Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کولکاتا میں نم اعظمی ادبی منچ کی جانب سے اعزازیہ پروگرام اور بین الاقوامی مشاعرہ منعقد*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

کولکاتا 30 اکتوبر: کولکاتا کے مشہور و معروف شاعر مرحوم جناب نم اعظمی صاحب کے نام سے قائم “نم اعظمی ادبی منچ ” کی جانب سے کولکاتا کے توپسیا تل جلا پولس اسٹیشن کے قریب واقع “پریم منزل “کے آفس بلڈنگ میں ایک شاندار اعزازیہ تقریب اور عظیم الشان بین الاقوامی مشاعرہ منعقد کیا گیا۔پروگرام کو دوحصوں پے تقسیم کیا گیا تھا۔پہلا حصہ اعزازی تقریب کا رکھا گیا جس کی شروعات حافظ عظیم بالیسری نے تلاوت کلام پاک سے کی اور صدارت کے فرائض مولانا مرشد عالم ندوی صاحب نے کی تو وہیں نقابت کے فرائض ڈاکٹر احمد معراج نے بحسن خوبی نبھائی . کولکاتا گرلس کالج شعبہ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نعیم انیس صاحب کو اردو ادب کی بے لوث خدمات کے مدنظر انہیں ” نم اعظمی ادبی منچ ” کی جانب سے گلدشتہ پیش کر شال اڑھاتے ہوئے مومنٹو اور شپاس نامہ سے نوازہ گیا۔اس موقع پر مقرر کی حیثیت سے کولکاتا مسلم انسٹی ٹیوٹ کے لٹریری سکریڑی ڈاکٹر جاوید اختر،کولکاتا گرلس کالج شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد علمی اور مہمان کی حیثیت سے تلجلہ توپسیا سیٹیزن فورم کے جرنل سکریڑی وسیم الرحٰمن،ترنمول مائینورٹی سیل وارڈ نمبر 66 کے جرنل سکریڑی اسد الرحٰمن اور سماجی کارکن طاہر الحسن شمشی نے شرکت کی مہمانوں نے اپنا اپنا اظہار خیال پیش کرتے ہوئے کہا کہ نعیم انیس کی شخصیت میں سب سے عمدہ چیز ان کی سادگی ہے۔سادگی ہی انسان کی ترقی کی ضامن ہے۔وہ اپنے کام سے محبت کرتے ہیں۔ان کی لگن اور جذبے سے سبھی متاثر ہیں۔وہ یقیناً اس ایوارڈ کے حقدار ہیں۔ڈاکٹر نعیم انیس کی ادبی اور علمی زندگی کئی دہائیوں پر مشتمل ہے۔ان کی شخصیت ایک مقناطیسی ہے جو بھی ان سے ملتا ہے وہ انکا اسیر ہوجاتا ہے۔یہ پوری دنیا میں مغربی بنگال کی نمائندگی کرتے ہیں یہ نئی نسل کی رہنمائی کرتے ہیں۔اور کسی کا بھی کوئی مسئلہ ہوتا اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔نعیم انیس نئی نسل کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کی زندگی اور خدمات دوسروں کو ایک نئی تحریک دیتی ہے۔

صاحب اعزاز ڈاکٹر نعیم انیس نے ” نم اعظمی ادبی منچ “کے ممبران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جب بھی کوئی ایوارڈ ملتا ہے تو ذمہ داری بڑھ جاتی ہے جہاں خوشی ہوتی ہے وہیں اس کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ایوارڈ کی وقار کو برقرار رکھا جائے۔کیونکہ لوگوں کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں۔ہر ایوارڈ آگے بڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔استاد اور شاگرد کے درمیان آج بگڑتے رشتے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہیکہ ٹیچر ایمانداری کے ساتھ طلبہ کو نصاب پڑھائیں تو وہ کبھی نہیں بھولیں گے ۔انہیں با اخلاق بنانا کلاس روم تک لانا اور غیر ضروری عادتوں سے دور رکھنا اور انہیں پڑھنے کی طرف راغب کرنے کے لئے اساتذہ کوشش کرینگے تو بہترین نتائج حاصل ہونگے۔اگر آپ کو راستے پے کوئی شاگرد روک کر خیریت دریافت کرے اور عقیدت کا اظہار کریں تو استاد کے لئے اس سے بڑا اعزاز،انعام اور دولت نہیں ہے۔ ڈاکٹر نعیم انیس نے اردو کے حوالے سے کہا کہ ہم ہمیشہ حکومت کی طرف دیکھتے ہیں لیکن اپنا محاسبہ نہیں کرتے کے ہم نے اپنی زبان کے فروغ کے لیے کیا کیا – جس زبان کا تعلق ہمارے رنگ سے ہو،ہماری سونچ سے ہو اور ہم اس کی قدر نہیں کرینگے صرف حکومت کی طرف دیکھیں گے تو ایسا نہیں ہوتا ہمارا ذرا سا اسٹا ٹس اونچا ہوجاتا ہے تو میز سے اردو اخبار غائب ہوجاتا ہے۔پہلے تقریب کے بعد دوسرا سیشن مشاعرہ رکھا گیا جس کی صدارت اردو کے مشہور ومعروف شاعر عنبر شمیم نے کی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر احمد معراج نے انجام دی۔مہمان شعراء کی حیثیت سے آتش رضا،فیروز مرزا،راہی اطالوی(اٹالی)عظیم بالیسری (اڈیشا)شکیل گونڈوی،مدثر حسن،حفیظ اشرف،اظہرالدین اظہر،شہنواز عادل کے ساتھ میز بان شاعر اکرام آزر،عنبر صدیقی،نسیم فائق،عمران راقم،ارشادمظہری،مرشد عالم مرشد، بلال صابر اور سراج الدین نیئر نے اپنا اپنا کلام پیش کر سامعین کو خوب محظوظ کیا۔اس موقع پر دینی معلومات پر مشتمل “سوالات و جوابات”اردو،انگریزی اور ہندی”پر ارشاد مظہری ترتیب کردہ کتاب کا رسم اجراء قطر سے آئے ہوئے اسلامی اسکالر مولانا محمد مشتاق نثار احمد ندوی کے ہاتھوں کیا گیا۔اس اعزازی تقریب اور مشاعرہ کو کامیاب بنانے میں ارشاد مظہری ،جاوید حسین،ڈاکٹر محمد فاروق، ساجد پرویز ،شاہد جاوید اور آفتاب حسین کے ساتھ “نم اعظمی ادبی منچ ” کے تمام ممبران نے اپنا اپنا تعاون پیش کیا۔بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔