Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*میتھین میں کتابوں کا اجرا اور مشاعرہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*میتھین میں کتابوں کا اجرا اور مشاعرہ*
پریس ریلیز؛ 8/ فروری, اتوار کے روز میتھن میں لبِ دریا، قدرت کے شاداب منظروں کے درمیان  شاندار پکنک مشاعرے کا انعقاد ہوا اور اس مشاعرے کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ اس میں دو کتابوں کی رونمائی بھی ہوئی۔ پہلی کتاب “اماوس کی شب” عالم انجم کا شعری مجموعہ ہے ،  اور  دوسری کتاب جناب ابن تاج کا دیوان ” پیکر خیال “ہے ۔اس تقریب کی صدارت معروف افسانہ نگار ڈاکٹر عشرت بیتاب کے مضبوط کاندھوں پر تھی جبکہ نظامت کے فرائض شمشاد اکرم نے انجام دیے ۔مہمان کے طور پر گریڈیہہ کے معروف شاعر اور ادبی خدمت گار مختار حسینی، کئی کتابوں کے خالق عالم انجم ،  بزم معراج کے بانی اور معروف شاعر معراج احمد معراج، زودگو شاعر ابن تاج وویکا نند کالج کے پرنسپل جناب محمد الیاس انصاری بھی  اس مشاعرے میں شریک تھے ۔ سب سے پہلے مترنم آواز کے مالک غلام جیلانی نے نعت سرائی کی اور اس کے بعد تعارفی کلمات صاحب دیوان شاعر معراج احمد معراج نے پیش کیے۔ معراج صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ” بزم معراج” ادب کی خدمت میں مصروف ہے اور اس کے پرچم تلے بہت سارے ادبی کام ہو رہے ہیں  ان کی مثال اج کی یہ تقریب ہے. اتنے سارے لوگ ادب کے نام پر دور دراز سے آکر ایک جگہ جمع ہو گئے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں خاکسار سے محبت ہے اور وہ” بزم معراج” کو اپنا پسندیدہ ادارہ سمجھتے ہیں”.بعد ازاں عالم انجم کے شعری مجموعے “اماوس کی شب” کا اجرا  ڈاکٹرعشرت بیتاب کے دستِ مبارک سے ہوا اور اس کے فوراً بعد معراج احمد معراج کے دستِ کارساز سے ابن تاج کے دیوان “پیکر خیال”کی رونمائی انجام پائی ۔ عالم انجم اور ابن تاج نے اپنی اپنی کتابوں کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اور بزمِ معراج کو اپنی شاعری کا محرک بھی تسلیم کیا۔ نوجوان شاعراظہر عارف نے بھی دونوں شاعروں سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ مختار حسینی نے بھی دونوں شعرا کو مبارک باد پیش کی اور بزم معراج کی تعریف میں کئی کلمات ادا کیے۔ اس کے بعد مشاعرے کا اغاز ہوا جس میں بہت سارے شعراء شریک ہوئے اور اپنے کلام بلیغ سے سامعین کو محظوظ کیا۔ شعرا میں معراج احمد معراج،ابن تاج،عالم انجم،تصور وارثی،اظہرعارف،حشمت علی حشمت،محمد الیاس انصاری،مختار حسینی،شمیم اختر شمیم ، انعام الحق انعام، ہریرہ شہزاد وارثی،اور شمشاد اکرم وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ڈاکٹر عشرت بیتاب  نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ” بزم معراج,ایک فعال ادارہ ہے اور معراج صاحب بہت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ اس ادارے کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں اور انہی کی کوششوں سے یہ تقریب رونمائی و مشاعرہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔آج جن کی کتابیں  منظر عام پر ائیں انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں انہوں نے اخر میں دو نثری نظمیں بھی پیش کیں اور یہ کہا کہ معراج صاحب کا اثر ہے کہ میں بھی تھوڑی بہت شاعری کرنے لگا ہوں” ۔سامعین میں بہت سارے ادبا و شعراء کے علاوہ مضافات کے خواتین و حضرات بھی جلوہ افروز تھے۔