آسنسول: ترنمول کانگریس سپریمو ممتا بنرجی کی انو پریرنا اور ریاستی مہیلا ترنمول کانگریس صدرچندریما پھٹاچاریہ کی ہدایت پرترپن نام سے آسنسول جنوبی بلاک (ٹاؤن)مہیلا ترنمول کانگریس کی صدرکہکشاں ریاض کی نگرانی میں جمعرات کے دن آسنسول مونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر 85کے کمیونیٹی ہال میں خواتین کے خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں پچھم بردوان ضلع مہیلا ترنمول کانگریس کی ضلع صدراسیما چکرورتی، آسنسول کارپوریشن کے چیئرمین امر ناتھ چٹرجی، ڈپٹی میئر وسیم الحق،بورو 7کے چیئرمین شیبا نند باؤری، آسنسول ساؤتھ بلاک یوتھ ترنمول کانگریس صدر ابھیک گوسوامی،وارڈ کونسلر کلینائی داس و دیگر نے شرکت کی۔ اس موقعے پر خواتین نے بڑے ہی جوش وخروش کے ساتھ اپنا خون عطیہ کرکے اس نیک کام میں حصہ لیا۔کیمپ میں موجود ضلع صدر اسیما چکرورتی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتنی شدید گرمی کے باوجود خواتین اپنا خون عطیہ کر رہی ہیں یہ ایک بڑا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے ہر بلاک میں خواتین کے ذریعے خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس موقعے پر موجود آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی میئر وسیم الحق نے کہا کہ آپ اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ ملک میں ایک سیاسی جماعت ہے جو انسان کا خون اور جان لے رہی ہے دوسری طرف مہیلا ترنمول کانگریس، ٹریڈ یونین سیل، یوتھ سیل اور پارٹی سے منسلک دیگر ذیلی تنظیمیں خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کرکے اپنے جسم کا خون دیکر انسان کی زندگی بچانے کا کام انجام دے رہی ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔یہ ہندوستان میں ترنمول کانگریس کے ورکر ہی کر کے دکھا رہے ہیں۔ہر روز کہیں نہ کہیں ترنمول کانگریس کی تنظیموں کی جانب سے خون عطیہ کیمپ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سپریمو ممتا بنرجی اور آل انڈیا رہنما ابھشیک بنرجی کا کہنا ہے کہ عوام کے درمیان رھ کر عوام کے لئے کام کیجئے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کا ہر ممبر اور حامی عوامی سماجی کاموں کو کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خون کسی کارخانے میں تیار نہیں ہوتا بلکہ انسان کے جسم میں ہی تیار ہوتا ہے اسی خون کو دیکر کسی بھی انسان کی زندگی کو بچائی جاسکتی ہے۔ اس موقعے پر ترنمول کانگریس بلاک صدر کہکشاں ریاض نے کہا کہ ضلع کی ہدایت پر مذکورہ کیمپ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپ میں کل پچاس یونٹ خون کا ہدف رکھا گیا ہے،کیمپ جاری ہے،خواتین اپنے اپنے ناموں کا اندراج کررہی ہیں جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ جو ہدف ہے اسے پورا کرلیا جائے گا۔اس کیمپ سے یہ ثابت ہوگیا کہ خواتین اپنے گھریلو کاموں کو انجام دیکر سماج کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کرسکتی ہیں۔











