برن پور : ترنمول سپریمو و ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ریاست میں فرضی ووٹر کارڈ کا مسلہ اٹھا کر الیکشن کمیشن کو عوامی کٹہرے میں لا کھڑا کردیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس طرح سے ہریانہ، دلی، مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے فرضی ووٹروں اور ووٹ کے ذریعہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی ٹھیک اسی عمل پر کار بند ہوتے ہوءے ریاست مغربی بنگال میں بھی کچھ ایسا ہی کرنا چاہتی ہے۔ممتا بنرجی نے اس خطرے کو محسوس کرتے ہوءے ریاست بھر میں بلاک سطح پر ترنمول کانگریس کی ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جو فرضی ووٹروں کی شناخت کر ان کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کی ہدایت دی۔ٹی ایم سی کے تمام سطح کے نیتاءوں کو اس کی ذمہ داری دی گءی۔ہدایت ملتے ہی ترنمول کانگریس کے نیتا و رہنما اپنے اپنے علاقے میں فرضی ووٹروں کی تلاش میں جٹ گیے ہیں۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر ٹی ایم سی کے کاؤنسلر اشوک ردرا نے اپنے پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی ۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشوک ردرا نے کہا کہ بھاجپا کے ذریعہ ان علاقوں میں ووٹر لسٹ میں گڑبڑی پیدا کی جارہی ہے جہاں مختلف زبان بولنے والے افراد کی آبادی ہے۔انہوں نے الزام لگاتے ہوءے کہا کہ صرف آسنسول جنوبی اسمبلی حلقہ میں اب تک 5000 سے 7000 کے قریب فرضی ووٹروں کی بات سامنے آءی ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوءے کہا کہ اس اعداد و شمار میں اضافہ بھی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر صرف آسنسول جنوبی اسمبلی حلقہ میں یہ حالت ہے تو یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ آسنسول لوک سبھا اسمبلی میں کتنے فرضی ووٹرز بی جے پی کے ذریعہ داخل کیے گیے ہیں۔اشوک ردرا نے صاف طور پر کہا کہ آسنسول جنوبی اسمبلی حلقہ میں بی جے پی اقلیتی مورچہ نمبر 2 کی صدر نازنین شبنم کے پاس دو شناختی کارڈ ہیں۔ایک ووٹر کارڈ وارڈ 76 پارٹ 265 اور دوسرا ووٹر کارڈ 78 نمبر وارڈ کے پارٹ نمبر 225 کا ہے۔اس ایک مثال سے یہ صاف واضح ہوجاتاہے کہ بی جے پی ووٹرز لسٹ میں فرضی ناموں کا اندراز کرا کر آنے والے اسمبلی الیکشن میں بنگال پر قابض ہونے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔انہوں نے صاف طور پر کہا کہ الیکشن کمیشن کو سنجیدگی سے اس جانب توجہ دینی چاہئے ۔انہوں نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن کو جب سچائی بتائی گئی تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔الیکشن کمیشن کو اس بات کی جانکاری نہیں کہ کس طرح ووٹر لسٹ میں فرضی ناموں کا اندراج کیا جارہا ہے۔ٹی ایم سی کی جانب سے جب یہ معاملہ قومی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا تو کمیشن نے 3 ماہ کی مہلت مانگی اور کہا کہ معینہ مدت کے اندر اس گڑبڑی کو ٹھیک کرلیا جاءے گا۔اشوک ردرا نے سوال اٹھایا کہ اگر قومی الیکشن کمیشن کو اس بات کی جانکاری نہیں تو پھر وہ کس طرح 3 ماہ کے اندر اس گڑ بڑی کو وہ ٹھیک کرلے گی۔ووٹرز کی فہرست تیار کرنے کی ذمہ داری بلاک سطح پر جن افسران کو دی جاتی ہے ان میں سے کچھ لوگ بی جے پی سے متاثر ہو کر اس طرح سے ووٹرز لسٹ میں ہیرا پھیری کرتے ہیں۔جنوری ماہ میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ جاری شدہ اخری فہرست کا ریکارڈ وہ پیش کر رہے ہیں جس میں گڑبڑی ہے۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس گڑبڑی کی جانکاری وہ پچھم بردوان ضلع کے ٹی ایم سی صدر کو دیں گے۔فرضی ووٹرز کے سلسلے سے پارٹی آگے بھی اپنی کاروائی جاری رکھے گی۔





















