بتاریخ 27 فروری 2025 شعبہ اردو قاضی نذرل یونیورسٹی میں اُردو لٹریری سوسائٹی قاضی نذ ر ل یونیورسٹی کی ادبی تنظیم “جہانِ ادب” کی چوتھی ادبی نشست منعقد کی گئی ۔ اس ادبی نشست میں شعبہ اردو ،قاضی نذ ر ل یونیورسٹی کی استاذ و جہانِ ادب کی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صوفیہ محمود نےاس ادبی نشست کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جہان ادب ترقی کی راہ پر گامزن ہے،ان معنوں میں کہ جہان ادب کی رکن و ریسرچ اسکالر طلعت انجم فخر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیراہتمام منعقد قومی مضمون نویسی مقابلے میں انعام و اکرام سے نوازا گیااور ساتھ ہی نواز پبلیکیشنز اور بزم معراج کلٹی کے زیراہتمام مقابلہ شعری ادب کے تحت طرحی غزل کے مقابلہ میں،قاضی نذرل یونیورسٹی کے طالب علم و جہان ادب کے رکن میثاق الرحمن عظیم کو اول انعام سے نوازا گیا ۔یکے بعد دیگرے انہوں نے انعام یافتگان اراکین کو مبارکباد پیش کیے بعد از جہانِ ادب کے اراکین نے اس ادبی نشست میں اپنی اپنی تخلیقات پیش کیے۔ سب سے پہلے شعبہ اردو قاضی نذرل یونیورسٹی کی استاذ ڈاکٹر صوفیہ محمود درس وتدریس کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ریسرچ اسکالر،طلعت انجم فخر، ریسرچ اسکالر انعام یافتہ مضمون ( بعنوان”عہد حاضر میں مومن کے طرز زندگی قرآن و حدیث کی روشنی میں ” اور ایک نظم بعنوان “حسد” پیش کی ،ڈاکٹر رضا مظہر انصاری استاذ شعبہ اردو قاضی نذرل یونیورسٹی نے ” اردو کی نثری دنیا اور انشائیہ ” پر بہت ہی معلوماتی مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر آثار عالم انصاری، استاذ شعبہ اردو قاضی نذرل یونیورسٹی نے “ہم بے حسی ہو گئے ہیں” کے عنوان سے اپنی تخلیق پیش کی۔ میثاق الرحمان طالب علم میقات اول نے (غزل)، نصیبہ خاتون، ریسرچ اسکالر نے افسانہ (،گھر کی تلاش ) عائشہ پروین سابق طالب علم شعبہ اردو قاضی نذرل یونیورسٹی نے افسانہ “بے وفا اولاد” ، میقات سوم کی طالب علم روشنی پروین نے (غزل )،صدام حسین نے اردو کے ساتھ ہونے والے نا انصافی کے تعلق سے اپنی ایک نظم “ہم” پیش کی ۔ اس ادبی نشست کے دوران تمام اراکین کو پروفیسر شہناز نبی کی ادارت میں شائع ہونے والا ادبی رسالہ “رہروانِ ادب” کافلسطینی ادب نمبر تقسیم کیا گیا – دریں اثناء تمام ممبران نے اپنے اپنے خیالات کو اس نشست میں پیش کیا ۔ بالاآخر اس پروگرام میں شامل شعبہ اردو کے استاذ اور جہان ادب کے صدر ڈاکٹر محمد فاروق اعظم نےاس ادبی نشست کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حاضرین مجلس اور شرکاء کو نیک مشوروں سے نوازا ۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”جہانِ ادب” کا مقصد سستی شہرت و مقبولیت حاصل کرنا نہیں ہے ،صرف چند تقریبات کا انعقاد کر کے ہنگامہ آرائی کرنا نہیں ہے ،زبان و ادب کے فروغ کا دکھاوا کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد طلباء و طالبات کے اندر سنجیدہ مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنا ہے نئی نسل کو مطالعے کی طرف راغب کرنا ہے۔ سابق طلباء و طالبات ،ریسرچ اسکالر اور نئے لکھا ریوں کی ذہنی آبیاری کرنا ان میں اُردو زبان و ادب کے تعلق سے دلچسپی پیدا کرنا نیز زبان و ادب کے فہم و ادراک اور مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا کرنا ہے ۔ اس ادارہ کے زریعہ کسی اہم ادبی موضوع پر سنجیدہ گفتگو کرنا ہے ۔


















