*خانقاہ شاہ عبدالرحمنؒ چشتی، تیرگاؤں میں سالانہ دوروزہ عرس*
*پہلے دن غسل و صوفیانہ مشاعرہ اور دوسرے دن قل، چادرپوشی، گلپوشی ومحفل سماع*
بارہ بنکی ۔ (ابوشحمہ انصاری)بارہ بنکی کے قصبہ تیر گاوں میں حسب روایت امسال بھی سید شاہ عبدالرحمنؒ صابری چشتی عباسی العلوی کے سالانہ 357ویں دوروزہ عرس کے موقع پرسجادہ نشین صوفی سید اظہار علی کی صدارت میں پہلے دن شاندار صوفیانہ مشاعرہ ہوا اور دوسرے دن قل ،چادر پوشی ،گلپوشی ،ومحفل سماع کا انعقاد ہوا۔
مشاعرہ کاآغاز قاری نعمان مدرس مدرسہ عالیہ فرقانیہ کی تلاوت کلام پاک اور شکیل گیاوی کی نعت پاک سے ہوا۔رحمانی مسیحا فاونڈیشن کے زیراہتمام سید مظہرعلی عباس کی کنوینر شپ میں منعقد ہونے والے مشاعرہ کے مہمان خصوصی فاروق جائسی،سیدفاروق میاںچشتی ،ڈاکٹرسید آصف علی (خانقاہ رحیمہ)،جنیدحیدر علوی خانوادۂ کاظمیہ کاکوری اورڈاکٹر سنجے مصرا شوق تھے۔ خانوادہ عالیہ کے شرکاء میںجان نشین صوفی سید اظہار علی سید بدر علی کے علاوہ سیدعشرت علی عرف شبو، سید غیاث علی،سید سفیان علی،سیدالیاس علی، سید ریحان علی، سید ایاز علی،اشفاق علی عرف چندا، سیدمسلم حسن نیز عاقب علی رحمانی،منگل مستری، راجندرشکلا،شہاب عالم خاں، پردیپ گنگوار، ڈپٹی منیجر ایچ ڈی ایف سی،فیض خاںایچ ڈی ایف سی، شہاب الدین قدوائی،ایڈوکیٹ، عرفان بھائی،اظہاراحمداباکیف، مبشرادریس،محمدشاذ ، عارف علی،مرزا ثمر عباس بن مرزا مظہر عباس ایڈوکیٹ،سید نظیر احمدعرف سعود اورمعروف قراءمیںقاری محمدہذقیل، حافظ محمدافضال،حافظ محمدولی اللہ ،محمدوصفی، محمد توحید،قاری طٰہٰ، قاری جنید تھے۔مہمانا ن اعزازی میں اسلام احمدخاں ایڈوکیٹ ہائی کورٹ اور صابرعلی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔
فریضہ ٔ نظامت خوش فکر شاعر شکیل گیاوی نے انجام دیا۔مہمانوں کی گلپوشی کا عمل مظہر عباس اور بدرعلی نے ادا کیا۔ شعرا میں فاروق جائسی ، سیدفاروق میاںچشتی،ڈاکٹرسنجے مصراشوق، نصیر انصاری ، صغیرنوری،ڈاکٹر عامل اشرفی،اختر ہاشمی، سلیم تابش ڈاکٹر ریحان علوی، آدرش بارہ بنکوی،مظہرعباس ، قمر سیتاپوری،حشیم فاروقی اور مجیب ردولوی کے نام قابلاعتنا ہیں۔مشاعرہ کا التواسید مظہر عباس کے سلام اورصاحب سجادہ صوفی سید اظہار علی کی پرتاثیر دعا پر ہوا۔
اس موقع پر سجادہ نشین صوفی سید اظہار علی نے اپنی کلیدی تقریر میں کہاکہ اولیا اور اصفیا کے کارنامے اس جہان میں ہم سے مخفی نہیں ہیںاور ہمارے ملک ہندوستان کی مٹی کی خوشبو میں صوفیا کے اصلاحی اثرات اور کرامات پیوست ہیں۔اہل بیت سے محبت اور الیائے کرام سے عقیدت ہمارے اوپر لازم ہے ۔ منبع ولایت علی مرتضی سے حاصل ہونے والی راہِ تصوف دراصل صلہ رحمی ، درگزری،مذہبی منافرت سے احتراز اور حقوق العبادکی مظہرہے ۔اسلام نے حقوق العباداور انسایت کا جوپیغام دیاہے اس کی آج کے دور میں خاص طورپر ہمارے معاشرہ کو سخت ضرورت ہے۔انھوںنے اپنے دعائیہ کلمات میں خانقاہ شاہ عبدالرحمن ؒ کے مشن کو عام کرنے پر زور دیا اور ملک میں امن وسلامتی کے لیے خصوصی دعا کی۔
دوسرے دن قل، چادرپوشی ،گلپوشی ومحفل سماع کا اہتما م ہواجس میںالحاج پیرطریقت صوفی سید اظہار علی( سجادہ نشین) کے علاوہ خانوادۂ عالیہ کے تمام افرادآخرشب تک موجود رہے۔خاص طورپرحاضرین میں جعفرشکیل روزنامہ انقلاب، ضیاانجم،شہاب قدوائی ایڈوکیٹ، او۔پی۔ پانڈےکے علاوہ بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔ محفل سماع کورضوان بردرس ، امن چشتی اور ارشد علی قوالوں نے اپنے صوفیانہ ودلبرانہ کلام سے مدہوش کردیا۔
اس موقع پر سید مظہر علی عباس نے کہا کہ درگاہ کے انتظامی امور میں دن بدن بہتری آرہی ہے۔زائرین کی سہولیات کے لیے ہم مسلسل کوشاں ہیں اور سال بھر کسی نہ کسی صورت میں ہم اس پر عمل پیرار بھی ہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو کامیاب کرے اور حضرت شاہ عبدالرحمن ؒ کی برکتوں سے زائرین کومستفید ومبروک کرے۔آمین۔









