*غزل*
مرے خیال پہ تیرا خیال حاوی ہے
کمال والوں پہ اب بے کمال حاوی ہے
مجھے بھی ہونے لگا ہے وجود کا احساس
کہ ذہن ودل پہ سخن کا خیال حاوی ہے
پرانی راہ ہی ہے گرچہ بے ضرر لیکن
نیا زمانہ ہے ماضی پہ حال حاوی ہے
کوئ تو بات ہے آخر کہیں کمی تو ہے
سبب کیا ہے کہ ہم پر زوال حاوی ہے
یقین ہے مجھے نازاں بھی اپنی بخشش کا
مری خطاؤں پہ میرا ملال حاوی ہے
*ڈاکٹر شمع ناسمین نازاں*
شمع اکیڈمی
Post Views: 87








