا نقصان مملکت کی معیشت کے لیے ناقابلِ تلافی ہو گا۔

حرفِ آخر کے طور پر یہ بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کی موجودہ خارجہ و دفاعی پالیسی ایک ایسے خطرناک توازن پر استوار ہے جو کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتا ہے۔ ایک جانب عالمی برادری کو امن کا پیغام دینا اور دوسری جانب ایک ایسی تباہ کن جنگ کے لیے اپنی سرزمین اور وسائل پیش کرنا جو خود مملکت کے وجود کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، ایک انتہائی غیر پائیدار اور خطرناک ریاستی حکمت عملی ہے۔ پرنس سلطان ایئر بیس پر جدید امریکی طیاروں کی تباہی اور پیٹریاٹ جیسے دفاعی نظاموں کی ناکامی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو وہ مطلق تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا جس کا وہ ماضی میں دعویٰ کرتا تھا۔ ایسی سنگین صورتحال میں، سعودی عرب کا صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر اکسانا دراصل ایک ایسی آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے جس کے شعلے بالآخر خود سعودی عرب کی دہلیز تک پہنچ سکتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے موجودہ دور میں، ریاستی بیانیے اور زمینی حقیقت کے درمیان یہ تضاد نہ صرف سعودی عرب کی عالمی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، بلکہ یہ پورے خطے کو ایک ایسی نہ ختم ہونے والی جنگ کی اندھی کھائی میں دھکیل رہا ہے جس کے معاشی، سیاسی اور انسانی نقصانات کا تخمینہ لگانا بھی محال ہے۔ وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ سعودی قیادت اپنی اس متصادم حکمت عملی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرے اور خطے کے استحکام کے لیے عارضی الحاق کی بجائے حقیقی، پائیدار اور خود مختار سفارتی حل کی جانب ٹھوس قدم بڑھائے۔