*ٹرمپ اور نتن یاہو: جدید دنیا کے عالمی جنگی مجرم*
(طاقت کا راج اور عالمی انصاف کا زوال)
بقلم: اسماء جبین فلک
جدید عالمی نظام نے طاقت کو قانون کے تابع کرنے کا بلند آواز دعویٰ کیا تھا، مگر حقیقت نے اسے ایک کھلا مذاق بنا دیا یعنی قانون طاقتور کے لیے حفاظتی چادر اور کمزور کے لیے تیز دھار تلوار ہے۔ اس دوہرے معیار کی سب سے خوفناک اور بے پردہ مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کا سامراجی اتحاد ہے، جس نے غزہ میں نسل کشی کی پالیسیوں کو نہ صرف عملی شکل دی بلکہ عالمی انصاف کے اداروں کو زنجیروں میں جکڑنے کی کھلی کوشش بھی کی۔ یہ تحقیقی تجزیہ ان دونوں رہنماؤں کے اقدامات کو بین الاقوامی فوجداری قانون، جنیوا کنونشنز اور اقوام متحدہ کے منشور کی روشنی میں پیش کرتا ہے ایک عدالتی تناظر جہاں ان کی پالیسیاں شہریوں کے تحفظ کے بنیادی اصولوں یعنی جنگجو و غیر جنگجو میں فرق، طاقت کا مناسب استعمال، اور احتیاط کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں، اور حکمرانوں کی براہ راست ذمہ داری انہیں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتی ہے۔
اکتوبر 2023 سے جاری غزہ فوجی مہم محض خود دفاعی کارروائی نہیں بلکہ فلسطینی آبادی کو قوم کے طور پر ختم کرنے کی منظم سازش ہے۔ نتن یاہو کی حکومت نے جان بوجھ کر خوراک، پانی اور ادویات کی فراہمی روک دی ایک ایسی پالیسی جو بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔ 2025 تک غزہ میں 45 ہزار سے زائد شہری ہلاک، ہسپتالوں اور اسکولوں کی مکمل تباہی، اور 23 لاکھ لوگوں کا بھوک و پیاس کا شکار ہونا کوئی اتفاقی نقصان نہیں؛ یہ نسل کشی کی واضح نیت اور منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔ نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع کے خلاف گرفتاری کے احکامات جاری کیے، جن میں ثابت ہوا کہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، امدادی قافلوں پر حملے کروائے گئے، اور بھوک کو اجتماعی سزا کا ہتھیار بنایا گیا۔ یہ عدالتی فیصلہ محض ایک حکم نہیں بلکہ حکمرانوں کو اپنے فوجی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کا تاریخی سنگ میل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2025 میں اس عدالت پر پابندیاں لگا کر نہ صرف اسرائیلی جرائم کی حفاظت کی بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کی بنیادی شق طاقت کے ناجائز استعمال کی ممانعت کی بھی خلاف ورزی کی۔ ان کے صدارتی حکم نامے نے عدالت کے ججوں، استغاثہ اور ان کے خاندانوں کے مالی اثاثے منجمد کر دیے اور سفر پر پابندی لگا دی ایک ایسی دھمکی آمیز کارروائی جو عالمی معاہدوں کی روح کے خلاف ہے۔ ٹرمپ نے عدالت کو غیر قانونی کہا حالانکہ امریکہ خود اس کے قواعد کا حصہ ہے، جو معاہدوں کی پابندی کے عالمی اصول کی کھلی توہین ہے۔ یہ محض سفارتی دباؤ نہیں بلکہ قانون کو اسی کے ہتھیاروں سے کمزور کرنے کی سازش ہے۔ 2020 میں بھی ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تحقیقات پر اسی طرح پابندیاں لگائی تھیں، اور 2025 میں نتن یاہو کے احکامات نے اس پالیسی کو زندہ کر دیا ایک امریکی حکمت عملی جس کا اصل مقصد طاقتور دوستوں کے لیے قانون سے استثنیٰ حاصل کرنا ہے۔
بھارت اور امریکہ خود دفاع کا حق پیش کرتے ہیں، مگر یہ دلائل قانونی طور پر کمزور ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کی 1200 ہلاکتوں کے جواب میں 45 ہزار شہریوں کا قتل مناسب طاقت کے اصول کی خلاف ورزی ہے دفاع کا مطلب انتقام نہیں۔ 70 فیصد ہلاکتیں عورتوں اور بچوں کی ہیں جبکہ عسکری گروہ صرف 15 فیصد بھی نہیں، جو شہریوں کی جان کی بے توجہی کو ثابت کرتا ہے۔ خوراک کی فراہمی روکنا فوجی ضرورت نہیں بلکہ اجتماعی سزا ہے، جو بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ عسکری گروہوں کے شہری علاقوں میں ہونے کا جواز بھی بے اثر ہے کیونکہ قانون شہریوں کو تحفظ دیتا ہے چاہے ان کے بیچ جنگجو موجود ہوں، اور حکمرانوں پر فرض ہے کہ وہ فوج کو شہریوں کے تحفظ کی ہدایت دیں جو نتن یاہو واضح طور پر ناکام ہوئے۔
بین الاقوامی سیاست کے حقیقت پسندانہ نظریے کے مطابق ٹرمپ اور نتن یاہو کا اتحاد فطری ہے طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے عالمی اداروں کو توڑ مروڑتے ہیں مگر تنقیدی قانونی مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی قانون نوآبادیاتی ہے: افریقہ کے رہنماؤں پر فوری گرفتاری کے احکامات جبکہ مغربی اتحادیوں کے لیے دھمکیاں۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ جیتا، مگر امریکہ نے سلامتی کونسل میں حق رائے دہی استعمال کر کے اسے بے اثر بنا دیا یہ طاقتور ممالک کی مستقل نشستوں کا ناجائز استحکام عالمی انصاف کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
ٹرمپ اور نتن یاہو نے نہ صرف فلسطینیوں کا قتل عام کیا بلکہ عالمی انصاف کے ڈھانچے کو ہی داؤ پر لگا دیا: عدالتوں کی آزادی ختم، انسانی قانون کی بے وقعتی، اور استثنیٰ کا کلچر جس میں قواعد پر مبنی نظام مغربی مفادات کا محض نعرہ بن گیا۔ یہ دوہرا معیار مستقبل کے خطرات پیدا کرتا ہے روس، چین یا ایران بھی کہیں گے کہ عدالت تعصب پسند ہے، اور نتیجہ قانون کی بجائے طاقت کا راج ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نتن یاہو کے اقدامات بین الاقوامی فوجداری قانون کے تحت سنگین جرائم میں شامل ہیں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، اور جنگی جرائم۔ ان کا دفاع قانونی جواز نہیں بلکہ سیاسی چال ہے؛ ان کی سرپرستی اخلاقی نہیں بلکہ سامراجی ہے۔ عالمی برادری کے پاس دو راستے ہیں: طاقتور کو رعایت دے قانون کو مذاق بنائے یا عدالتیں مضبوط کرے، سیاسی قیمت ادا کر کے بھی۔ نورمبرگ اور ٹوکیو کے عدالتی فیصلوں نے تاریخ بدلی تھی؛ آج ٹرمپ اور نتن یاہو کے خلاف وہی تاریخ رقم ہونی چاہیے کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ جب تک طاقتور جرائم سزا نہ پائیں گے، عالمی قانون محض کاغذ کے ٹکڑے رہیں گے، اور غزہ کی لاشیں اس کی ناکامی کا سبق دیتی رہیں گی۔








