*واجد اختر صدیقی کی نقشِ تحریر: گلبرگہ کی علمی وراثت کا جدید بیانیہ*

ازقلم: اسماء جبین فلک
آکولہ (مہاراشٹرا)
اردو ادب کی وسیع بستی میں کچھ قلم کار ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی اور استقامت کے ساتھ لفظوں کی شمعیں روشن کرتے ہیں اور اپنی مٹی کی خوشبو کو آفاقی رنگ دینے کی مسلسل تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے ہی باکمال اور صاحبِ طرز قلم کاروں میں ایک نمایاں نام واجد اختر صدیقی کا ہے جن کا تعلق ریاست کرناٹک کے تاریخی، علمی اور صوفیانہ مرکز گلبرگہ سے ہے۔ واجد اختر صدیقی کی ہمہ جہت شخصیت محض ایک روایتی لکھاری تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ ایک بصیرت افروز نقاد، مخلص خاکہ نگار اور اردو زبان و ادب کے ایک سچے شیدائی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ کار وسیع ہے جو تحقیق،تنقید اور تخلیق کے مختلف گوشوں کا احاطہ کرتا ہے۔
واجد اختر صدیقی کا طرہ امتیاز ان کا وہ گہرا تحقیقی اور پختہ تنقیدی شعور ہے جو انہیں اپنے معاصر قلم کاروں میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ وہ گلبرگہ دکن کی اس زرخیز اور قدیم علمی روایت کے سچے امین ہیں جہاں ادب کو محض تفریحِ طبع کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک لازمی اور ناگزیر جزو سمجھا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں میں جو خلوص، متانت اور فکری گہرائی نظر آتی ہے، وہ ان کے وسیع مطالعے اور قدآور ادبی شخصیات کے ساتھ ان کے گہرے قلبی لگاؤ کا ثمر ہے۔ ان کا اندازِ بیان نہایت سادہ، سلیس اور دلنشین ہے جس میں دقیق علمی مباحث کے باوجود بوجھل پن کے بجائے شگفتگی اور روانی پائی جاتی ہے۔ وہ اس فن سے بخوبی واقف ہیں کہ کس طرح کسی شخصیت کے فن اور کردار کو لفظوں کے قالب میں ڈھال کر اسے نقشِ دوام کی صورت بخشی جاتی ہے۔
ان کی تصنیف نقشِ تحریر دراصل ان کے اسی طویل اور کٹھن فنی سفر کا نچوڑ ہے۔ کتاب کے ابتدائی صفحات میں درج یہ اثر انگیز شعر طاقِ نسیاں میں رکھ دی کتابِ وفا، دیکھتا کون ہے کھولتا کون ہے، مصنف کے اس قلبی کرب اور ذہنی تڑپ کا آئینہ دار ہے کہ دورِ حاضر میں جہاں لوگ کتب بینی اور سنجیدہ مطالعے سے دور ہوتے جا رہے ہیں، وہاں انہوں نے اس کتابِ وفا کو دوبارہ کھولنے اور ادب کے گم گشتہ یا دانستہ نظر انداز کیے گئے گوشوں کو منور کرنے کی اہم ذمہ داری اٹھائی ہے۔ یہ شعر قاری کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ بھولی بسری ادبی روایات کی بازیافت ہی دراصل زندہ قوموں کا شعار ہوتا ہے۔
اس کتاب کی ساخت انتہائی منظم ہے جسے مختلف ابواب جیسے بابِ زماں، بابِ سخن، بابِ فن، بابِ ایوان، بابِ جہاں، بابِ چمن اور بابِ میزان میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس جامع تقسیم نے اس کتاب کو ایک ہمہ جہت ادبی ذخیرہ اور معلوماتی جامعہ کی شکل دے دی ہے جہاں تاریخ، شاعری، فنِ لطیف اور تنقید ایک جگہ جمع نظر آتے ہیں۔ مصنف نے پروفیسر حمید سہروردی، ڈاکٹر غضنفر اقبال، اور ڈاکٹر انیس صدیقی جیسی معتبر ادبی شخصیات پر جو گراں قدر مضامین قلم بند کیے ہیں، وہ ان شخصیات کے فن اور نجی زندگی کے ان مخفی پہلوؤں کو بڑی مہارت اور خوبصورتی سے اجاگر کرتے ہیں جو عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
اس تصنیف کی ایک اور بڑی علمی خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف گلبرگہ کے مقامی ادیبوں کے تذکرے پر اکتفا کیا گیا ہے۔گلبرگہ کے ادب کو اردو کے عالمی تناظر میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ گلبرگہ کی شخصیات اور انکے فن پر سیر حاصل تبصرے ان کی تنقیدی پختگی اور علمی بصیرت کا بین ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مقامی ادب کو عالمی معیار کے ترازو میں تولنے کی کامیاب کوشش کی ہے جو کہ ایک مشکل فن ہے۔
مجموعی طور پر نقشِ تحریر واجد اختر صدیقی کی علمی قابلیت، فکری بلندی اور بے لوث اردو نوازی کا ایک روشن ثبوت ہے۔ یہ کتاب نہ صرف نئی نسل کو اپنے لائقِ احترام سینئر ادیبوں کے کام اور ان کی خدمات سے روشناس کرواتی ہے بلکہ دکن کے مجموعی ادبی منظر نامے میں ایک انتہائی اہم اور وقار آمیز اضافہ بھی ثابت ہوتی ہے۔ واجد صاحب نے اپنی اس مخلصانہ کاوش سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ قلم کی حرمت اور سچے لفظوں کی تاثیر کبھی فنا نہیں ہوتی۔ یہ کتاب اردو ادب کے ہر اس قاری کے لیے جو تحقیق اور سوانح سے دلچسپی رکھتا ہے، ایک گراں قدر اور قیمتی اثاثہ ہے۔








