Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

اسمبلی انتخابات سے قبل آسنسول کے کلٹی حلقہ میں سیاسی جوڑ توڑ تیز، بی جے پی اور ترنمول میں طاقت کا مظاہرہ

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

آنے والے کے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی دَل بدل کا کھیل تیز ہو گیا ہے۔ صنعتی شہر آسنسول کا کلٹی اسمبلی حلقہ ان دنوں سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں دو بڑی جماعتوں کے درمیان طاقت کا کھلا مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
دو روز قبل سومک بھٹاچایہ کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کلٹی میں “پریورتن یاترا” نکالی تھی۔ اس موقع پر منعقدہ جلسہ میں ترنمول کانگریس کے مقامی لیڈر بریشور آچاریہ سمیت مختلف جماعتوں کے 500 سے زائد کارکنان نے بی جے پی کی رکنیت اختیار کی۔ بی جے پی نے اسے بڑی سیاسی کامیابی قرار دیتے ہوئے حکمراں جماعت کے لیے بڑا جھٹکا بتایا تھا۔ تاہم، صرف دو دن بعد ترنمول کانگریس نے اسی علاقے میں بڑا پروگرام منعقد کر کے جوابی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ نعمت پور کے اگرسین بھون میں منعقدہ تقریب میں ریاستی وزیر مولاے گھٹک کی قیادت میں بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 350 کارکنان و حامی ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے۔ اس موقع پر فارورڈ بلاک کے سابق کونسلر دیویندو رائے اور بی جے پی کی سابق کونسلر شاردہ ساہو نے بھی ترنمول کانگریس کا دامن تھام لیا۔ پروگرام میں اے ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین اُجول چٹرجی، ضلع لیڈر سبراَت سنہا، بلاک صدر بادل پوتنڈی اور کنچن رائے سمیت کئی رہنما موجود تھے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مولائے گھاٹک نے کہا کہ یہ پروگرام “یوگدان میلہ” میں تبدیل ہو گیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ بی جے پی، کانگریس اور بائیں محاذ کو چھوڑ کر ترنمول میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممتا بنرجی کی قیادت اور ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر عوام پارٹی سے جڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2014، 2016 اور 2021 میں بی جے پی بنگال میں کامیاب نہیں ہو سکی اور 2026 میں بھی ترنمول 250 سے زائد نشستیں جیت کر چوتھی بار حکومت بنائے گی۔ وزیر نے کارکنان کو ووٹر لسٹ کے کام پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی بنگال کے لوگوں کو “بنگلہ دیشی” اور “روہنگیا” کہہ کر توہین کرتی ہے، جس کا جواب عوام آئندہ انتخابات میں دیں گے۔ سیاسی ذرائع کے مطابق، بی جے پی کی پریورتن یاترا کے بعد ترنمول کی اعلیٰ قیادت نے ضلعی یونٹ کو تنظیم مضبوط کرنے اور جوابی حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دی تھی۔ اسی کے تحت ترنمول نے فعال رکنیت مہم چلا کر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے اسمبلی انتخابات قریب آئیں گے، دَل بدل کی یہ سرگرمیاں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کلٹی سمیت آسنسول خطہ میں جاری یہ سیاسی ہلچل 2026 کے انتخابی نتائج پر کتنا اثر ڈالتی ہے۔