*لوک پال کے ٹھاٹھ: امرت کال میں سیوا کا میوہ (مزاحیہ)*
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
________________________________________
کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے، مگر ہمارے ہاں تو خواہشات، ایجادات کی نانی اماں ثابت ہوئی ہیں۔ ضرورت تو فقیر کی لنگوٹی بھی پوری کر دیتی ہے، لیکن خواہش کا پیٹ تو جہنم کی آگ بھی ٹھنڈا نہیں کر سکتی۔ اور جب اسی خواہشِ بےلگام پر “سرکاری ضرورت” اور “قومی وقار” کا ریشمی غلاف چڑھا دیا جائے، تو پھر بات فقیر کی جھونپڑی سے نکل کر جرمنی میں بنے قلعہ نما گاڑیوں کے قافلے تک جا پہنچتی ہے۔ سنا تھا پرانے وقتوں کے قاضی رات کو بھیس بدل کر گشت کرتے تھے تاکہ رعایا کا دکھ درد اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں؛ ان کی سواری عموماً ان کے اپنے دو عدد پیر ہوا کرتے تھے۔ مگر وہ پرانے، دقیانوسی قصے تھے، جب حکمران اور رعایا میں فرق صرف ذمہ داری کا ہوا کرتا تھا، ٹھاٹھ باٹھ کا نہیں۔
اب تو حضور، “امرت کال” چل رہا ہے۔ بقول سرکار، ملک پر ترقی اور خوشحالی کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور ہر سو نور کی برسات ہے۔ ایسے مبارک دور میں یہ کیونکر روا رکھا جائے کہ وہ دیوتا صفت ہستیاں، جن کے کندھوں پر اس امرت کال کو کامیاب بنانے کا بوجھ ہے، وہ معمولی، خستہ حال سواریوں میں سفر کر کے قومی وقار کو بٹا لگائیں؟ ارے صاحب، امرت کال کی مقدس ہستیوں کی سواریاں بھی تو عالیشان ہونی چاہئیں! اور اگر یہ امرت دھارا جرمنی سے کشید کر کے منگوایا جائے تو کیا ہی کہنے!
ہمارے ملک میں بھی، ایک طویل عوامی جدوجہد، ان گنت نعروں، کئی دن کے بھوک ہڑتالوں اور جمہوریت کے ڈھیروں آنسوؤں کے بعد، بدعنوانی کے دائمی مرض کے لیے ایک ’تریاقِ اکبر‘ تیار کیا گیا تھا۔ نام بھی کتنا دل موہ لینے والا تھا؛ ’’لوک پال‘‘، یعنی عوام کا محافظ، ان کا پالن ہار۔ عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ چلو، کوئی تو مسیحا آیا جو قوم کے جسم میں سرایت کر چکے بدعنوانی کے ناسور پر نشتر زنی کرے گا۔ مگر حال ہی میں خبر گزری کہ اس مسیحا کو اپنی مسیحائی کے فرائض کی ادائیگی کے لیے کچھ نہایت ہی معمولی اور ادنیٰ ساز و سامان کی ضرورت آن پڑی ہے۔ فہرست کچھ یوں تھی کہ سات عدد بی ایم ڈبلیو گاڑیاں، جن کی مجموعی مالیت فقط ساڑھے پانچ کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ یہ سن کر ہمیں اپنی کم مائیگی اور کم فہمی کا شدید احساس ہوا۔ ہم تو اب تک یہی سمجھتے رہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ نیک نیتی، قانون کی بالادستی اور سادگی سے ہوتا ہے۔ مگر اب عقدہ کھلا کہ اس کارِ خیر کے لیے جرمن انجینئرنگ، اطالوی چمڑے کی نشستیں اور کم از کم چھ عدد ائیر بیگ کا ہونا شرطِ اوّل ہے۔
تصور کیجیے اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا، جہاں اس اہم قومی مسئلے پر غور کیا گیا ہوگا۔ ایک عالیشان، یخ بستہ کمرے میں افسرانِ بالا سر جوڑے بیٹھے ہوں گے۔ ایک صاحب نے نہایت متانت سے فرمایا ہوگا، “جناب والا، ملزموں پر نفسیاتی برتری قائم کرنے کے لیے لازم ہے کہ ہماری سواری ان کی سواری سے زیادہ شاندار ہو۔ جب ہمارا قافلہ گزرے تو بدعنوان عناصر کے دل دہل جائیں۔” دوسرے صاحب نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے کہا، “بالکل درست! اور پھر قومی وقار کا بھی سوال ہے۔ کیا دنیا کہے گی کہ بدعنوانی سے لڑنے والے ادارے کے پاس ایک ڈھنگ کی گاڑی بھی نہیں؟ سَودیشی گاڑی میں وہ ‘کِلر انسِٹنکٹ’ کہاں جو مجرم کو دیکھتے ہی تعاقب پر آمادہ کرے؟” ایک تیسرے، جو شاید زیادہ عملیت پسند تھے، بولے، “اور جناب، یہ جنگ طویل ہے۔ ہمیں آرام دہ نشستوں کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے دماغ تازہ دم رہیں اور ہم قوم کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں۔” بس پھر کیا تھا، متفقہ طور پر یہ قرار داد منظور ہوئی کہ قومی وقار اور فرض کی کٹھن ادائیگی کے لیے بی ایم ڈبلیو سے کم پر سمجھوتہ کرنا دراصل بدعنوانوں کے حوصلے بلند کرنے کے مترادف ہے۔
اور اس عظیم الشان مہم کی سربراہی بھی تو کوئی معمولی شخصیت نہیں فرما رہے۔ جناب جسٹس اے ایم خانویلکر صاحب! ماشاءاللہ، صفائی پسندی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ان کا پورا کیریئر اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ نئے بھارت میں قابلیت کی پرانی تعریفیں اب متروک ہو چکی ہیں۔ اب سب سے بڑی قابلیت “سیوا” ہے، اور سیوا بھی اس ہستی کی جو “نان بائیولاجیکل” ہے۔ خانویلکر صاحب جیسے “کرم یوگیوں” نے برسوں کی ریاضت اور بے لوث خدمت سے خود کو اس مقام کے لیے اہل ثابت کیا ہے۔ ان کے ماضی کے فیصلے کوئی معمولی فیصلے نہ تھے، بلکہ یہ وفاداری کے وہ کٹھن امتحانات تھے جن میں سرخرو ہونے کے بعد ہی ‘سیوا کا میوہ’ یعنی لوک پال جیسی ذمہ داری اور بی ایم ڈبلیو جیسی سواری نصیب ہوتی ہے۔ گجرات فسادات جیسے پیچیدہ معاملے کو جس خوبصورتی سے انھوں نے صاف کیا، یا جب سینٹرل وسٹا جیسے عظیم الشان منصوبے پر کچھ ’’قوم دشمن عناصر‘‘نے گرد اڑانے کی کوشش کی تو جناب والا نے ہی اپنی بصیرت سے اس گرد کو بھی صاف کر کے منصوبے کو ہری جھنڈی دکھائی۔ اب ایسے صاحبِ کمال اگر اپنے اور اپنے رفقاء کے لیے چند ادنٰی سواریوں کا تقاضا کریں تو اس پر واویلا مچانا کم ظرفی نہیں تو اور کیا ہے؟
لفظ “لوک پال” پر غور کرتے کرتے ہمیں اپنے گاؤں کا وہ غریب چوکیدار یاد آ گیا، جس کا کل اثاثہ ایک لاٹھی، ایک مدھم سی ٹارچ اور مٹی کی دیواروں اور پھونس کی چھت والی ایک جھونپڑی تھی۔ مگر اس کی ایمانداری پر ڈاکا ڈالنے کی جرأت گاؤں کے کسی چور اچکے میں نہ تھی۔ اُدھر یہ “لوک پال” ہیں، یعنی عوام کے پالن ہار! آج ان پالن ہاروں کے ٹھاٹھ ایسے ہیں کہ ان کی ایک گاڑی کی قیمت میں ہمارے اس چوکیدار جیسے ہزاروں کی زندگی بھر کی تنخواہیں سما جائیں۔ پرانے وقتوں میں سوال یہ اٹھتا تھا کہ کیا نگہبان کا گھر، ان گھروں سے بڑا ہونا چاہیے جن کی وہ نگہبانی کرتا ہے؟ مگر یہ سب ’دارالامان‘ کے زمانے کی باتیں ہیں۔ اب ’امرت کال‘ ہے، جس کا فلسفہ یہ ہے کہ بادشاہ کی سواری جتنی شاندار ہوگی، سمجھو رعایا اتنی ہی خوش حال ہے۔ رعایا بھلے پیدل چلتے چلتے ہانپ جائے، مگر ان کے ’پالن ہار‘ کی جرمن گاڑی پر دھول کا ایک ذرہ بھی نظر نہ آئے۔
اور حضور، یہ رونا صرف ایک ادارے کا نہیں۔ یہ تو وہ وبا ہے جو ہمارے تمام جمہوری اداروں کو چپکے چپکے چاٹ گئی ہے۔ وہ ادارے جو کبھی حکومت کے آگے دانت دکھانے والے ’واچ ڈاگ‘ ہوا کرتے تھے، اب حکومت کی مخملی گود میں بیٹھے، بسکٹ کے ٹکڑے پر دُم ہلانے والے ’لیپ ڈاگ‘ بن چکے ہیں۔ ان کا کام اب چوروں کو بھگانا نہیں، بلکہ مالک کے اشارے پر مہمانوں (یعنی حزبِ اختلاف اور ناقدین) کو ڈرانا رہ گیا ہے۔
بالآخر، ہم جیسے پرانی وضع کے کج فہم لوگ، جو اب تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ نگہبان کی آنکھ بیدار اور پیٹ خالی ہونا چاہیے، اپنی اس فرسودہ سوچ پر معذرت خواہ ہیں اور ایک عاجزانہ تجویز پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بی ایم ڈبلیو جیسی معمولی گاڑیاں ان ‘کرم یوگیوں’ کی شان میں صریحاً ایک گستاخی ہیں۔ یہ حضرات کوئی معمولی سرکاری بابو نہیں، بلکہ بدعنوانی کے خلاف ‘مقدس جنگ’ لڑنے والے سپہ سالار ہیں۔ اور جنگیں، جناب، محض لگژری گاڑیوں میں بیٹھ کر نہیں جیتی جاتیں۔ لہٰذا، ہماری منطقی تجویز یہ ہے کہ ان کے لیے کم از کم ایک عدد اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر کا بندوبست ہونا چاہیے۔ آخر جو لوگ اپنے ناقدین کو ’قوم دشمن‘ قرار دے کر ان پر نظریاتی ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہوں، ان کے پاس حقیقی سرجیکل اسٹرائیک کا ساز و سامان بھی تو میسر ہونا چاہیے! اس اقدام سے نہ صرف قومی وقار میزائل کی طرح بلندیوں کو چھوئے گا، بلکہ جب بھی کوئی گستاخ شہری، کوئی بھولا بھٹکا صحافی یا کوئی سر پھرا سماجی کارکن بدعنوانی پر سوال اٹھانے کی ‘ناپاک’ ہمت کرے، تو اس پر ایسی ہیبت طاری کی جا سکے کہ وہ سوال سے پہلے اپنی سلامتی کی دعا مانگنے پر مجبور ہو جائے۔
البتہ، اس تمام تر حفاظتی بندوبست کو دیکھ کر ایک شبہ سا ضرور پیدا ہوتا ہے۔ یہ قلعہ نما گاڑیاں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کی یہ تجاویز… کیا یہ واقعی بدعنوانی کے خلاف اعلانِ جنگ ہیں، یا پھر عوام سے اپنی بڑھتی ہوئی دوری اور ان کے غیظ و غضب سے خوف کا کھلا اعتراف ہیں؟ کیونکہ جب محافظ کو اپنی ہی رعایا سے خطرہ محسوس ہونے لگے، تو سرکاری اداروں کی پیشانی پر بس ایک ہی عبارت سجتی ہے:
“عوام کا محافظ، عوام سے محفوظ”










