مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے زیر اہتمام آسنسول کے رابندر بھون میں پیر کی دیر شام ” مغل اعظم ۔ایک تمثیل” ڈرامہ بڑی کامیابی کے ساتھ پیش کیا گیا۔دہلی کے معروف ڈرامہ نگار ڈاکٹر محمد سعید عالم اور گروپ کے ذریعہ پیش کئے جانے والے اس ڈرامے میں مغل شہنشاہ اکبر کا اولاد نرینہ کےلئے بزرگ کے پاس پہنچ کر دعائیں مانگنے،پھر اس کی پیدائش سے لے کر اس کے جوان ہونے اور نادرہ یعنی انارکلی سے ملاقات اور اس کے عشق میں مبتلا ہو کر شہنشاہ کے خلاف الم بغاوت بلند کرنے اوراپنی محبت کی حصولیابی کےلئےطاقتور اور عظیم بادشاہ سے جنگ لڑنے تک ، اکبر کے ذریعہ انارکلی کو زندہ دیوار میں چنوانے کے فرمان اور پھر انارکلی کی ماں کو دئیے گئے وعدہ کونبھاتے ہوئے انارکلی کی سزا معاف کر بہت خاموشی کے ساتھ سرنگ کے راستے دوسرے ملک نکل جانے کے ایک ایک منظر کواس خوبصورت طریقے سے پیش کیا گیا کہ سامعین داد وتحسین دئیے اور تالیاں بجائے بغیر نہ رہ سکے۔اکبر اعظم کا جاہ وجلال، پدرانہ شفقت،جودھابائی کی ممتا،انارکلی کی معصومیت اورمحبت پر قربان ہونے کی ادا، درجن کا وعدہ وفا، سنگ تراش کی فنکاری، راجہ مان سنگھ کی صحیح رہنمائی اور وقفے وقفے سےفلم مغل اعظم کےسدابہار گانوں پر رقاصہ کا شاندار رقص نے سبھوں کے دل موہ لئے۔تقریبا دو گھنٹے کے اس ڈرامے کے دوران اسٹیج کاماحول،کرداروں کے لباس اور خالص اردو اور ہندی زبان میں ڈرامہ کے کرداروں کی زبانی مغل اعظم کےیادگار اور مشہور ڈائلاگ کے درمیان سامعین خود کو مغلیہ دور میں محسوس کررہے تھے اور خوب لطف اندوز بھی ہوتے رہے۔واضح ہوکہ ڈرامہ کا وقت شام چار بجے رکھا گیا تھا مگر ڈرامہ آرٹسٹوں کی ٹرین بہت زیادہ لیٹ ہونے کی وجہ کر وقت بڑھاکر شام سات بجے کردیا گیا تھا ۔سبھوں تک بروقت اطلاع نہیں پہنچنے کی وجہ کر ناظرین کی تعداد میں کچھ کمی ضرور آئی مگر پھر بھی ان کی تعداد خاطر خواہ رہی۔ڈرامہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید نے ٹرین کی تاخیر پر معذرت چاہتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا کہ اگر اکاڈمی اور آسنسول کے زمہ داران چاہیں تو آئندہ اسی ڈرامہ کو بلا معاوضہ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔پروگرام کے اختتام پر اکاڈمی کی رکن کہکشاں ریاض خوشی نے تمام ڈرامہ آرٹسٹوں کو شال پیش کیااور ان سبھوں کے ساتھ آسنسول ،برنپور،کلٹی،رانی گنج ودیگر علاقوں سے آئے ہوئے ناظرین کا شکریہ ادا کیا۔














