Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*”بزمِ ایوانِ غزل” کے زیرِ اہتمام عظیم الشان ماہانہ طرحی مشاعرہ منعقد*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*“بزمِ ایوانِ غزل” کے زیرِ اہتمام عظیم الشان ماہانہ طرحی مشاعرہ منعقد*

بارہ بنکی، (ابوشحمہ انصاری)سعادت گنج کی بہت ہی فعال ادبی تنظیم  “بزمِ ایوانِ غزل”  کے زیرِ اہتمام آئیڈیل انٹر کالج محمد پور باہوں کے وسیع حال میں ایک عظیم الشان ماہانہ طرحی مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت پینتے پور سے تشریف لائے مہمان شاعر مولانا اطہر بارہ بنکوی نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے معراج بارہ بنکوی، مہمانِ اعزازی کے طور پر انجم احمد پوری اور مہمانِ ذی وقار کا خطاب لیتے ہوئے نادم پینتے پوری شریک ہوئے، طنز و مزاح کے البیلے شاعر بیڈھب بارہ بنکوی کی نظامت میں ہونے والے اس بہت ہی حسین مشاعرے کا آغاز مشتاق بزمی نے نعتِ رسولﷺ سے کیا اور ساری فضا کو روحانی بنا دیا اس کے بعد دئے گئے مصرع طرح
“کوئی ساتھی نہ ملا کوچۂ رسوائی تک”
پر باقاعدہ طور پر مشاعرے کا آغاز ہوا مشاعرہ بہت ہی کامیاب رہا بہت زیادہ داد و تحسین پانے والے اشعار کا انتخاب نذرِ قارئین ہے ملاحظہ فرمائیں۔
ایک امید ہی تنہا مری ہمدم ٹھہری
ساتھ چھوڑا نہیں جس نے شبِ تنہائی تک
مولانا سلمان اطہر بارہ بنکوی
جو گویئے ہیں وہ کرتے ہیں جہازوں کا سفر
جو ہیں فنکار وہ ہیں حوصلہ افزائی تک
بیڈھب بارہ بنکوی
کس قدر تیز ہے عورت کے تخیل کا سفر
اک ملاقات میں ہوتا ہے شناسائی تک
ذکی طارق بارہ بنکوی
تیری یادیں لیے پھرتا ہوں میں صحرا صحرا
لوگ کہتے ہیں تبھی تو مجھے صحرائی تک
نادم پینتے پوری
لوگ جب اس کی خدائی پہ بحث کرتے ہیں
چھین لیتا ہے وہ داناؤں سے دانائی تک
معراج بارہ بنکوی
اس کی رحمت کو پکاروں تو پکاروں کیسے
ایسا مجرم ہوں گنہگار ہے پرچھائی تک
عاصی چوکھنڈوی
میں تخیل میں جہاں چاہوں چلا جاتا ہوں
قید رہتا نہیں افلاک کی اونچائی تک
ڈاکٹر بشر مسولوی
تجھ کو معلوم بھی ہے چھوڑ کے جانے والے
تجھ سے آباد ہے میری شبِ تنہائی تک
شوق سہالوی
کارِ نمرود نہ کر وقت کا فرعون نہ بن
خاک میں مل گئی قارون کی خودآرائی تک
سلیم اختر پینتے پوری
اس سے کہہ دو کہ وہ اب میرا تعاقب نہ کرے
وہ کبھی چھو نہیں سکتا مری پرچھائی تک
انجم احمد پوری
گھر میں بیٹھی ہے مری لاڈلی غربت کے سبب
اب تلک بج نہ سکی دوستو شہنائی تک
اسلم سیدن پوری
صرف مایوسی ہی مایوسی نظر آتی ہے
تنگئی دست سے بازار کی مہنگائی تک
کلیم طارق سیدن پوری
ساتھ اپنوں نے جو چھوڑا ہے تو حیرت کیسی
سر پہ سورج ہو تو گھٹ جاتی ہے پرچھائی تک
دانش رام پوری
ذہن میں بھول کر  آئے نہ خودآرائی تک
ورنہ کھا جائے گا یہ زعم سب اچھائی تک
راشد ظہور سیدن پوری
غوطہ خوری کا ذرا شوق مجھے لگنے دے
پھر میں آؤں گا سمندر تری گہرائی تک
اثر سیدن پوری
اے مری فکرِ غزل میں ترے صدقے جاؤں
ساتھ چھوڑا نہیں تو نے مرا تنہائی تک
نفیس احمد پوری
صرف اس کے ہی لیے میں بھی نہ جی پاؤں گا
کوئی پہنچا دے خبر یہ مرے ہرجائی تک
مشتاق بزمی
آؤ نزدیک سے میں تم کو دکھا دیتا ہوں
یہ مرا گھر ہے کہ جس میں نہیں انگنائی تک
شفیق رام پوری
بیٹیاں بیٹھی ہیں بن بیاہی گھروں میں جن کے
درد دیتی ہے انہیں شادی کی شہنائی تک
نظر مسولوی
سب نے چاہا کہ تماشہ ہو مری ہستی کا
شور ہی شور رہا درد کی شہنائی تک
اقبال خوشتر  بانسوی
میرے اعمال نے پیچھا نہیں چھوڑا میرا
یہ گئے ساتھ مرے قبر کی تنہائی تک
نازش بارہ بنکوی
تہ بہ تہ ایک سمندر ہے سمجھیے سلمان
کوئی پہنچا ہی نہیں علم کی گہرائی تک
ڈاکٹر سلمان یونس
روک لیتی ہیں سمندر کی یہ لہریں ہم کو
سوچتے ہم بھی ہیں جائیں کبھی گہرائی تک
نعیم سکندر آبادی
جھوٹ تک کوئی رہا اور کوئی سچائی تک
کوئی ساتھی نہ ملا کوچۂ رسوائی تک
قمر سکندر آبادی
میں اکیلا ہی چلا اور اکیلا ہی رہا
کوئی ساتھی نہ ملا کوچۂ رسوائی تک
ظہیر سیدن پوری
ہمسفر سب مرے شہرت کی بلندی تک تھے
کوئی ساتھی نہ ملا کوچۂ رسوائی تک
سحر ایوبی
حاسدو جشن مناؤ مرے در پر آکر
عشق لے آیا مجھے کوچۂ رسوائی تک
عاصم اقدس رامپوری
شمس سے آنکھ ملانے کی تو کوشش مت کر
چھین لے گا وہ تری آنکھ کی بینائی تک
جان وارث صہبا
مفلسی میں نہیں ہوتا ہے سگا بھائی تک
رو دئیے دیکھ کے منظر یہ تماشائی تک
ابوذر انصاری
ان شعراء کے علاوہ قیوم بہٹوی اور اسرار حیات نے بھی اپنا اپنا طرحی کلام پیش کیا اور شعراء و سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی سامعین میں ماسٹر محمد وسیم انصاری، ماسٹر محمد قسیم انصاری، ماسٹر محمد حلیم انصاری، ماسٹر محمد راشد انصاری کے نام بھی قابلِ ذکر ہیں، “بزمِ ایوانِ غزل” کا آئندہ ماہ ماہانہ طرحی مشاعرہ 25/ مارچ بروز اتوار مندرجہ ذیل مصرع طرح پر آئیڈیل انٹر کالج میں ہی ہوگا۔
“سفر کو بانٹ لیتے ہم تھکن تقسیم کر لیتے”
قافیہ: تقسیم
ردیف: کرلیتے
اس اعلان کے ساتھ ہی بزم کے صدر ذکی طارق بارہ بنکوی نے مشاعرے میں دور دراز اور اطراف و جوانب سے آکر شرکت کرنے والے سبھی شعراء اور سامعین کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشاعرے کا آئندہ ماہ تک کے لئے اختتام کا اعلان کیا ۔