آسنسول میونسپل کارپوریشن کے صفائی کارکنوں نے اپنی مختلف مطالبات کو لے کر جمعہ کی صبح سے شدید احتجاج شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں کارپوریشن کا کام کاج مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا۔ صبح تقریباً 6 بجے ہی میونسپل کارپوریشن کے تحت کام کرنے والے صفائی کارکن دفتر کے احاطے میں جمع ہو گئے اور مرکزی دروازے کا گھیراؤ کر کے دھرنا دیا۔
احتجاجی کارکنوں کا الزام ہے کہ طویل عرصے سے ان کی پروویڈنٹ فنڈ (پی ایف) کی رقم جمع نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے ان کا معاشی مستقبل غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت صرف 9 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے، جو مہنگائی کے اس دور میں خاندان چلانے کے لیے ناکافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہ بڑھا کر کم از کم 20 ہزار روپے ماہانہ کی جائے۔
اس کے علاوہ صفائی کارکنوں نے مستقل شناختی کارڈ جاری کرنے اور ای ایس آئی کے تحت طبی سہولت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ احتجاجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار اپنی مشکلات انتظامیہ کے سامنے رکھ چکے ہیں، لیکن کوئی شنوائی نہ ہونے کے باعث انہیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ دوسری جانب، آسنسول میونسپل کارپوریشن کے ایم آئی سی گرداس چٹرجی نے کہا کہ اس معاملے پر میئر کے ساتھ مسلسل بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارپوریشن کی آمدنی اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کارکنوں کو حتی المقدور تنخواہ دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ایک سمجھوتہ بھی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق بعض ملازمین کی جانب سے پین کارڈ جیسے ضروری دستاویزات جمع نہ کرنے کی وجہ سے تکنیکی مسائل پیش آ رہے ہیں۔ فی الحال میونسپل انتظامیہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی









