*غیرتِ ایمانی کی پامالی اور عرب قیادت کا المیہ*
*غلامی کی زنجیریں اور تیل کی دولت کا زوال*
بقلم : اسماء جبین فلک
انسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو پوری آب و تاب کے ساتھ عیاں کرتا ہے کہ جب قومیں اپنی بنیادوں اور غیرتِ ایمانی سے دستبردار ہو جاتی ہیں تو ان کا مقدر صرف ذلت اور رسوائی ہی رہ جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی ریاست فلوریڈا میں منعقدہ “مستقبل کی سرمایہ کاری کا اقدام” کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ہتک آمیز، ذلیل، اور نہایت گھٹیا قسم کےالفاظ محمد بن سلمان کے لئے استعمال کیے، وہ موجودہ عرب قیادت کے لیے محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک عبرت ناک تازیانہ ہیں۔ ایران کے خلاف جاری حالیہ تنازعے کے پس منظر میں ٹرمپ نے نہایت متکبرانہ انداز میں یہ دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ مل کر کام کرنے والے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عملی طور پر ان کی خوشامد (یہاں گھٹیا الفاظ کو ہٹا دیا گیا ہے) کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ الفاظ اس تلخ سچائی کی غمازی کرتے ہیں کہ آج کے عرب ممالک اپنی معاشی خوشحالی کے باوجود عالمی طاقتوں کے سامنے کس حد تک بے بس اور محتاج ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی صدارت میں امریکہ کے دوبارہ ابھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے جس طرح سعودی قیادت کا مذاق اڑایا، وہ ایک آقا اور غلام کے رشتے کی بدترین عکاسی کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ شہزادہ محمد بن سلمان ماضی میں امریکہ کو ایک مردہ ملک اور انہیں ایک ناکام صدر سمجھتے تھے لیکن اب انہیں واشنگٹن کے سامنے جھکنا پڑ رہا ہے، عربوں کے کھوکھلے وقار کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ اگرچہ اپنے اس تضحیک آمیز بیان کے فوراً بعد ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو ایک شاندار انسان اور جنگجو بھی قرار دیا، لیکن یہ درحقیقت اسی استعماری ذہنیت کا تسلسل ہے جس میں حکمران اپنے ماتحتوں کو تھپکی دے کر ان کی وفاداریاں خریدتے ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ آج کا مشرقِ وسطیٰ کس طرح اپنی بقا کے لیے امریکی سلامتی کی ضمانتوں پر انحصار کر رہا ہے۔
یہ صورتحال مسلمانوں اور بالخصوص عربوں کی اس عظیم الشان تاریخی میراث کے بالکل برعکس ہے جس نے کبھی دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کو لرزا کر رکھ دیا تھا۔ ایک وہ دور تھا جب جزیرہ نما عرب سے اٹھنے والے بوریہ نشینوں نے اپنے غیرتِ ایمانی اور توکل کی بدولت قیصر و کسریٰ کی عظیم سلطنتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا تھا۔ اس دور میں عربوں کا طرہِ امتیاز ان کی وہ خودداری تھی جس کی بنیاد پر وہ اللہ کے سوا کسی بھی دنیاوی طاقت کے سامنے سرنگوں ہونا اپنی بدترین توہین سمجھتے تھے۔ آج ان عظیم فاتحین اور صحرانشینوں کے ورثاء اپنی سلامتی، اپنے اقتدار کی بقا اور علاقائی بالادستی کے لیے اسی واشنگٹن کی طرف دیکھتے ہیں جو سرِعام ان کی تذلیل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
آج کے دور میں عرب ممالک کے پاس دنیا کے وسیع ترین تیل کے ذخائر، بے پناہ دولت اور انتہائی اہم تزویراتی محلِ وقوع موجود ہے۔ اس کے باوجود، مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے تناظر میں خلیجی ممالک کی واشنگٹن سے یہ غیر مشروط وابستگی ان کی شدید تزویراتی کمزوری و منافقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کا انحصار طویل عرصے سے امریکی تحفظ اور مداخلت پر رہا ہے، جس کے بدلے میں واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اپنی من پسند اور اکثر غیر مقبول پالیسیاں مسلط کرتا آیا ہے۔ عرب حکمرانوں کا یہ ماننا کہ وہ عالمی بساط پر ایک آزاد اور خودمختار طاقت ہیں، ٹرمپ کے اس ایک بیان نے سراب ثابت کر دیا ہے جس نے یہ واضح کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بااثر ترین ممالک کس طرح امریکی مفادات کے تابع ہیں۔
یہ صورتحال امت مسلمہ کے لیے ایک لمحہِ فکریہ اور سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑنے کی ایک کھلی دعوت ہے۔ جب قومیں اپنے فیصلوں کا اختیار، اپنا دفاع اور اپنی معیشت اغیار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں، تو ان کا مقدر یہی ہوتا ہے کہ ان کے نام نہاد اتحادی بھرے مجمعے میں ان کی ہنسی اڑائیں۔ طاقت، عزت اور قومی وقار کا سرچشمہ اغیار کی غلامی اور ان کی چاپلوسی میں نہیں، بلکہ اپنے اسلاف کے اس شاندار راستے میں پنہاں ہے جس کی بنیاد خود انحصاری، غیرتِ ایمانی اور حقیقی آزادی پر رکھی گئی تھی۔ اگر اب بھی عربوں نے اپنی تاریخ سے سبق نہ سیکھا اور اپنے بے پناہ وسائل کو محض اغیار کو راضی رکھنے کے لیے استعمال کرتے رہے، تو آنے والا وقت انہیں تاریخ کے اس کوڑے دان میں دھکیل دے گا جہاں عزت اور خودمختاری کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔










