*غزل* ۔۔۔۔۔۔
صفحئہ جاں پر ہے کوئی اجنبی کا دستخط
موت مجھ سے مانگتی ہے زندگی کا دستخط
میری پلکیں کر رہی ہیں آنسوؤں سے یہ سوال
میرے دل پر کاش ہو جائے خوشی کا دستخط
اے مرے رب مجھ میں اتنا حوصلہ کر دے عطا
زندگی بن جائے حسنِ بندگی کا دستخط
کب یہاں اک دوسرے کے کام آ پائیں گے لوگ
کب تلک دنیا کرے گی بے کسی کا دستخط
جی رہی ہوں میں مگر جینے کی حسرت کیوں کروں
زندگی میری ہے گویا بے بسی کا دستخط
سب تمہارے چاہنے والوں کی چاہت ہے یہی
ناز تم کہلاؤں اک دن شاعری کا دستخط
۔۔۔۔۔ *تبسّم ناز* ،پٹنہ،بہار
Post Views: 95








