جیسے جیسے اسمبلی انتخابات کا دن قریب آ رہا ہے، ویسے ویسے مغربی بنگال کی سیاست میں گرمی بڑھتی جا رہی ہے۔ درگاپور کے وارڈ نمبر 16 کے دھانداباگ بگان پاڑہ علاقے میں اس وقت شدید کشیدگی پھیل گئی جب ترنمول کانگریس نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کارکنوں نے ترنمول کا پارٹی جھنڈا نالے میں پھینک دیا۔
ترنمول کے مطابق بی جے پی کی جانب سے ایک سنکلپ سبھا کی تیاری کے دوران یہ واقعہ پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں تناؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اطلاع ملتے ہی درگاپور تھانے کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ ترنمول کارکنوں کا الزام ہے کہ بی جے پی کے چند شرپسند عناصر نے رات کے اندھیرے میں ترنمول کا پارٹی جھنڈا اتار کر نالے میں پھینک دیا۔ اتوار کے روز جب یہ منظر مقامی لوگوں کی نظر میں آیا تو علاقے میں ہلچل مچ گئی اور ترنمول کے کارکن اور حامی سراپا احتجاج بن گئے۔
اس معاملے پر ترنمول کے سابق بلدیاتی نمائندے پلب ناگ اور سشیل چٹرجی نے کہا: “اگر ترنمول کے کارکن چاہیں تو آدھے گھنٹے میں اس کا جواب دے سکتے ہیں، مگر ہم گندی سیاست نہیں کرتے۔ تاہم جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، ورنہ ہم بڑے پیمانے پر تحریک شروع کریں گے۔”
دوسری جانب، ضلع بی جے پی کے ترجمان سمنت منڈل نے ترنمول کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “ترنمول میں اندرونی گروہی تصادم مسلسل چل رہا ہے۔ خود ہی اپنے پارٹی جھنڈے نالے میں پھینک دیے گئے ہیں اور اب بی جے پی پر الزام لگا کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ترنمول کی پرانی سیاسی روایت ہے۔” واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور پولیس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سیاسی جماعتوں کے آمنے سامنے آنے سے انتخابی ماحول مزید گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔










