*جہالت کا رقص اور علم کی پسپائی: کیا بھارت سائنسی ترقی کی راہ سے بھٹک رہا ہے؟*
*چاند تک رسائی اور زمین پر علم کی پسپائی*
ازقلم: اسماء جبین فلک
ہر ترقی یافتہ قوم کی بنیاد تعلیم، صحت اور سائنسی تحقیق پر قائم ہوتی ہے۔ بھارت، جو قدیم زمانے میں طب اور جراحت کا گہوارہ رہا، آج انہی شعبوں میں سیاسی اور نظریاتی کشمکش کا شکار ہے۔ جموں کے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی حالیہ بندش اور آیوش وزارت کے گائے کے گوبر و پیشاب پر تحقیقاتی پروگرام میں سامنے آنے والی بے ضابطگیاں اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔ قومی میڈیکل کونسل کی جون 2024 کی نوٹیفیکیشن اور سرکاری آڈٹ رپورٹ 2024 کے مطابق، یہ واقعات نہ صرف قومی وسائل کا ضیاع کر رہے ہیں بلکہ سائنسی سوچ کو بنیادی سطح پر کمزور بھی کر رہے ہیں۔ عالمی یونیورسٹی درجہ بندی 2025 میں بھارت کی 54 فیصد یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں کمی آئی ہے، جبکہ عالمی اختراعی اشاریہ 2024 میں ملک 39ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا نظام کی گہری اور ساختی خرابیوں کی نشاندہی کر رہا ہے؟ آئیے حقائق کی روشنی میں اس جہالت کے رقص اور علم کی پسپائی کو سمجھیں، جو ایک ایسے ملک کی کہانی سناتا ہے جہاں خواب دیکھنے والے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے۔
جموں و کشمیر کا ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج ایک ایسا ہی تکلیف دہ باب ہے، جس کی بنیاد 2020 میں وزیراعظم نریندر مودی نے خود رکھی تھی۔ اس برس قومی میڈیکل کونسل نے اسے بند قرار دے دیا، سرکاری جواز ناکافی عمارتوں اور اساتذہ کی کمی کا بتایا گیا۔ اس پہلے گروہ کے 50 طلبہ میں سے 44 نے میڈیکل داخلہ امتحان میں خالص استحقاق کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی تھی، وہ امتحان جس میں ہر سال 22 لاکھ سے زائد نوجوان حصہ لیتے ہیں، اور ہر کامیابی خاندانوں کی برسوں کی بچت اور محنت کا پھل ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ ان 44 طلبہ کا تعلق مسلمان برادری سے تھا، جس پر کچھ سیاسی حلقوں نے شدید تنقید کی اور کالج کی بندش کو خوش آمدید کہا۔ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی مفاد عامہ کی عرضی نمبر 123 برائے 2024 میں طلبہ نے عدالت سے رجوع کیا، الزام لگایا کہ مذہبی توازن کی خاطر یہ فیصلہ ہوا، اور عدالت نے کونسل سے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔ یہ الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے؛ وزارت صحت کی 2023-24 سالانہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک کے 11 اعلیٰ میڈیکل اداروں میں 40 فیصد اساتذہ کی جگہیں خالی پڑی ہیں۔ مدھیہ پردیش جیسے بڑے صوبے کے 19 میڈیکل کالجوں میں سے صرف 7 ایسے ہیں جہاں تمام پروفیسرز مکمل طور پر دستیاب ہوں۔ حکومت کا موقف ہے کہ کالج کا ڈھانچہ عالمی ادارہ صحت کے معیار پر پورا نہیں اترتا، مگر ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا سیاسی مفادات نے بنیادی ڈھانچے کو محض بہانہ بنا دیا؟ ایک معتبر خبر رساں ویب سائٹ کی جولائی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، حزب مخالف سے وابستہ رہنماؤں نے اسے قومی فتح قرار دے کر سڑکوں پر جشن منایا۔ عالمی تناظر میں دیکھیں تو امریکہ کے قومی صحت ادارے کا 2024 کا میزانیہ 47 بلین ڈالر ہے جو خالص سائنسی تحقیق پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ بھارت کا سائنس اور ٹیکنالوجی کا میزانیہ اس سے کہیں کم ہے اور زیادہ تر تعلیمی اخراجات پر صرف ہو جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں ایک معالج کے سامنے 1456 مریضوں کا بوجھ ہے، ایسی صورتحال میں یہ بندش بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے، جہاں ہزاروں نوجوانوں کے خواب چکناچور ہو رہے ہیں۔
یہ کہانی ادھوری رہ جائے گی اگر ہم آیوش وزارت کے مرکزی آیورویدک تحقیقاتی کونسل کے اس پروگرام کو نظر انداز کر دیں، جس نے سرطان جیسے مہلک امراض کے متبادل علاج کے نام پر گائے کے گوبر، پیشاب اور دیگر اجزاء پر 2021 سے 2023 تک 3 کروڑ 25 لاکھ روپے خرچ کیے۔ سرکاری آڈٹ رپورٹ 2024 نے چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ تقریباً 2 کروڑ روپے مٹی کے برتنوں کی خریداری، گوبر اور پیشاب پر، اور فضائی سفر کے واؤچرز پر اڑا دیے گئے، جبکہ کوئی قابل ذکر تحقیقاتی مقالہ یا نتیجہ شائع نہ ہو سکا۔ حکومت کا دفاع ہے کہ یہ روایتی بھارتی علم کی بحالی کا حصہ ہے، مگر ناقدین اسے وسائل کے ضیاع کا ثبوت قرار دیتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ بھارتی سائنسدان وینکٹ رام کرشنان نے 2023 کے ایک انٹرویو میں اسے غیر سائنسی قرار دیا۔ دنیا بھر میں سرطان کا علاج جینیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہو رہا ہے، جیسا کہ مشہور سائنسی جریدے فطرت کی 2024 کی رپورٹ میں بیان کیا گیا، جبکہ بھارت مجموعی قومی پیداوار کا محض 0.7 فیصد تحقیق پر خرچ کر رہا ہے، چین کا یہ تناسب 2.4 فیصد ہے، جیسا کہ یونیسکو کی 2023 رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف سرمایہ ضائع کر رہے ہیں بلکہ عوام کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ توہمات کو سائنس کی آڑ میں فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ان واقعات کے وسیع اثرات دیکھیں تو صورتحال اور بھی تشویشناک لگتی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں سائنسی مزاج کو فروغ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر عملی میدان میں قبائلی اور پسماندہ طبقات کے لیے مختص حصوں، 27 فیصد دیگر پسماندہ طبقات اور 15 فیصد درج فہرست ذاتوں کا، اور مذہبی دباؤ غالب آ رہے ہیں۔ سنگھو کمیٹی کی 2010 کی رپورٹ نے ایک متوازن نظام تجویز کیا تھا جس میں استحقاق کو ترجیح دی جائے، مگر اس پر عمل درآمد ناکام رہا۔ ورلڈ بینک کی 2024 رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت کی 50 فیصد نوجوان آبادی اعلیٰ تعلیم سے محروم ہے، جو ملک کے آبادیاتی فائدے کو برباد کر رہی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی 2025 درجہ بندی میں 30 فیصد بھارتی یونیورسٹیاں درجہ بندی میں نیچے آ گئیں۔ یہ نفرت اور سیاست کی آگ نہ صرف مخالفین کے گھروں تک محدود نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام اور مستقبل کو بھسم کر رہی ہے۔ اگر آج معالجین کی کمی برداشت کر لی تو کل صحت کا پورا ڈھانچہ درہم برہم ہو جائے گا، اور وہ معاشرہ جو مندر اور مساجد سے بھرا ہوگا وہاں کوئی قابل طبیب نہ ملے گا۔
اصلاح کی راہ ہموار ہے اور ممکن بھی ہے۔ سب سے پہلے، میڈیکل کونسل کو شفاف اور خالص استحقاق پر مبنی ضابطے نافذ کرنے چاہییں۔ دوسرا، تحقیقاتی میزانیے کو 5 بلین ڈالر تک بڑھایا جائے اور غیر سائنسی پروگراموں کا خاتمہ کیا جائے۔ تیسرا، عدالتیں اور آزاد آڈٹنگ اس کی مستقل نگرانی کریں۔ بھارت نے چاند پر مہم بھیج کر اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، اب وہی جوش تعلیم اور سائنس کے لیے لگائیں۔ ورنہ، جب دنیا کی دیگر قومیں آگے بڑھ رہی ہوں گی، ہم پیچھے رہ جائیں گے اور تاریخ ہمیں ایک ایسے دور کے طور پر یاد رکھے گی جہاں انسان چاند تک پہنچ چکا تھا اور ہم زمین پر جہالت کے رقص میں مگن تھے۔ وقت عمل کا ہے، نعروں کا نہیں۔






