توشیحی نظم
ش-شان بہار کہتی ہے دنیا نتیش کو
رکھتی حصار دل میں ہے جنتا نتیش کو
ر-رسم وفا نبھانے کا گر جانتے ہیں آپ
سود و ضرر کا نبض بھی پہچانتے ہیں آپ
ی-یہ شخصیت الگ ہے زمانے سے بالیقین
آئی بہار ان کے ہی آنے سے بالیقین
ن-نیتاؤں میں یہ رکھتے ہیں اپنا الگ مقام
خود بولتے نہیں ہیں مگر بولتا ہے کام
ت-تعلیم بجلی روڈ دیا، نوکری دیا
نفرت مٹایا، دور دلی بے بسی کیا
ی-یہ بات سچ ہے آپ سیاست کے ہیں وہ باغ
دامن پہ جن کے آج تک آیا نہ کوئی داغ
ش- شان بہار ،شان وطن ہیں نتیش جی
یعنی امید گنگ و جمن ہیں نتیش جی
ک-کیسا بہار تھا اسے کیسا بنا دیا
جھنڈا مرے بہار کا اونچا اٹھا دیا
م-میٹرو اوور برج بھی لایا بہار میں
انسانیت کا راج چلایا بہار میں
ا-اردو کے واسطے بھی رہے معتبر ہیں آپ
ذی فہم، ذی شعور بھی ہیں باخبر ہیں آپ
ر-رکھتے وہ دل میں ہیں جو محبت کی چاشنی
محسوس کی ہے سب نے حکومت کی چاشنی
ڈاکٹر شمع ناسمین نازاں
پھلواری شریف پٹنہ










