Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ٹرمپ پر تیسرا قاتلانہ حملہ: امریکی حفاظتی نظام کی ناکامی پر اٹھتے سوالات*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ٹرمپ پر تیسرا قاتلانہ حملہ: امریکی حفاظتی نظام کی ناکامی پر اٹھتے سوالات*

*(ٹرمپ پر حملے کے بعد: خلیجی ممالک کو دفاعی خودمختاری کی ضرورت؟)*

ازقلم: *اسماء جبین فلک*

25 اپریل 2026 کی وہ رات امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشایئے کے دوران ایک ایسا خوفناک واقعہ رونما ہوا جس نے نہ صرف امریکی اشرافیہ کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی حفاظتی صلاحیتوں پر گہرے سوالات اٹھا دیے۔ یہ وہی تاریخی ہوٹل ہے جہاں 1981 میں صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اور اب ایک بار پھر حفاظتی خدشات نے سرخیاں بنائیں۔ 31 سالہ کول تھامس ایلن نامی حملہ آور، جو کیلیفورنیا کے ٹورینس سے تعلق رکھتا ہے اور ہوٹل کا مہمان تھا، نے بندوق، پستول اور چاقوؤں سے لیس ہو کر حملہ کیا جس میں ایک خفیہ سروس کا اہلکار زخمی ہوا مگر گولیوں سے محفوظ رکھنے والی جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔ دھات پکڑنے والے آلات اور سینکڑوں حفاظتی اہلکاروں کی سخت ترین موجودگی کے باوجود حملہ آور کے اندر داخل ہونے اور فائرنگ شروع کرنے سے امریکی حفاظتی نظام کی بنیادی خامیوں کا پتہ چلتا ہے، حالانکہ فوری ردعمل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول کو محفوظ نکال لیا اور کوئی جاری خطرہ باقی نہ رہا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور کو وفاقی افسر پر حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور وہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے جبکہ تحقیقات عروج پر ہیں۔
یہ واقعہ صدر ٹرمپ پر حالیہ برسوں میں ہونے والے متعدد حملوں کا تسلسل ہے جو امریکی اندرونی سیاسی تقسیم اور حفاظتی اداروں کے بڑھتے ہوئے مسائل کو عیاں کرتا ہے۔ جولائی 2024 میں پنسلوانیا کے بٹلر میں تھامس کروکس نے نشانہ باز بندوق سے حملہ کیا جس میں ٹرمپ کا کان زخمی ہوا اور حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ ستمبر 2024 میں فلوریڈا کے ٹرمپ انٹرنیشنل گالف کلب میں رائن ویسلے راؤتھ نے گھات لگائی جو ناکام رہی اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ فروری 2026 میں مار اے لاگو پر ایک مسلح شخص نے حملہ کرنے کی کوشش کی جسے خفیہ سروس نے فوری طور پر روک دیا۔ یہ پے در پے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ خفیہ سروس نے ہر موقع پر فوری ردعمل میں کامیابی حاصل کی مگر خفیہ معلومات کی کمی، علاقائی نگرانی کی کمزوریاں اور انسانی عوامل نے خطرات کو انتہائی قریب پہنچنے دیا۔ خفیہ سروس کا سالانہ بجٹ تقریباً 2.6 بلین ڈالر پر محیط ہے جو اسے دنیا کا ایک سب سے بڑا حفاظتی ادارہ بناتا ہے مگر سیاسی تشدد میں تیزی سے اضافے اور عملے کی کمی نے اس کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ حملہ آور ایلن کے محرکات، جو سیاسی انتہا پسندی یا ذاتی دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، ابھی تحقیقات کا حصہ ہیں اور یہ امریکی معاشرے کی گہری تقسیم کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ یہ ناکامیاں نہ تو محض تکنیکی ہیں اور نہ ہی صرف انتظامی بلکہ سماجی و سیاسی سطح پر بھی موجود ہیں جہاں داخلی خلفشار نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی سلامتی کو بھی کمزور کر رہا ہے۔
اس واقعے کے مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا کے لیے بعید نہیں کہ گہرے اثرات مرتب ہوں جہاں خلیجی ممالک امریکی دفاعی معاہدوں اور ہتھیاروں پر بھاری انحصار رکھتے ہیں۔ پچھلے حملوں پر عرب ممالک نے فوری مذمتی بیانات جاری کیے تھے جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 2024 کے بٹلر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی مگر 2026 کے اس تازہ واقعے پر ابتدائی ردعمل ابھی محدود اور رسمی نوعیت کا ہے۔ عالمی سطح پر یورپ، چین اور روس نے ماضی میں امریکی اتحاد کی حمایت کا اظہار کیا مگر یہاں مخصوص بیانات کی فوری تصدیق نہیں ہوئی۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ملک اپنے دارالحکومت کے ایک انتہائی محفوظ ہوٹل میں صدر کی حفاظت میں چوک کر سکتا ہے وہ ہزاروں میل دور ایران کے نیابتی دستوں، حوثی ڈرون طیاروں یا حزب اللہ کے میزائلوں سے اپنے اتحادیوں کی مکمل حفاظت کیسے یقینی بنائے گا؟ امریکی حفاظتی چھتری پر انحصار جو دہائیوں پر محیط ہے اب سوالوں کے گھیرے میں ہے خاص طور پر جب معاہدہ ابراہیم جیسے معاہدوں کا مستقبل مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست سے جڑا ہو۔
امریکی داخلی کمزوریاں عرب ریاستوں کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں۔ سیاسی تقسیم اور تشدد میں اضافے نے حفاظتی وسائل کو داخلی استعمال تک محدود کر دیا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کا نظام مسلسل فعال رہتا ہے۔ دنیا کثیر القطبی نظام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے جہاں چین، روس اور بھارت متبادل شراکت داروں کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک پہلے ہی مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دے رہے ہیں جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہالکن اور ایج گروپ۔ عرب حکمرانوں کو اب تزویراتی خودمختاری کی طرف قدم بڑھانا چاہیے، دفاعی صنعت کو عروج دیں، علاقائی حفاظتی اتحادوں کو مضبوط کریں، سفارتی تنوع کو اپنائیں اور داخلی سلامتی کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کریں۔ خطے کے تنازعات یمن، لبنان اور فلسطین کو سفارتی طور پر حل کرنے پر زور دیں تاکہ نیابتی جنگوں کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ واقعہ امریکی سلامتی کی ناکامیوں کا زندہ استعارہ ہے مگر یہ تبدیلی کا ایک سنہری موقع بھی ہے۔ عرب رہنماؤں کو خوش فہمیوں کا دامن چھوڑ کر خالصتاً حقیقت پسندی کا راستہ اپنانا ہوگا کیونکہ تاریخ کا سبق واضح ہے کہ انحصار کرنے والے اتحادی ہمیشہ سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ ٹرمپ پر یہ حملہ ایک کڑا سبق ہے کہ اپنی سلامتی کا حصار خود مضبوط کریں ورنہ بیرونی وعدوں کی بجائے داخلی طاقت ہی آخری اور سب سے پائیدار سہارا ثابت ہوگی۔