Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*​سیاست دانوں کی “شوگر فری” جنت اور ہم (عوام)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*​سیاست دانوں کی “شوگر فری” جنت اور ہم (عوام)*

از قلم : *اسماء جبین فلک*

​دنیا کہتی ہے کہ سیاست ایک سنجیدہ فن ہےلیکن ہمارے ہاں یہ وہ واحد فنکاری ہے جسے دیکھ کر سرکس کے جوکر بھی استعفیٰ دے کر ہمالیہ پر جا بیٹھنے کا سوچتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں کی دور اندیشی کا عالم یہ ہے کہ وہ مستقبل کو اتنا روشن دکھاتے ہیں کہ عوام کی آنکھیں ہی چندھیا جاتی ہیں اور انہیں اپنے پیروں کے نیچے کا گڑھا نظر نہیں آتا اب آپ ہی بتائیےبھلا یہ نوکریاں، سڑکیں اور ہسپتال مانگنا کوئی شرافت ہے؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ بندہ کسی کی شادی پر جائے اور وہاں جا کر کہے کہ “بھئی کھانا تو اچھا ہے مگر ذرا دلہن کا میٹرک کا رزلٹ کارڈ تو دکھانا!”
​سیاست دان کی نظر میں عوام کا کام صرف ووٹ ڈالنا اور پھر پانچ سال تک “خاموشی کا روزہ” رکھنا ہے۔ اگر آپ سڑک مانگ رہے ہیں تو آپ ملک کی ترقی کے دشمن ہیں کیونکہ کچی سڑکوں پر چلنے سے جو “تھرتھراہٹ” اور مفت کا “مساج” ملتا ہے،م وہ بورنگ موٹروے پر کہاں؟
​مہنگائی وہ واحد وعدہ وفا جو پورا ہوا،​سیاست دانوں کے تمام وعدے “میڈ ان چائنا” ہو سکتے ہیں، مگر “مہنگائی” وہ واحد چیز ہے جس پر وہ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ملک میں اگر واقعی کسی چیز نے “راکٹ” کی رفتار سے ترقی کی ہے تو وہ  ہے مہنگائی۔​اب تو عالم یہ ہے کہ ​غریب آدمی ٹماٹر کو سبزی نہیں سمجھتا بلکہ اسے “تجوری” میں رکھنے والی قیمتی دھات سمجھتا ہے۔
​پیاز کاٹتے ہوئے پہلے بندہ روتا تھا اب پیاز خریدتے ہوئے ہی آنکھوں میں ساون بھادوں شروع ہو جاتا ہے۔
​پیٹرول کی قیمتیں دیکھ کر لگتا ہے کہ اب گاڑی میں پیٹرول نہیں، بلکہ “خالص شہد” یا “عرقِ گلاب” ڈلوانا سستا پڑے گا۔
​سیاست دانوں کا سب سے بڑا احسان ان کا “ایجوکیشن فری” (Education Free) کا تصور ہے۔ ہم معصوم عوام سمجھے کہ شاید اب کتابیں مفت ملیں گی یا فیسیں ختم ہوں گی۔ مگر قربان جائیں ان کی دور اندیشی پر! ان کا مطلب تھا کہ معاشرے کو تعلیم سے ہی “آزاد” (Free) کر دیا جائے۔
​جیسے ڈائٹ کرنے والے “شوگر فری” چائے پی کر خود کو دھوکا دیتے ہیں ویسے ہی ہمیں “ایجوکیشن فری” سیاست دی جا رہی ہے تاکہ عوام میں “عقل کے جراثیم” ہی پیدا نہ ہوں۔ آخرکار اگر عوام پڑھ لکھ گئے تو وہ سوال پوچھیں گےاور سوال پوچھنا سیاست دان کی صحت کے لیے ویسا ہی مضر ہے جیسا کہ شوگر کے مریض کے لیے “گلاب جامن”۔
​ہم ایسی قوم بن چکے ہیں جو ہر اس مسیحا کے پیچھے لگ جاتے ہیں جو ہمیں رنگین “خواب” بیچتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ
​”اگر جوتے پھٹے ہوئے ہیں تو غم نہ کریں کم از کم آپ کے پاؤں تو آزاد ہوا کھا رہے ہیں نا!”
​ہمیں ہنسی تو آتی ہے مگر یہ ہنسی دراصل ایک آئینہ ہے۔ ہم کب تک “شوگر فری” وعدوں پر گزارا کریں گے؟ کیا ہمیں واقعی ایسا ملک چاہیے جہاں سڑکیں نہ ہوں مگر نعرے ہوں؟ جہاں ہسپتال نہ ہوں مگر لمبی تقریریں ہوں؟ اور جہاں اسکول نہ ہوں مگر “جہالت کی آزادی” ہو؟