آج بنگالی ادب کے معروف شاعر، فلسفی اور نوبل انعام یافتہ کوی گرو رابندرناتھ ٹیگور کی 164ویں سالگرہ پورے احترام اور عقیدت کے ساتھ منائی گئی۔ شاعرِ فطرت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے آسنسول کے جنوبی اسمبلی حلقہ کے برن پور بس اسٹینڈ سے ایک پُروقار شوبھا یاترا (جلوس) کا انعقاد کیا گیا۔
جلوس کی قیادت رانی گنج کے ایم ایل اے تاپش بنرجی کے علاوہ مقامی ادبی، سماجی و ثقافتی تنظیموں نے کی۔ بچے، نوجوان، خواتین و بزرگ اور اسکولی طالبعلموں نے اس میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ جلوس میں رابندر سنگیت کی گونج، روایتی لباس میں ملبوس افراد، اور ٹیگور کے اقتباسات سے مزین بینرز نے سماں باندھ دیا۔


اس موقع پر شاعر کے معروف گیت “آگنیر پرش مونی چھواؤ پرانے، اے جیون پُنّو کرو، دہن دانے” کو یاد کرتے ہوئے شرکاء نے ان کی فکری روشنی کو اپنے دلوں میں بسایا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ ٹیگور صرف ایک شاعر نہیں، بلکہ ایک تحریک ہیں—انسانیت، جمالیات، اور علم کا وہ مینار، جس سے نسلیں روشنی پاتی رہیں گی۔
آخر میں شاعرِ کو ان کے یومِ پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔









