Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*آسنسول ضلع اسپتال میں مبینہ طبی لاپرواہی سے طالب علم کی موت، مشتعل افراد کا احتجاج*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16777216

آسیریا ہیمبرم نامی بارہویں جماعت کے طالب علم کی مبینہ طور پر ڈاکٹروں کی لاپرواہی کے باعث موت واقع ہونے پر اتوار کے روز آسنسول ضلع اسپتال میں شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔

مرحوم طالب علم مَنگل ہیمبرم (عمر 17 سال)، رہائشی پانچگچھیا، کو 15 اگست کو پیٹ میں شدید درد کی شکایت پر آسنسول اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے مَنگل کی حالت بگڑتی گئی اور بالآخر اُس کی موت واقع ہوگئی۔

اتوار کی صبح مَرحوم کے رشتہ داروں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے اسپتال کے احاطے میں جمع ہو کر اسپتال انتظامیہ کے خلاف زور دار نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے لاپروائی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی اور معاوضے کا مطالبہ کیا۔

ہنگامہ بڑھنے پر آسنسول ساؤتھ تھانے کی پولیس اور کامبیٹ فورس موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق احتجاج کے باعث کچھ دیر کے لیے اسپتال کا معمول متاثر ہوا۔

مرحوم کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو حالت بگڑنے کے باوجود سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ سانحہ پیش آیا۔ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ علاقے میں کشیدگی ابھی بھی برقرار ہے۔