*“دھنباد میں معراجِ سخن”(دیوان)”پر مذاکرہ*
*“غزل نامہ” اجرا*
11/ ستمبر 2026ء کی شام ادب میں تاریخ ساز باب کی حیثیت سے درج ہو گئی۔ تاج پیلیس، واسع پور (دھنباد) میں منعقد ہونے والی یہ پروقار تقریب شعر و ادب کی تہذیبی رعنائیوں اور فکری سنجیدگی کا ایک دلکش سنگم ثابت ہوئی۔ یہ ادبی تقریب بنود بہاری مہتو کوئلانچل یونیورسٹی اور بزمِ معراجِ شعر و ادب (کلٹی، مغربی بنگال) کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی، جس نے دو ریاستوں کے ادبی و فکری رشتے کو مزید مستحکم کیا۔
اس تقریب کا خاص موضوع استاد الشعراء محترم معراج احمد معراج صاحب کی تصنیف” معراجِ سخن” (دیوان)پرفکرانگیز مذاکرہ تھا اور ترتیب کردہ مجلہ “غزل نامہ” (سلسلہ نمبر 9) کی رسمِ اجراء تھی۔
محفل کی صدارت اردو زبان و ادب کی قدآور علمی شخصیت، سابق صدر شعبۂ اردو، رانچی یونیورسٹی، پروفیسر (ڈاکٹر) منظر حسین نے فرمائی۔ انہی کے دستِ مبارک سے ادبی مجلے “غزلنامہ”کی رونمائی حاضرین کی بھرپور تالیوں اور اربابِ سخن کی نیک تمناؤں کے درمیان انجام پائی. صدرِ محفل نے اپنے صدارتی خطبے میں معراج احمد معراج صاحب کی کتابوں کی ادبی قدرومنزلت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی شعری و فکری خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ “معراج اپنے معاصرین سے اس لئے پیچھے رہ گئے کہ وہ نام و نمود کے ہتھکنڈے نہیں اپنا سکے اور انہیں اچھا پلیٹ فارم بھی نہیں ملا. عصرِ حاضر میں معراج احمد معراج کی ادبی حیثیت مسلم ہے.ان کی شعری اور صحافتی کاوشیں علم و ادب کی شمع کو مزید روشن رکھنے کا مؤثر وسیلہ ہیں۔”
تقریب کی نظامت کے فرائض معروف ناظمِ مشاعرہ شہباز رہبر(ریسرچ اسکالر) نے انجام دیے۔ مشہور شاعرمختار حسینی(گریڈیھ) نے بحیثیت مہمانِ اعزازی شرکت کی. اس تاریخی ادبی شام کو علمی و ادبی رونق بخشنے میں قابل مقالہ نگاروں اور مہمانانِ گرامی کا کردار نمایاں رہا۔ معزز ڈاکٹر عالمگیر ساحل اورمحترم ڈاکٹر حسن نظامی نے “معراجِ سخن” (دیوان)کے تعلق سے پُر مغز مقالے پیش کئے اور اس دیوان کو ادبی دنیا کا ایک گراں قدر سرمایہ قرار دیا۔جبکہ احمد نثار صاحب اور ابنِ تاج صاحب نے “غزل نامہ” کے فکری و فنی محاسن کا تفصیلی احاطہ کیا. معراج احمد معراج نے یونیورسٹی کے صدرِشعبہ اردو ڈاکٹر عالمگیر ساحل اور صدر محفل ڈاکٹر منظر حسین کا یہ کہتے ہوئے شکریہ ادا کیا کہ ادبی کردار کشی کے اس دور میں خاکسار کی شاعری اور ادبی خدمت کا یوں اعتراف کرنا میرے لیے بہت بڑی اعزاز کی بات ہے ، میں ان باوقار حضرات کا دل سے ممنون ہوں.” مختار حسینی نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے “بزمِ معراج شعر و ادب” اور یونیورسٹی انتظامیہ کی اس مشترکہ کوشش کو سراہا اور استاد الشعراء معراج احمد معراج صاحب کو اس گرانقدر کارنامے پر مبارکباد پیش کی۔
محفل میں کثیر تعداد میں اہلِ علم و دانش، شعراو اساتذہ اور شائقینِ ادب نے شرکت کی اور تقریب کے اختتام سے قبل شعری نشست بھی منعقد ہوئی اور دھنباد اور مضافات کے شعرا نے کلام سنائے.بلا شبہ، واسع پور (دھنباد )کی یہ تقریب اپنے علمی معیار اور تہذیبی حسن کے باعث طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں احمد نثار صاحب (مدیر سہ ماہی “عالمی فلک” دھنباد) اور شمشاد اکرم کی کاوش لائقِ ستائش ہے.
منجانب: شمشاد اکرم
نائب سکریٹری
بزمِ معراج: شعروادب
کلٹی. مغربی بنگال










