<span;><span;>- *کٹیہار-* ( *احمدحسین قاسمی* )
انجمن ترقی اردو بہار کے زیر اہتمام مقامی سرکٹ ہاؤس میں اردو بیداری و قومی یکجہتی پروگرام کا انعقاد انجمن کے صدر ڈاکٹر انور ایرج کی صدارت میں کیا گیا-پروگرام کے روح رواں و انجمن کے سیکرٹری اعجاز احمد قاسمی کی سرپرستی میں منعقدہ اس پروگرام میں انجمن ترقی اردو بہار کے سیکرٹری عبدالقیوم انصاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔ ان کے علاوہ بھاگلپور انجمن ترقی اردو کے سکریٹری جناب زاہد حلیمی بھی شریک ہوئے، ساتھ ہی کٹیہار کے دیہی اور شہری علاقے سے آئے اسکولوں کے اردو اساتذہ اور ملحقہ مدارس کے اساتذہ کرام نے بھی حصہ لیا۔پروگرام کا باضابطہ افتتاح تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ۔ دریں اثناء انجمن کے ضلعی سیکرٹری اعجاز احمد قاسمی ،صدر انور ایرج اور دیگر اراکین نے مشترکہ طور پر مہمان خصوصی عبدالقیوم انصاری کا گل پوشی اور شال دے کر شاندار استقبال کیا ۔پروگرام کے دوران کٹیہار کے تین مصنفین کی کتابوں کا رسم اجرا بھی عمل میں ایا ۔جس میں مشتاق احمد ندوی کی کتاب بھارتی سو تنترتا اتیہاس کے دو شور ویر ،سبطین پروانہ کی مجموعہ غزل نقوش فکر اور محمد رضا الباری اظہر کی کتاب کشت سخن کے نام قابل ذکر ہیں ۔پروگرام کے ناظم اور انجمن کے سیکرٹری اعجاز احمد قاسمی نے اس موقع پر کٹیہار میں اردو کی زبوں حالی اور اس کے تدارک پر چر چه کرتے ہوئے سیکرٹری عبدالقیوم انصاری کو بتایا کہ کٹیہار جو اردو آبادی کے معاملے میں بہار میں صف اول ہے یہاں کی مٹی زرخیز ہوتے ہوئے بھی سرکاری سطح پر اردو کی آبیاری کے لیے کوئی مثبت لا ئحہ عمل اختیار نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کٹیہار کے اسکولوں اور مدارس میں اردو کتابوں کی عدم فراہمی سے بچے اردو سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ڈاکٹر انور ایرج نے کہا کہ اردو سے لا تعلقی کے باعث ائندہ کی نسلیں تیار نہیں ہو رہی ہیں ۔ سرکاری سطح پر اردو مترجمین کی تقرری کے بعد بھی انہیں اردو کا ایک درخواست تک موصول نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ حالانکہ سرکاری سطح پر کئی محکموں میں اردو مترجمین اور ملازمین کی تقرری ہونا تھا مگر یہ کس کے لیے ؟ہم بے حس ہو چکے ہیں ۔مقررین میں مشتاق احمد ندوی ،نسیم اختر ندوی ،جاوید خان ، محمد مجیب الرحمن ، محمد مصطفی ، محمد رقیب عالم،جمیل اختر،مفتی عفیف عالم،عماد الاسلام،ماسٹر افتاب عالم،اور قاری جمشید عالم نے بھی اردو کے حوالے سے اپنی بات رکھی ۔مہمان خصوصی انجمن ترقی اردو بہار کے سیکریٹری اور عبدالقیوم انصاری نے انجمن ترقی اردو کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بہار کے وزیراعلی نے نتیش کمار کو اقلیتوں کا مسیحا قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ انجمن کی کاوشوں سے وزیراعلی نتیش کمار نے فروغ اردو کے لیے بے شمار کام کیے ۔انہوں نے اپنے دورے اقتدار میں 609 اور 205 مدارس کو تنخواہ کی ادائیگی کی منظوری دی ۔طالبات کے لیے رہائشی ہاسٹل کا قیام کیا ۔انہوں نے کہا کہ کٹیہار کے مذکورہ تینوں مصنفین کو انجمن ترقی اردو کی جانب سے ائندہ دنوں میں ایوارڈ سے سرفراز کیا جائے گا ۔اس کے علاوہ اور جو بھی مصنفین ہیں انہیں بھی ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔اس موقع پر انجمن کے ذمے داروں نے اپنے مطالبات کی حمایت میں سیکرٹری عبدالقیوم انصاری کو ایک میمورنڈم بھی سونپا۔میمورنڈم میں واضح طور پر مطالبہ کیا گیا کہ جتنے بھی سرکاری دفاتر ہیں ان کا نیم پلیٹ اردو میں لگائے جائیں ۔تمام اداروں اور دکانوں کے سائین بورڈ پر اردو کو فوقیت دی جائے ۔سرکاری دفاتر میں اردو میں درخواستیں دینے کا رواج قائم کیا جائے ۔سرکاری اسکولوں کے علاوہ نجی اسکولوں اور اداروں میں بھی اردو معلم اور اردو نصاب فراہم کیا جائے ۔ضلعے میں اردو سیل کے لیے علیحدہ اردو بھون کا قیام کے علاوہ ملحقہ مدارس کے خالی اسامیوں کو پر کرنا اور ساتھ ہی 1637 مدارس کو گرانٹ دینے جیسے 10 رکنی مطا لبات کیے گئے ۔





















