*فوزیہ اختر ردا
کولکاتا*
*غزل*
*خوبیاں کیسے تری تجھ کو بتائے کوئی
“کیسے آئینے کو آئینہ دکھائے کوئی”
پیار اپنا بھی کبھی مجھ سے جتائے کوئ
اپنے جذبات کے احوال سنائے کوئی
عالمِ غیب سے بھی پردہ اٹھائے کوئی
اس اداسی میں مجھے آ کے ہنسائے کوئی
مجھ کو خوابوں میں بسا کر نہ بھلائے کوئی
خواب آنکھوں کو مگر کچھ تو دکھائے کوئی
بار چاہت کا کبھی آ کے اٹھائے کوئی
وعدۂ مہر و وفا مجھ سے نبھائے کوئ
خواب آنکھوں میں ردا آ کے ٹھہر جاتے ہیں
نیند ایسے بھی مری اب نہ چرائے کوئ*
Post Views: 510








