آسنسول ضلع عدالت کو بم سے اُڑانے کی دھمکی ملنے کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق 24 فروری کو صبح تقریباً ساڑھے اگیارہ بجے ضلع جج کو ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی جس میں عدالت کو بم سے اُڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی عدالت انتظامیہ اور پولیس فوراً حرکت میں آگئے اور پورے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا۔
سکیورٹی کے پیش نظر فوری طور پر عدالت کے احاطے کو خالی کرا لیا گیا اور پولیس کی جانب سے چوکسی بڑھا دی گئی۔ پولیس اور عدالت انتظامیہ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ کو ہونے سے روکا جا سکا۔
بین الاقوامی سماجی کارکن اور India Awake کے چیئرمین فیروز خان ایف کے نے اس واقعہ کو نہایت سنگین اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اور معزز جج صاحبان کو ای میل کے ذریعے بم سے اُڑانے کی دھمکی دینا دراصل عدالتی نظام اور عوامی سلامتی پر براہِ راست حملہ ہے۔
انہوں نے آسنسول درگاپور پولیس کمشنریٹ کے پولیس کمشنر سنیل کمار چودھری کو ایک مکتوب لکھ کر پولیس محکمہ کی فوری اور ذمہ دارانہ کارروائی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے فوراً اقدامات کئے اور عدالت کو خالی کرا کر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کمشنر کی قیادت میں آسنسول–درگاپور علاقے میں قانون و نظم کی صورتحال مضبوط رہی ہے اور جرائم پر قابو پانے، فوری مسائل کے حل اور مؤثر نگرانی کے ذریعے عوام کا اعتماد بھی بڑھا ہے۔
تاہم اس واقعے کو مدنظر رکھتے ہوئے فیروز خان ایف کے نے مطالبہ کیا کہ:
اس معاملے کی گہرائی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے۔
ای میل کے ذریعے دھمکی دینے والے کے ماخذ کی تکنیکی جانچ کر کے ملزموں کی جلد شناخت کی جائے۔
قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے عدالتوں کی سکیورٹی مزید مضبوط کی جائے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس انتظامیہ اس معاملے میں سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی بلکہ عدالتی نظام اور عوام کی سلامتی کو بھی یقینی بنائے گی۔








