*اِسی لیے تو دیا کرتے تھے اُنہیں بوسے*
*مرے حضور کو معلُوم تھا کہ کیا ہیں حسین*
*امامِ حسینؓ کی سیرت انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے: سید مراد رضا رضوی*
*پیغامِ کربلا پر روشنی اور یادگار طرحی مسالمہ*
بارہ بنکی:(ابوشحمہ انصاری) الحاج نصیر انصاری کے نبی گنج واقع مکان پر عالی سید مراد رضا رضوی عظیم آبادی کی باوقار صدارت اور ہذیل احمد ہذیل کی نظامت میں ایک خوبصورت مجلس اور محفل مسالمہ کا انعقاد کیا گیا۔ مہمانان خصوصی کے طور پر محترم شعیب چوھدری سید صغیر امام اور اڑیسا کٹک سے تشریف لائے شاکر وارثی نے شرکت کی۔ مجلس کا اغاز صوفی شاعر ہذیل احمد ہذیل نے تلاوت قران پاک سے کیا گیا ۔ مجلس کو خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا سید مراد رضا رضوی عظیم آبادی نے فرمایا کہ امام اور سیاسی لیڈر میں بہت فرق ہوتا ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنی کرسی بچانے کے لیے قوم کو قربان کر دے، دوسروں کو قربان کر دے، اور امام وہ ہوتا ہے جو اپنی قوم کو بچانے کے لیے دوسروں کو بچانے کے لیے خود کو قربان کر دے۔ ہم اس بات پر جھگڑ رہے ہیں کہ نماز ہاتھ باندھ کر پڑھنا ہے کہ نماز ہاتھ کھول کر پڑھنا ہے۔ جبکہ دشمن ہمارے ہاتھوں کو ہی کاٹ دینا چاہتا ہے۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ اس نے ایسے رہبر بنا لیے ہیں کہ جن کو خود ہی اپنی منزل کا پتہ نہیں ہوتا۔
بعد ازاں مصرع ( دکھا گئے جو رہ حق وہ رہنما ہیں حسین ) پرطرحی مسالمے کا اغاز کیا گیا پسندیدہ اشعار نذر قارئین ہیں۔
حسین وہ ہیں جو فطرت بدلنا جانتے ہیں
ہوا کے رخ پہ جو جلتا ہے وہ دیا ہیں حسین
مولانا سید مراد رضا رضوی عظیم آبادی
اسی لیے تو دیا کرتے تھے انہیں بوسے
مرے حضور کو معلوم تھا کہ کیا ہیں حسین
الحاج نصیر انصاری
خدا ہی جانے حقیقت میں اور کیا ہیں حسین
مری نظر میں تو اسلام کی بنا ہیں حسین
ہذیل احمد ہذیل
یہ مت کہو کہ گئے کیوں وہ کربلا کی طرف
تمہارے پست تصور سے ماورا ہیں حسین
مجیب صدیقی کرنل گنجوی
شفا نہ ملتی ہو جس کو یقین کر لیجے
ہر اک مرض کے لیے دافع بلا ہیں حسین
عظیم مشایخی
قدم قدم پہ ضرورت ہے رہنمائی کی
قدم قدم پہ تمہارے نقوش پا ہیں حسین
عزم گونڈوی
رسول حق کی حدیثوں سے ہو گیا ثابت
خدا سے بندوں کے مابین رابطہ ہیں حسین
اجمل کنتوری
بریدہ سر نے تلاوت جو کی تو کیا ہے عجب
خداے پاک کے جب عشق میں فنا ہیں حسین
مختار فاروقی
کسی کے واسطے کیا ہیں حسین وہ جانے
مرے لیے تو سر حشر اسر ہیں حسین
ماسٹر عرفان بارہ بنکوی
ہوا تباہ جو اس سے نکل گیا باہر
خدا کے دین کا لوگو وہ دائرہ ہیں حسین
شعیب کامل
لکھا ہوا ہے مدینے سے لے کے کوفہ تک
کہ ایک فرد نہیں ایک قافلہ ہیں حسین
مقصود پیامی
کسی نے پوچھا تھا مجھ سے بتا کہ کیا ہیں حسین
تو میں نے کہہ دیا جنت کا راستہ ہیں حسین
طالب اعلی پوری
لباس خلد سے انے میں مصلحت یہ تھی،
تمام اہل جہاں دیکھ لیں کہ کیا ہیں حسین
شمس زکریاوی
زمانہ جان لے پہچان لے خدا کی قسم
نبی کی فہم و فراست کا ائینہ ہیں حسین
عدیل منصوری
فنا یزید زمانے سے ہو گیا لیکن
کبھی نہ ہوگی فنا جس کی وہ بقا ہیں حسین
حیدر مسولوی
کریم ایسے کہ دشمن کو بھی کیا سیراب
رحیم ایسے کہ رحمت کا سلسلہ ہیں حسین
نظر مسولوی
اس کے علاوہ لطیف بارہ بنکوی جاسم کنتوری حافظ محمد یوسف بارہ بنکوی نے بھی اپنے اپنے خوبصورت کلام پیش کیے۔ محفل کے اختتام پر بزم کے صدر الحاج نصیر انصاری نے تمام شعراے کرام و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
اگلے ماہ کی حمدیہ نشست کے لیے جس مصرے کا اعلان کیا گیا وہ درج ذیل ہے۔
ہے ذرے ذرے میں جلوہ گری تری یا رب
قافیہ۔تری
ردیف۔ یا رب










