*ادب: شخصیت اور زندگی کے باطن کا آئینہ

تحریر۔ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی
انسان اپنی ظاہری شناخت سے نہیں بلکہ اپنے باطن سے پہچانا جاتا ہے، اور یہی باطن جب لفظوں کا روپ اختیار کرتا ہے تو ادب جنم لیتا ہے۔ ادب محض الفاظ کی ترتیب یا جذبات کی نمائش کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی شخصیت، اس کے تجربات، اس کے دکھ سکھ، اس کے خوابوں اور اس کی شکست و ریخت کا آئینہ ہوتا ہے۔ جس معاشرے کا ادب زندہ ہوتا ہے، دراصل اس معاشرے کی روح زندہ ہوتی ہے؛ اور جہاں ادب کمزور پڑ جائے، وہاں انسان بھی اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔
ادب ہمیشہ زندگی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتا ہے۔ یہ نہ ماضی سے الگ ہوتا ہے اور نہ حال سے بے نیاز۔ ایک سچا ادیب اپنے عہد کا گواہ ہوتا ہے۔ وہ صرف کہانیاں نہیں لکھتا بلکہ زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے۔ اس کے لفظوں میں معاشرے کی چیخ بھی ہوتی ہے اور امید کی روشنی بھی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ادب شخصیتوں کا ترجمان ہے، کیونکہ ہر تحریر کے پیچھے ایک زندہ انسان کی فکر، شعور اور احساسات کارفرما ہوتے ہیں۔
جب ہم میر، غالب، اقبال یا پریم چند جیسے ادیبوں کو پڑھتے ہیں تو دراصل ہم ان کی شخصیتوں سے ملاقات کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے کو کیسے دیکھتے تھے، انسان کو کس نظر سے پرکھتے تھے اور زندگی کے معنی کیا سمجھتے تھے۔ ادب ہمیں صرف کہانی نہیں دیتا بلکہ سوچنے کا زاویہ عطا کرتا ہے۔ یہی زاویہ انسان کی شخصیت کو تشکیل دیتا ہے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ادب کو اکثر تفریح یا مشغلہ سمجھ لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے شور میں لفظوں کی حرمت کم ہوتی جا رہی ہے۔ تحریر کی گہرائی کی جگہ جلد بازی نے لے لی ہے۔ لوگ پڑھنے سے زیادہ دکھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ شخصیت کی تعمیر کے بجائے سطحی اظہار کو فروغ مل رہا ہے۔ حالانکہ ادب کا بنیادی مقصد انسان کو اس کے اندر سے بہتر بنانا ہے، نہ کہ محض وقتی تالی حاصل کرنا۔
ادب انسان کو اپنے آپ سے ملاتا ہے۔ جب قاری کسی اچھی تحریر سے گزرتا ہے تو وہ صرف مصنف کو نہیں پڑھتا بلکہ اپنے اندر جھانکنے لگتا ہے۔ اسے اپنے سوال یاد آتے ہیں، اپنی کمزوریاں نظر آتی ہیں اور اپنی انسانیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ادب زندگی کا آئینہ بن جاتا ہے۔ ایک سچی تحریر انسان کو بے چین کرتی ہے، اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور کبھی کبھی اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔
شخصیت اور ادب کا تعلق دو طرفہ ہے۔ جس طرح ادیب اپنی شخصیت سے ادب تخلیق کرتا ہے، اسی طرح ادب نئی شخصیتیں بھی تشکیل دیتا ہے۔ ایک طالب علم جب اچھی کتابیں پڑھتا ہے تو اس کی سوچ وسیع ہوتی ہے، برداشت پیدا ہوتی ہے اور وہ دوسروں کے دکھ کو سمجھنے لگتا ہے۔ ادب انسان کو صرف ذہین نہیں بلکہ حساس بناتا ہے۔ حساسیت ہی انسانیت کی بنیاد ہے۔
بدقسمتی سے آج کا معاشرہ رفتار کا اسیر ہو چکا ہے۔ کامیابی کو دولت اور شہرت کے پیمانے سے ناپا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ادب کی آواز دھیمی محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی دھیمی آواز انسان کو تباہی سے بچاتی ہے۔ ادب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف مقابلہ نہیں بلکہ احساس کا نام بھی ہے۔ اگر انسان احساس کھو دے تو ترقی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔
ادب ہمیں اختلاف کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں خیالات کا تبادلہ احترام کے ساتھ ہو۔ ادیب معاشرے میں مکالمے کی روایت کو زندہ رکھتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتا ہے، تنقید کرتا ہے مگر نفرت پیدا نہیں کرتا۔ اس کا مقصد توڑنا نہیں بلکہ جوڑنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے ادیب ہمیشہ انسانیت کے سفیر کہلائے۔
جب ادب کمزور ہوتا ہے تو معاشرے میں زبان کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ زبان کا زوال دراصل فکر کے زوال کی علامت ہے۔ جب الفاظ محدود ہو جائیں تو خیالات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کی بقا دراصل تہذیب کی بقا ہے۔ ایک قوم اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنی روح کو ادب کے ذریعے محفوظ رکھتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ادب کو دوبارہ زندگی کے مرکز میں لایا جائے۔ گھروں میں کتابوں کی واپسی ہو، تعلیمی اداروں میں مطالعے کی روایت مضبوط کی جائے اور نوجوان نسل کو یہ احساس دلایا جائے کہ ادب وقت ضائع کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سنوارنے کا راستہ ہے۔ جب نوجوان اچھا ادب پڑھیں گے تو ان کے اندر سوال پیدا ہوں گے، شعور بیدار ہوگا اور معاشرہ فکری طور پر مضبوط ہوگا۔
ادب صرف ادیب کی ذمہ داری نہیں بلکہ قاری کی بھی ذمہ داری ہے۔ اگر قاری سنجیدہ تحریر کو اہمیت دینا چھوڑ دے تو معیاری ادب بھی کم ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم پڑھنے کی عادت کو زندہ رکھیں۔ کتاب سے تعلق دراصل انسان سے تعلق ہے، کیونکہ ہر کتاب ایک زندگی کا تجربہ اپنے اندر سموئے ہوتی ہے۔
ادب ہمیں عاجزی سکھاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ انسان کامل نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے والا وجود ہے۔ ایک بڑا ادیب کبھی خود کو مکمل نہیں سمجھتا؛ وہ ہمیشہ تلاش میں رہتا ہے۔ یہی تلاش ادب کو زندہ رکھتی ہے۔ جب تلاش ختم ہو جائے تو تخلیق بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ادب معاشرے کا آئینہ ضرور ہے، مگر یہ صرف عکس نہیں دکھاتا بلکہ راستہ بھی دکھاتا ہے۔ یہ اندھیرے کی نشاندہی کے ساتھ روشنی کی امید بھی دیتا ہے۔ یہی امید انسان کو زندہ رکھتی ہے۔ اگر ادب نہ ہو تو زندگی محض واقعات کا سلسلہ بن کر رہ جائے، اس میں معنی باقی نہ رہیں۔
آج جب دنیا مادّی ترقی کے عروج پر ہے، انسان پہلے سے زیادہ تنہا نظر آتا ہے۔ اس تنہائی کا علاج سائنس یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ادب کے پاس ہے، کیونکہ ادب دل سے بات کرتا ہے۔ یہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں؛ اس کے دکھ، اس کی الجھنیں اور اس کے خواب صدیوں سے انسانیت کا مشترکہ سرمایہ رہے ہیں۔
آخرکار یہی کہا جا سکتا ہے کہ ادب شخصیت اور زندگی کے باطن کا آئینہ اس لیے ہے کہ یہ انسان کو اس کی اصل سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ہونا صرف جینا نہیں بلکہ محسوس کرنا، سوچنا اور دوسروں کے لیے جینا بھی ہے۔ جب تک ادب زندہ ہے، انسانیت کی روشنی باقی ہے؛ اور جس دن ادب خاموش ہو گیا، اس دن زندگی اپنی معنویت کھو دے گی۔
اس لیے ادب کو پڑھنا، سمجھنا اور زندہ رکھنا دراصل اپنی شخصیت اور اپنی تہذیب کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ لفظ صرف لکھے نہیں جاتے ۔وہ انسان کی روح میں بس جاتے ہیں، اور وہی روح آگے چل کر ایک بہتر معاشرہ تخلیق کرتی ہے۔
مضمون نگار،آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرو اشاعت کے سیکریٹری ہیں۔








