*اردو ہماری تہذیبی شناخت ہے، اس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے: ڈاکٹر عمار رضوی*

لکھنؤ (ابوشحمہ انصاری) پانچویں بین الاقوامی اردو۔ہندی عالمی کانفرنس کے افتتاح سے ایک روز قبل تیاریوں کا جائزہ لینے کے سلسلے میں گوتم پلی، پارک روڈ، حضرت گنج واقع رہائش گاہ پر کانفرنس کے چیئرمین اور سابق کارگزار وزیر اعلیٰ اترپردیش ڈاکٹر عمار رضوی کی صدارت میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کانفرنس کے تمام مراحل، پروگراموں اور انتظامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں یہ طے پایا کہ پروگرام کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر ریتا بہوگنا جوشی، سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر برائے خواتین فلاح و سیاحت (حکومتِ اتر پردیش) انجام دیں گی۔
اسی طرح شری سنجے سیٹھ (رکنِ پارلیمنٹ، راجیہ سبھا)، پروفیسر ڈاکٹر سنجیو مشرا (وائس چانسلر، اٹل بہاری واجپئی میڈیکل یونیورسٹی)، اور پروفیسر عباس علی مہدی (وائس چانسلر، ایرا میڈیکل یونیورسٹی) بھی معزز مہمانوں کی حیثیت سے پروگرام کی رونق بڑھائیں گے۔
عمار رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو ہماری تہذیبی شناخت، سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس زبان کا فروغ نئی نسل کی فکری تربیت اور تہذیبی جڑوں سے وابستگی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو اور ہندی دونوں ہماری تاریخی، سماجی اور تہذیبی میراث ہیں، جن کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے بتایا کہ کانفرنس کے تحت 30 نومبر (اتوار) کو ایرا میڈیکل یونیورسٹی میں افتتاحی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے سابق مرکزی وزیر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر غلام نبی آزاد شرکت کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2 دسمبر کو لکھنؤ یونیورسٹی میں علمی نشست منعقد کی جائے گی، جبکہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ میں عظیم الشان مشاعرہ ہوگا۔
مشاورتی اجلاس میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ کانفرنس میں اس بار نوجوانوں کی بھرپور شمولیت، جدید تحقیقی موضوعات، ترجمہ کاری کے نئے رجحانات اور زبان کے ڈیجیٹل مستقبل کو مرکزِ گفتگو بنایا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی میں خط و زبان کے استعمال، عملی لسانی تربیت اور ڈیجیٹل دور میں اردو کے امکانات پر خصوصی نشستیں رکھی جائیں گی، تاکہ نئی نسل زبان کے تعلیمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ پہلوؤں سے بہتر طور پر جڑ سکے۔
شرکاء نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس نوجوانوں کو ممتاز ادیبوں، شاعروں، محققین اور اساتذہ کے ساتھ براہِ راست تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرے گی، جو ان کی علمی و ادبی تربیت میں نہایت مفید ثابت ہوگا۔
اجلاس میں ڈاکٹر ہارون رضوی، مرزا اسلم بیگ، آصف زماں رضوی، موسیٰ رضا، ڈاکٹر ریشماں پروین، عتیق احمد انصاری، شہاب الدین خان، آل احمد، جمیل حسن نقوی، احتشام خان، مرزا فرقان بیگ، پروفیسر منتظر قائمی اور محمد اویس نگرامی سمیت کئی علمی و ادبی شخصیات موجود رہیں۔
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر عمار رضوی نے واضح کیا کہ کانفرنس کا مقصد محض ادبی سرگرمیوں تک محدود نہیں، بلکہ نئی نسل کے سامنے زبان کی اہمیت، اس کے مستقبل، عملی ضرورت اور ڈیجیٹل امکانات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے، تاکہ اردو اور ہندی دونوں زبانیں آنے والے دور میں مزید مضبوط بنیادوں پر فروغ پاتی رہیں۔
یہ اطلاع کانفرنس کی اردو نشر و اشاعت کی ذمہ داری نبھانے والے ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی ہے۔











