Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*​سردیوں کا موسم*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*​سردیوں کا موسم*

​یہ آسماں کا دھندلکا
یہ ٹھنڈی ہوائیں
اور تیری یادوں کا سماں
ایسا ہے اب کے سردیوں کا موسم
​ سہہ پہر شام کا ڈھل جانا
وہ آسماں میں چاند کا آنا
یہ اوس کی بوندیں
یہ بھیگی ہوئی کلیاں
یہ آنکھوں کی نمی
اور آنسوؤں کو سب سے چھپانا
ایسا ہے اب کہ سردیوں کا موسم
یاد ہے تمھیں ایسے ہی موسم میں
ملے تھے ہم
کھلے تھے گل آباد تھا دل کا چمن
​اب اس باغ میں خزاں بھی نہیں آتی
سو کھےہوئے پھولوں پہ تتلیاں بھی نہیں آتیں
جب پکارو تمھیں تو واپس لوٹ کے
صدا بھی نہیں آتی
​ایسا ہے اب کے سردیوں کا موسم
​اب تو یہ حال ہو گیا ہے تیرے بغیر
لوگ کہنے لگے ہیں کہ کیا یہی تم ہو
کہ اب تنہائی سزا دیتی ہے
دل کی ہر چوٹ یہی صدا دیتی ہے
کہ تیرے بنا ادھورے ہیں ہم

ازقلم : *اسماء جبین فلک*