*کیوں اردو سے نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں لوگ؟*
تحریر: *ابوشحمہ انصاری*
سعادت گنج، بارہ بنکی
اردو محض ایک زبان نہیں، تہذیب کی سانس ہے۔ یہ وہ خوشبو ہے جو صدیوں سے ہمارے گھروں، گلیوں، مدرسوں، خانقاہوں اور بازاروں میں رچی بسی رہی ہے۔ اسی زبان میں محبت نے اپنے نرم لہجے پائے، اسی میں دکھ نے وقار کے ساتھ اظہار سیکھا اور اسی میں احتجاج نے شائستگی کے ساتھ اپنی بات رکھی۔ مگر آج ایک کڑوی حقیقت ہمارے سامنے کھڑی ہے: ہم آہستہ آہستہ اردو سے نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ نا آشنائی صرف رسم الخط سے دوری نہیں، اپنے ماضی، اپنی روایت اور اپنی تہذیبی پہچان سے فاصلہ بڑھنے کی علامت ہے۔
ایک زمانہ تھا جب گھروں میں بزرگ بچوں کو کہانیاں اردو میں سنایا کرتے تھے۔ خطوط لکھے جاتے تھے، ڈائریاں رکھی جاتی تھیں اور اخبار صبح کی چائے کے ساتھ پڑھے جاتے تھے۔ زبان کی تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔ آج گھروں میں اسکرینوں کی روشنی زیادہ ہے اور کتابوں کی روشنی مدھم پڑ چکی ہے۔ جب والدین خود اردو پڑھنے لکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کریں، بچوں سے اس زبان میں گفتگو کم ہو جائے، تو نئی نسل کے لیے اردو محض ایک مضمون بن کر رہ جاتی ہے۔جسے امتحان کے بعد ذہن سے نکال دیا جاتا ہے۔ زبان کا ذوق وہیں جنم لیتا ہے جہاں گھر میں اس کی قدر ہو۔
تعلیمی نظام نے بھی اردو کو ثانوی حیثیت دے دی ہے۔ بہت سے اسکولوں میں اردو بطور اختیاری مضمون ہے، کہیں اساتذہ کی کمی ہے تو کہیں نصاب بے جان اور غیر دلکش۔ بچوں کو زبان کے جمال سے آشنا کرانے کے بجائے انہیں قواعد کے خشک اسباق میں الجھا دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ زبان کی مٹھاس محسوس ہونے سے پہلے ہی دل اُچاٹ ہو جاتا ہے۔ زبان صرف پڑھائی نہیں جاتی، جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ جب استاد خود زبان سے محبت نہ کرے تو شاگرد کے دل میں شوق کیسے جنم لے؟
سماجی سطح پر اردو کی جگہ بھی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ سرکاری دفتروں میں اردو کی موجودگی اکثر رسمی دکھائی دیتی ہے۔ فارم، نوٹس اور اعلانات ایسی زبان میں ہوتے ہیں جو عام آدمی کے دل سے دور ہے۔ جب ریاستی سطح پر کسی زبان کو عملی سہارا نہ ملے تو اس کے بولنے والے خود کو کم تر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ زبان کے ساتھ وقار جڑا ہوتا ہے؛ وقار کم ہو تو اپنائیت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اردو کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کہ اسے رسمًا مانا گیا، عملًا نہیں اپنایا گیا۔
میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے ذوق کو تیزی سے بدلا ہے۔ مختصر ویڈیوز اور فوری ردِّعمل کے اس دور میں ٹھہراؤ والی تحریر کے لیے صبر کم رہ گیا ہے۔ اردو کے خوبصورت جملے اسکرین پر کم نظر آتے ہیں اور رومن میں لکھی ہوئی اردو زبان کی روح کو مجروح کرتی ہے۔ رسم الخط کے بغیر زبان کا جمال ادھورا رہتا ہے۔ جب حروف بکھر جائیں تو معنی کی حرارت بھی کم ہو جاتی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم اردو کے لیے موقع بھی ہیں اور امتحان بھی موقع اس لیے کہ رسائی بڑھ سکتی ہے، امتحان اس لیے کہ معیار کو قائم رکھنا آسان نہیں۔
بازار کی منطق نے زبان کے انتخاب کو بھی متاثر کیا ہے۔ نوجوانوں کو بتایا جاتا ہے کہ فلاں زبان سیکھو تو نوکری کے مواقع بڑھیں گے، اردو سے کیا فائدہ؟ یہ سوچ زبان کو صرف معاشی فائدے کے ترازو میں تولتی ہے۔ زبانیں صرف روزگار کا وسیلہ نہیں ہوتیں، شناخت کا سہارا ہوتی ہیں۔ اردو نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا ہنر سکھایا ہے۔ اس کے محاورے میں زندگی کی گرمی ہے، اس کی شاعری میں دلوں کو جوڑنے کی قوت۔ جب ہم اردو کو بے فائدہ کہہ کر نظرانداز کرتے ہیں تو دراصل اپنی تہذیبی دولت کو سستا سمجھ لیتے ہیں۔
ادبی محفلیں، مشاعرے اور کتاب میلے کبھی زبان کی نبض ہوا کرتے تھے۔ اب یہ سرگرمیاں کم ہو رہی ہیں اور جہاں ہوتی بھی ہیں وہاں نئی نسل کی شرکت محدود دکھائی دیتی ہے۔ بزرگوں کے درمیان قید ہو جانے والی روایتیں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں۔ زبان کو زندہ رکھنے کے لیے اسے نوجوانوں کے ہاتھ میں دینا ہوگا۔ان کے موضوعات، ان کے سوالات اور ان کے اسلوب کے ساتھ۔ اردو کو جدید احساس سے جوڑنا ضروری ہے؛ ورنہ وہ عجائب گھر کی چیز بن کر رہ جائے گی۔دیکھنے کی، جینے کی نہیں۔
اردو صحافت بھی ایک کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔ اخبارات کے وسائل محدود ہیں، قاری کی توجہ بکھری ہوئی ہے، اور اشتہارات کی منطق زبان کے وقار پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ جب معیار پر سمجھوتہ ہوتا ہے تو قاری کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اردو صحافت نے معاشرے کو آئینہ دکھانے کی روایت قائم رکھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو اس روایت سے جوڑا جائے، انہیں بتایا جائے کہ اردو صحافت صرف خبر نہیں، سماج کی نبض ہے۔
نجی اسکولوں میں اردو کی جگہ تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ والدین بھی بچوں کے بہتر مستقبل کے نام پر اردو کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہ سوچ وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر طویل مدت میں شناخت کے بحران کو جنم دیتی ہے۔ زبان سے کٹ کر انسان جڑوں سے کٹ جاتا ہے۔ جڑیں کمزور ہوں تو شخصیت بھی ڈگمگا جاتی ہے۔ اردو کو نصاب میں باوقار جگہ دینا صرف تعلیمی فیصلہ نہیں، تہذیبی سرمایہ کاری ہے۔
حل ہماری دہلیز سے شروع ہوتا ہے۔ گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کیجیے، سادہ کہانیاں سنائیے، سونے سے پہلے دو صفحے پڑھنے کی عادت ڈالیے۔ اسکولوں میں تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے اردو کو زندہ کیجیے،مکالمے کرائیے، ڈرامے کرائیے، بچوں کو اپنی بات اردو میں کہنے کا حوصلہ دیجیے۔ اساتذہ کی تربیت کیجیے تاکہ وہ زبان کے حسن کو محسوس کروا سکیں۔ میڈیا پر معیاری اردو مواد بڑھایا جائے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر رسم الخط کے ساتھ دلکش پیشکش ہو۔
ریاستی سطح پر اردو کی عملی موجودگی بڑھانی ہوگی۔ دفاتر میں اردو کا استعمال محض کاغذی وعدہ نہ رہے بلکہ روزمرہ کے کام میں نظر آئے۔ لائبریریوں کی بحالی، کتابوں کی اشاعت اور ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی زبان کو سانس دیتی ہے۔ پالیسیاں تب مؤثر ہوتی ہیں جب ان کے پیچھے نیت ہو، اور نیت کا ثبوت عمل سے ملتا ہے۔
اردو سے نا آشنائی کا یہ سفر اگر یونہی چلتا رہا تو ایک دن ہم اپنی ہی زبان میں اپنے دکھ سکھ کہنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ زبان کے مرنے سے صرف الفاظ نہیں مرتے، یادیں مرتی ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں، تہذیب بکھرتی ہے۔ اردو ہمیں جوڑتی ہے۔دل سے دل، روایت سے جدیدیت تک۔ اسے بچانا کسی ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں، یہ ہم سب کی مشترکہ امانت ہے۔ اردو کو کتابوں سے نکال کر زندگی میں واپس لانا ہوگا۔ جب ہم اردو میں سوچیں گے، اردو میں محسوس کریں گے اور اردو میں بات کریں گے تو زبان خود بخود زندہ ہو جائے گی۔ زبانیں تب مرتی ہیں جب لوگ انہیں چھوڑ دیتے ہیں، اور زبانیں تب جیتی ہیں جب لوگ انہیں جینے دیتے ہیں۔
مضمون نگار، آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ہیں۔










