Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*”آواز” صوبائی کمیٹی سول سروس امتحان کے نئے پیٹرن سے فکر مند ۔سعید الحق*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*نئے پیٹرن سے اردو،ہندی اور سنتھالی لسانی اقلیتوں کی حق تلفی ۔*
————————————–
مذہبی اور لسانی اقلیتوں کی تنظیم آواز پسچھم بردوان ضلع سکریٹری جناب نعمان اسفر خان سےملی جانکاری کے مطابق آواز صوبائی کمیٹی کے صدر سابق رکن پارلیمنٹ پروفیسر سعید الحق اور صوبائی سیکریٹری جناب روح الامین غازی نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ
“آواز” اسٹیٹ کمیٹی تشویش کے ساتھ اس امر کا اعلان کرتی ہے  کہ مغربی بنگال پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ 2025 کے مغربی بنگال سول سروسز امتحان کے لیے شائع کردہ نوٹیفکیشن نے مرکزی امتحان کے “پرچہ-اے” میں تمام امیدواروں کے لیے 300 نمبروں کی بنگالی/نیپالی زبان کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس سال اردو، ہندی اور سنتالی زبانوں کو لازمی پرچہ سے ہٹا دیا گیا ۔
آواز اسٹیٹ کمیٹی  گزشتہ کئی سالوں سے اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہے کیونکہ اس سے اردو/ہندی/سنتالی بولنے والے بچوں کو بڑی مشکل میں ڈال دیا گیا ہے اور ان کے حقوق کی حق تلفی کی گئی ہے ۔
آواز اسٹیٹ کمیٹی ہماری ریاست میں بنگالی زبان کو رائج کرنے کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ ہم سب بلا تفریق بنگلہ زبان سبھی اسکولوں میں شروع کرنے کے حق میں ہوں۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے 5/6 سال کی تیاری درکار ہوتی ہے۔ سب سے پہلے، ریاستی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام حکومت کے زیر انتظام ہندی/اردو/سنتالی زبان کے تعلیمی اداروں میں بنگالی زبان کے اساتذہ کا تقرر کرے تاکہ وہ لڑکے اور لڑکیاں بنگالی زبان سیکھ سکیں۔ تب ہی بنگالی/نیپالی زبان کو لازمی قرار دیا جائے۔
کچھ سال پہلے جب ویسٹ بنگال پبلک سروس کمیشن نے اسی کوشش کو اپنانے کی کوشش کی تو ریاست بھر میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ آواز ریاستی کمیٹی نے  اس کی مخالفت کی۔ تحریک کے دباؤ میں ریاستی حکومت نے سرکلر واپس لے لیا۔
اس سال وہی نوٹیفکیشن دوبارہ جاری کر دیا گیا ہے اور WBCS امتحان میں تمام امیدواروں کے لیے بنگالی/نیپالی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
آواز اسٹیٹ کمیٹی اس نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے اور گزشتہ سال کی طرح سابقہ ​​انتظامات کو جاری رکھنے کی اپیل کر رہی ہے۔
اگر حکومت ایسا نہیں کرتی ہے تو اس کے خلاف تمام ہم خیال شہریوں،طلبہ طالبات،نوجوانوں اور لسانی اقلیتوں کو ساتھ لے کر زبردست تحریک شروع کی جائے گی ۔