بدھ کے روز انڈال ایئرپورٹ علاقے میں واقع ایک نجی انگلش میڈیم اسکول کے ہاسٹل سے نویں جماعت کے ایک طالب علم کی لاش برآمد ہونے سے سنسنی پھیل گئی۔ متوفی طالب علم کی شناخت 15 سالہ ماجِد انصاری کے طور پر ہوئی ہے، جو ضلع پرولیا کے نِتوریا تھانہ علاقے کا رہنے والا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ماجد انصاری گزشتہ پانچ برسوں سے اسی اسکول میں زیرِ تعلیم تھا اور اس وقت نویں جماعت میں پڑھ رہا تھا۔ وہ اسکول کے اپنے ہاسٹل میں مقیم تھا۔ متوفی کے والد مبارک انصاری نے بتایا کہ بدھ کی سہ پہر تقریباً چار بجے اسکول کی جانب سے فون آیا اور کہا گیا کہ ماجد کی طبیعت خراب ہے اور اسے درگاپور کے گاندھی موڑ کے قریب ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں فوری پہنچنے کو کہا گیا۔ تاہم جب وہ اسپتال پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے کی موت ہو چکی ہے۔
ہاسٹل ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح ماجد نے اپنے ساتھی طلبہ کے ساتھ ناشتہ کیا تھا۔ دیگر طلبہ اسکول چلے گئے، لیکن ماجد ہاسٹل میں ہی رک گیا اور اسکول نہیں گیا۔ دوپہر تقریباً ڈھائی بجے ساتھی طلبہ نے ہاسٹل کے ایک مخصوص کمرے کی کھڑکی کی گرِل سے لٹکی ہوئی حالت میں ماجد کو دیکھا۔ فوری طور پر اسے اتار کر درگاپور کے گاندھی موڑ کے قریب ایک نجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی انڈال تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش شروع کر دی۔ ادھر متوفی کے والد اور دیگر اہلِ خانہ نے اسکول انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ متوفی کے رشتہ دار مالک انصاری نے کہا کہ ہاسٹل میں بچوں کی دیکھ بھال کی پوری ذمہ داری اسکول انتظامیہ کی ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں ان کی غفلت کے باعث ایک گھر کا چراغ بجھ گیا۔
پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور واقعے کی ہر زاویے سے جانچ کی جا رہی ہے۔





