Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*آسان نکاح کے عنوان سے* *تنظیم علماء وائمہ آسنسول کا عوامی بیداری اجلاس*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*آسان نکاح کے عنوان سے*

*تنظیم علماء وائمہ آسنسول کا عوامی بیداری اجلاس*

“مسلم معاشرے میں در آنے والی  برائیوں کی وجہ کر پورا معاشرتی نظام میں بگاڑ آگیا ہے۔قران وسنت سے دوری اور برادران وطن کے رسومات کی نقالی نے نکاح جیسی آسان سنت کو بھی مشکل بنادیا ہے۔” ان باتوں کا اظہار گذشتہ شب شمالی آسنسول اوکے روڈ آٹو اسٹینڈ میں منعقدہ عوامی بیداری اجلاس میں کیاگیا جس کاانعقاد تنظیم علماء وائمہ آسنسول نے کیا۔ اجلاس کی صدارت جہانگیری محلہ مسجد کے امام وخطیب مفتی شکیل الرحمٰن قاسمی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مدرسہ خدیجتہ الکبریٰ للبنات کے مدرس مولانا اشرف مظاہری انجام دئیے۔ آسان نکاح کے عنوان سے منعقدہ اس جلسے سے خطاب کرنے والوں میں دارالقضاء امارت شرعیہ  آسنسول کے نائب قاضی مفتی سعید اسعد قاسمی، مسجد ابوبکر کے امام وخطیب قاری محمد کلیم الدین، مسجد عائشہ کے امام وخطیب قاری مجاہد الاسلام ، مسجد بیت الصلواۃ کے امام وخطیب مولانا نیاز احمد ندوی ،عیدگاہ والی مسجد کے امام وخطیب مولانا تبارک حسین قاسمی ،بوتل مسجد کے امام وخطیب مولانا طاہر رشیدی کے نام اہم ہیں۔اجلاس کے منتظم اور مدرسہ حسینیہ کے مدرس مولانا احسان الحق مظاہرہ  نے بتایا کہ مسلم معاشرے میں پھیلی ہوئی دیگر برائیوں کےساتھ نکاح جیسی سنت کو آسان بنانے کے لئے آسنسول کے علماء وائمہ ہر ماہ مختلف مساجد میں باضابطہ میٹنگ کیا کرتے ہیں۔ اس تنظیم کی کوششوں سے ہی شہر آسنسول میں  نکاح کے سلسلے سے چندشرائط بنائی گئی تھی۔ ڈھول تاشے اور باجے پٹاخے کے ساتھ آنے والی بارات کا نکاح نہ تو کوئی مقامی امام پڑھائیں گے اور نہ ہی کسی بیرونی امام کو نکاح پڑھانے کی اجازت ہوگی، دیر سے آنے والی بارات کا نکاح رات گیارہ کے بعد نکاح نہیں پڑھایا جائے گا بلکہ فجر کی نماز کے بعد ہی نکاح پڑھانے کا مرحلہ طئے کیا جائے گا۔موصوف نے بتایا کہ ان باتوں پر عمل کیا جارہا تھا مگر گزشتہ کچھ مہینوں سے پھر وہی رفتار بے ڈھنگی چلی آئی  ہے ۔ موصوف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئےبتایا کہ پچھلے دنوں بعد نماز مغرب ایک نکاح مسجد میں بڑی سادگی سے ہوئی تھی مگر اسی رات بعد نماز عشاء پورے ڈھول تاشہ اور باجاگا کے ساتھ آتش بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوب دھوم دھام سے بارات نکالی گئی۔مقررین نے صاف لفظوں میں کہا کہ نکاح کو آسان بنانے اور سماجی برائیوں کوروکنے کےلئے علماء وائمہ اور عوام کی مشترکہ طور پر اپنی ذمہ داری نبھانی پڑے گی۔ تمام فضولیات کو ترک کرکے بالکل سادگی کے ساتھ نکاح کیا جانا چاہیے۔نکاح کے صرف دو ہی فرائض ہیں گواہ اور ایجاب وقبول۔سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں خرچ سب سے کم ہو۔جہیز کامطالبہ، نقد رقم وزیورات کی مانگ،باراتیوں کی فوج لے کر لڑکی والوں کے گھر پہنچنا، بہتر سے بہتر کھانے کی فرمائش کرنا سراسر غلط اور خلاف شریعت ہے۔