عالمی یوم مادری زبان ہرسال21فروری کو منایا جاتا ہے۔1999میں UNESCO کے ذریعہ اسے پاس کیا گیا اورسنہ2000سے پوری دنیا میں اس دن کو خصوصی طورپرعالمی یوم مادری زبان کی حیثیت سے منایاجاتا ہے۔
مادری زبان ایک ایسی زبان ہےجو ہم سب ماں کی گود سے ہی سیکھنے لگتے ہیں۔دنیا کے ہر خطے میں رہنے والے لوگ الگ الگ زبانیں بولتے ہیں۔
مادری زبان دراصل انسان کی انفرادی پہچان اور حوصلے کا ذریعہ ہے۔ایک بچے کی مادری زبان اسکے sense کو مضبوط کرنے اورپہچان دینے کا پہلا اور واحد ذریعہ ہے۔اس لۓجس بچے کی مادری زبان میں گرفت مظبوط ہوتی ہے وہ دیگر زبانیں بھی آسانی سے سیکھ جاتے ہیں۔مادری زبان ہمارے تہزیب کی عکاسی کرتی ہے۔یہ ہماری ارتقایٔ ترقی کا سرمایہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں چاہیےکہ ہم اپنی مادری زبان اردومیں گفتگو کریں۔شادی کے کارڈپر اردورسم الخط کا استعمال کریں اپنے مکانوں پر نام کی تختی میں اردو کو شامل کریں۔۔اردو اخبارات اوراردوالیکٹرانیک میڈیا کی ہمت افزایٔ کریں۔اردو کے استادوں کو محفلوں کی زینت بنایں۔سماجی اور سیاسی طور پر اردو کو مظبوط کرنے کیلۓکوشاں رہیں۔۔۔
اردو محبت کی زبان ہے اس کے روغ سے باہمی محبت کا فروغ ہوگا۔
سلیقے سے ہواوں میں جو خشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جواردو بول سکتے ہیں
مظمون نگار۔۔محمد صابر اسمعیل،سیتارام پور ۔ضلع پچھم بردوان
رابتہ۔8436355526








