آسنسول کے کَلا موڑ میں واقع قاضی نذرل یونیورسٹی میں سوموار کو ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں مغربی بنگال کے وزیر تعلیم براتیہ باسو نے شرکت کی۔ اس موقع پر ریاستی وزیر قانون و محنت ملئے گھٹک، رانی گنج کے رکن اسمبلی تاپس بنرجی، یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اُدے بنرجی سمیت اساتذہ اور دیگر ملازمین موجود تھے۔ وزیر تعلیم کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
اپنے خطاب میں براتیہ باسو نے کہا کہ یہ یونیورسٹی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خوابوں کا ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی شاعر قاضی نذرالاسلام کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا اور جس انداز میں یہاں کے پروفیسرز اور ملازمین ادارہ چلا رہے ہیں وہ قابلِ ستائش ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ قاضی نذرالاسلام سیکولرازم کی جیتی جاگتی مثال تھے اور یہی وجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی انہیں پسند نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ نذرالاسلام نے کالی ماں پر بھی عظیم گیت تحریر کیے تھے اور ان کی شخصیت کا یہی سیکولر پہلو بی جے پی کو ناگوار گزرتا ہے۔ انہوں نے بنکم چندر چٹرجی کی تصنیف “وندے ماترم” کے حوالے سے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری نئی ہدایات کا مقصد بنکم چندر کو عزت دینا نہیں بلکہ رابندرناتھ ٹیگور کو نیچا دکھانا ہے۔ ٹی ایم سی کی جانب سے اس سلسلے میں پریس کانفرنس بھی کی گئی ہے۔ براتیہ باسو نے کہا کہ بنکم چندر چٹرجی اور رابندرناتھ ٹیگور دونوں ہی بنگال کے عظیم سپوت تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ٹیگور نے بنکم چندر کی وفات کے دو سال بعد “وندے ماترم” کو دھن میں ڈھالا تھا۔ ان کے مطابق بی جے پی رابندرناتھ ٹیگور کو پسند نہیں کرتی، اسی لیے وندے ماترم کو لے کر بلاوجہ تنازع کھڑا کیا جا رہا ہے، لیکن ایسا کبھی کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ دونوں ہی شخصیات بنگال کا فخر ہیں۔






