Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اولاد ایک آخروی ستون*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*اولاد ایک آخروی ستون*

اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اولاد ہمارے لیے آزمائش ہے ، اولاد کو آخروی ستون قرار دینا میری ذاتی رائے نہیں بلکہ اسلامی دلایل اور تعلیمات کا ایک اہم پہلو ہے ، جسکا مطلب ہے کہ اولاد والدین کے لیے دنیا میں سکون اور مرنے کے بعد بھی اجر و ثواب کا ذریعہ بنتی ہے ، سوال یہ ہے کہ اولاد آخروی ستون کیسے ہے ؟ اولاد ایک ایسا سرمایہ ہے کہ جس کی تربیت اگر دین کے مطابق کی جائے تو وہ ہمارے آخرت کے اکاؤنٹ کے لئے ذخیرہ ہے بچہ جب ابھی ماں کے رحم میں ہوتا ہے تب سے اس کی تربیت شروع کرنی ہوتی نیک مائیں نیک اعمال اختیار کرتی ہیں تو اولاد میں ان کے اثرات آتے ہیں پھر بچے کی پیدائش ہو تو اسے کسی نیک انسان سے تحنیک یعنی گھٹی دلوائیں ،پھر اس کا پیارا سا اچھے معنوں والا نام رکھیں ۔
انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اتنے پیارے پیارے نام اور ان کے اتنے پیارے مطلب ہیں۔
ان کی محبت میں ان جیسے نام رکھیں بچوں کو سنت کے مطابق لباس پہنائیں ،سنت اعمال پر زندگی گزارنا سکھائیں دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی دلوائیں ،
سات سال کا ہو جائے تو نماز کا حکم کریں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی اور پکی محبت ان کے دلوں میں پیدا کریں۔
ہر ہر عمل میں نگرانی کریں کہ بچے کیسی صحبت میں رہ رہے ۔
روزانہ احادیث مبارکہ کی تعلیم اپنے گھر میں کرائیں اور خاص طور پر روزانہ ایک بچے کی باری لگائیں ،جس سے خود بخود ان میں نیک اعمال کا شوق پیدا ہوگا اور دین کی دعوت کا جذبہ بھی بنے گا ان شاءاللہ ۔۔۔
جب بچہ بالغ ہو جائے تو اس کے تقاضوں کو سمجھیں ،اسے غیر محرم کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا طریقہ بتائیں ۔
ان میں شرم و حیاء کی آگاہی پیدا کریں ۔
اور پھر ان کے لئے بہترین اور اچھے رشتے کا انتخاب کریں تاکہ وقت پر نکاح ہونے سے بچے ادھر ادھر گمراہ نا ہوں ۔۔۔
والدین جب بچوں کے ساتھ دوستانہ اور احترام والا تعلق رکھتے ہیں تو بچے بھی اپنی ہر بات والدین کے ساتھ شئیر کرتے ہیں ۔
ان کی رائے کا احترام کریں اور باہم مشورے سے معاملات حل کریں تو ان شاءاللہ آپ کو دنیا ہی میں جنت کا سکون حاصل ہوگا۔ والدین کا محبت رؤیہ، تربیت اور دینی تعلیم ایک اولاد کو آخری ستون بناتا ہے ، حدیث نبوی کے مطابق، جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں ، سواے تین چیزوں کے، جن میں سے ایک “نیک تربیت اولاد جو اسکے لئے دعا کریں۔ دراصل والدین کے وفات کے بعد ان کی صالح اولاد کی دعائیں اور ایصال ثواب انکی آخروی درجات کی بلندی کا سبب بنتے ہیں ۔ بل فرض اولاد کو شریعت کے اصولوں کے مطابق پرورش کرنا اور انھیں دین و اخلاق سکھانا والدین کی ذماداری ہے ۔
شریعت مطہرہ کی رو سے والدین پر اولاد کے سلسلہ میں جو حقوق عائد ہوتے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم اور مقدم حق انکی دینی تعلیم و تربیت ہی ہے ۔ حالانکہ اسلام عصری تعلیم کا ہرگز مخالف نہیں ، لیکن دین کی بنیادی تعلیم کا حصول آخروی فلاں و کامیابی کا دارومدار ہے ۔
والدین کے ذمے میں اولاد کی تربیت کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ظاہری تربیت ، باطنی تربیت ۔
ظاہری تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع ، لباس ، کھانے‌ پینے ، نشست و برخواست ، میل جول ، اس کے دوست و احباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا اس‌ کے تعلیم کویت کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش کی نگرانی وغیرہ شامل ہیں ۔ باطنی تربیت سے مراد ان کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ہے ۔ والدین پر اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت کی ذماداری فرض ہے ۔
ظاہری تربیت کی ایک مثال اللہ کے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ہمیں ملتی ہے ۔ ایک دفعہ حضرت عمر بن ابی سلمہ کہتے ہیں کہ میں جب چھوٹا تھا تو رسول اللہ کے ساتھ کھانا تناول کرتے ہوئے میرے ہاتھ برتن میں اِدھر اُدھر چلا جاتا تھا ، رسول اللہ نے مجھے ارشاد فرمایا ، اے لڑکے! اللہ کا نام لو ، اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ ۔ مسلم ۔ باطنی تربیت کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک روز اللہ کے نبی حضرت عبداللہ بن عامر کے گھر تشریف فرماتے میری والدہ نے مجھے پکارا آو! ایک چیز دوںگی ، رسول اللہ نے والدہ سے دریافت کیا ، تم نے اسے کیا دینا چاہا ؟ والدہ نے عرض کیا کہ کجھور دینا چاہتیں تھی اللہ کے نبی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے ارشاد فرمایا ، سنو اگر تم اسے کچھ نہ دیتی تو تمہارے حق میں نامۂ اعمال میں یہ ایک جھوٹ لکھا جاتا ۔ ابوداؤد ۔  اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جو قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ میں ذکر کیا گیا ہے: حضرت یعقوب علیہ السلام جب بسترِ مرگ پر آخری سانسیں گن رہے تھے تو انھیں یہ فکر بار بار ستائے جارہی تھی کہ میری اولاد میرے بعد کس کی عبادت کرے گی؟بالآخر انھوں نے اپنی اولاد کو بلا کر یہ سوال کیا کہ میرے بعد تمہارا معبود کون ہوگا؟ ۔بیٹوں نے اطمینان دلاتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی موجودگی میں جس طرح دین برحق پر قائم رہے اور اپنے آباء واجداد سیدنا ابراہیم ؑ، اسماعیل ؑ اور اسحقؑ کے پرودگار کی عبادت کرتے رہے اسی طرح آپ کے بعد بھی ہم اسی رب العالمین کی بندگی کریں گے جس کی تعلیم وتلقین ہمارے بڑوں نے فرمائی ہے ۔ قرآن میں اس طرح اس کی منظر کشی کی گئی:کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا تھا،جب انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ان سب نے کہا کہ ہم اسی ایک خداکی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود ہے اور آپ کے با پ دادائوں ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق علیہم السلام کا معبود ہے اور ہم صرف اسی کے فرماں بردار ہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے خطاب کرکے فرماتا ہے :اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں اس پر سخت اور طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے انہیں جو حکم دیا جائے وہ کر گزرتے ہیں نار جہنم سے بچنے کی فکر جس طرح خود کو کرنی ہے اسی طرح والدین کی یہ اہم ذمہ داری ہے کے وہ اپنی والاد کی بچپن سے ایسی تربیت کریں کے ان میں دینی شعور پختہ ہو اور بڑے ہوکر وہ زندگی کے جس میدان میں بھی رہیں ایمان وعمل صالح سے ان کا رشتہ نہ صرف قائم بلکہ مضبوط رہے ۔

طارق اطہر حسین
عبدالحمید نگر برن پور، آسنسول
مغربی بنگال
9563691626