مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی شروع ہوتے ہی صنعتی علاقے کا سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ منگل کے روز آسنسول کے بارابنی اسمبلی حلقہ کے تحت چنچوڑیا گاؤں کے باؤری پاڑہ علاقے میں ترنمول کانگریس کے امیدوار بدھان اپادھیائے کے پوسٹر اور فلیکس بینر پھاڑے جانے کو لے کر زبردست کشیدگی پھیل گئی۔ اس واقعہ کے بعد حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق بارابنی کے نونی پنچایت کے تحت آنے والے چنچوڑیا گاؤں کے باؤری پاڑہ میں ترنمول امیدوار بدھان اپادھیائے کی حمایت میں کئی فلیکس اور پوسٹر لگائے گئے تھے۔ الزام ہے کہ سوموار کی رات نامعلوم شرپسند عناصر نے ان تمام فلیکس کو پھاڑ دیا۔
منگل کی صبح جیسے ہی معاملہ سامنے آیا، ترنمول کارکنان اور حامیوں میں شدید غصہ دیکھنے کو ملا۔ اطلاع ملتے ہی نونی گرام پنچایت کے پردھان مادھو تیواری فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ انہوں نے اس واقعہ کے لیے براہ راست بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ
“بی جے پی علاقے میں دہشت اور خوف کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔ ہمارے امیدوار کے فلیکس پھاڑ کر گندی سیاست کی جا رہی ہے، لیکن اس طرح بدھان اپادھیائے کو روکا نہیں جا سکتا۔ وہ 40 سے 50 ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کریں گے۔”
انہوں نے مزید انتباہ دیا کہ اگر اس طرح کے واقعات بند نہ ہوئے تو ترنمول کارکن بھی نونی موڑ سے لال گنج تک بی جے پی کے تمام پوسٹر دن کی روشنی میں پھاڑ دیں گے۔
مقامی ترنمول کارکن پوتر رائے نے کہا کہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر یہ حرکت کی گئی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ زعفرانی کیمپ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے پارٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔










