Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اردو ہماری تہذیب کی زبان،اسے نسلِ نو تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے: ڈاکٹر عمار رضوی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*اردو ہماری تہذیب کی زبان،اسے نسلِ نو تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے: ڈاکٹر عمار رضوی*

*شعبۂ اُردو لکھنؤ یونیورسٹی میں تقریب، ’’عابد حسین حیدری کے تحقیقی و تنقیدی مباحث‘‘ کا اجراء*

لکھنؤ (ابوشحمہ انصاری) شعبۂ اُردو لکھنؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر مسعود حسن رضوی ادیب سیمینار ہال میں اردو کے معروف محقق و ادیب پروفیسر عابد حسین حیدری پر لکھی گئی پروفیسر عباس رضا نیر کی کتاب ’’عابد حسین حیدری کے تحقیقی و تنقیدی مباحث‘‘ کی شاندار اور پُروقار رسمِ اجراء منعقد ہوئی۔ تقریب علمی سنجیدگی، تہذیبی وقار اور ادبی فضا میں انجام پائی۔
تقریب کی صدارت لکھنؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر منوکا کھنّہ نے کی، جبکہ سابق کارگزار وزیرِ اعلیٰ اترپردیش اور آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر ڈاکٹر عمار رضوی بطورِ خصوصی مہمان شریک ہوئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر بھاؤنا مشرا، رجسٹرار ڈاکٹر اروند موہن، ڈین فیکلٹی آف آرٹس کے ساتھ متعدد پروفیسرز، ادبی شخصیات، دانشوران، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات بڑی تعداد میں موجود رہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ اردو صرف زبان نہیں بلکہ تہذیبی ورثہ، فکری روایت اور ہماری مشترکہ شناخت کی روشن علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ہماری تہذیب کی زبان ہے، اسے نسلِ نو تک پہنچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے علمی شخصیات پر تحقیقی کتابوں کی اشاعت کو نئی نسل کے لیے رہنمائی کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے لکھنؤ یونیورسٹی کی خدمات کی تعریف کی۔ ڈاکٹر رضوی نے وائس چانسلر پروفیسر منوکا کھنّہ کی علمی سرپرستی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں یادگاری نشان اور شال پیش کی۔
کتاب کے مصنف اور شعبۂ اردو کے سربراہ پروفیسر عباس رضا نیر نے مہمانانِ گرامی کا پرتپاک استقبال کیا اور کتاب کے تحقیقی پس منظر، موضوع اور پروفیسر عابد حسین حیدری کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ وائس چانسلر پروفیسر منوکا کھنّہ نے اپنے خطاب میں اس تقریب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ یونیورسٹی ہمیشہ زبان و ادب کی ترویج اور علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سرگرم رہی ہے اور آئندہ بھی ایسے تعلیمی و ادبی پروگراموں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی رہے گی۔
تقریب کے دوران معزز مقررین ڈاکٹر وضاحت حسین رضوی، ڈاکٹر منتظر قائمی، ڈاکٹر باقر مہدی، ڈاکٹر مسیح الدین خاں اور دیگر اہلِ علم نے کتاب، اس کی علمی اہمیت اور مصنف کی تحقیقی کاوشوں پر اظہارِ خیال کیا، جب کہ ڈاکٹر مخمور کاکوروی، ڈاکٹر سلمیٰ حجاب، عاصم کاکوروی اور رستم اقبال الہ آبادی نے منظوم تاثرات پیش کیے۔


اس موقع پر کیف فاؤنڈیشن لکھنؤ کی جانب سے پروفیسر عابد حسین حیدری کو کیف جلال پوری ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا۔ شعبۂ اردو کی طالبہ ھلہ عطا اور انجمن فروغِ مرثیہ خوانی کی جانب سے قاضی اسد نے سپاس نامہ پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت غلام عباس ہلوری نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی، جب کہ ڈاکٹر جانثار عالم نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب علمی وقار اور نیک تمناؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
یہ اطلاع آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔