Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*آسنسول میں پی ایچ ای ٹھیکیداروں کا بقایہ رقم کی ادائیگی کے مطالبے پر دھرنا، پانی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

کافی دنوں سے پینے کے پانی کی سپلائی سے وابستہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) یا ریاستی عوامی صحتیاتی محکمہ کے ٹھیکیدار اپنے بقایہ جات کی ادائیگی کے مطالبے کو لے کر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وہ کئی مرتبہ پی ایچ ای دفتر کے سامنے احتجاج کر چکے ہیں اور محکمہ کے انجینئروں و اعلیٰ افسران سے ملاقات بھی کی، مگر ابھی تک انہیں ان کی واجب الادا رقم نہیں ملی ہے۔آخرکار، منگل کی صبح ٹھیکیداروں نے اپنی بقایہ رقم کی ادائیگی کے مطالبے کو لے کر آسنسول کے بی این آر موڑ کے قریب رابندر بھون کے سامنے ایک پُرامن دھرنا دیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں مطالبات درج بینر تھے، اور ان کے ساتھ ان کے ماتحت کام کرنے والے مزدور بھی شریک ہوئے۔یہ دھرنا پی ایچ ای کنٹریکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (RCFA W/S Circle Asansol) کی جانب سے منظم کیا گیا تھا۔ دھرنے میں شریک ٹھیکیداروں کا کہنا تھا کہ 2022 کے ضمنی انتخابات اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران جو کام انہوں نے کرائے، ان کی ادائیگی تاحال نہیں ہوئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی انتخابات قریب ہیں، مگر حکومت نے اب تک ان کے کروڑوں روپے کے بقایہ جات ادا نہیں کیے۔ مجموعی طور پر، ان کے مطابق، یہ رقم سینکڑوں کروڑ روپے بنتی ہے۔ٹھیکیدار مُرتیُنجے مکھوپادھیائے نے بتایا کہ مالی تنگی کے باعث کئی ٹھیکیدار اب وجود کے بحران کا شکار ہیں۔ بعض کو تو خودکشی کی نوبت تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا،”بہت سے ٹھیکیدار اپنے مزدوروں کو تنخواہ نہیں دے پا رہے، اور اگر یہی حالت رہی تو آئندہ دنوں میں مزدوروں کی ادائیگی بالکل بند ہو جائے گی۔“انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ٹھیکیدار خود کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں، کچھ کی بیویاں کینسر سے لڑ رہی ہیں، مگر پیسے کی کمی کی وجہ سے علاج ممکن نہیں۔ اگر حکومت نے جلد ہی ادائیگی نہیں کی تو ہم پانی کی سپلائی جاری نہیں رکھ پائیں گے، جس سے آسنسول علاقے میں شدید پانی کا بحران پیدا ہوگا اور یہ کوئی قدرتی نہیں بلکہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا،”حکومت نے ہم سے کام کروا کر ہمیں سڑک پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر مزدور بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر آمادہ ہوں تو ہمیں اعتراض نہیں، لیکن فی الحال حالات بہت خراب ہیں۔“ٹھیکیداروں کا یہ دھرنا صبح 11 بجے شروع ہو کر دوپہر 2 بجے تک جاری رہا۔