Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بارابنی میں ٹریکٹر کی ٹکر سے سائیکل سوار ہلاک، معاوضے کے مطالبے پر مقامی لوگوں کا سڑک جام*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

مغربی بردوان ضلع کے بارابنی تھانہ علاقے کے پانچگچھیا کے نونی موڑ پر اینٹوں سے لدا ایک ٹریکٹر سائیکل سوار کو ٹکر مارنے سے اس کی موت ہوگئی۔ منگل کی صبح پیش آئے اس افسوسناک سڑک حادثے کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ مہلوک شخص کی شناخت چِنچوڑیا گھوش پاڑہ باشندہ دھیریں گھوش (55) کے طور پر ہوئی ہے۔ حادثے کے بعد مشتعل مقامی باشندوں نے معاوضے کے مطالبے کو لے کر سڑک جام کر کے احتجاج شروع کر دیا۔ اطلاع ملنے پر بارابنی تھانہ پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں دوپہر کے وقت مہلوک کی لاش کو آسنسول ضلع اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا۔
مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ اس علاقے میں اکثر سڑک حادثات پیش آتے رہتے ہیں، لیکن پولیس انتظامیہ کی طرف سے کوئی موثر نگرانی نہیں کی جاتی۔ ان کا کہنا ہے کہ بھاری گاڑیوں کی بے قابو آمد و رفت کی وجہ سے عام لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، چِنچوڑیا گھوش پاڑہ کے رہنے والے دھیریں گھوش منگل کی صبح کام ختم کر کے سائیکل سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ اسی دوران نونی موڑ کے قریب ایک مقامی اینٹ بھٹے سے آنے والا اینٹوں سے لدا ٹریکٹر انہیں ٹکر مار بیٹھا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد ٹریکٹر بے قابو ہو کر سڑک کے کنارے جا گھسا جبکہ ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔ مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ مہلوک کے خاندان کو محض 40 ہزار روپے دینے کی بات کہی گئی ہے، جس پر لوگوں میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے ایسے حادثات پیش آ رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ٹریکٹر کے مالک کو سامنے لایا جائے اور مہلوک کے خاندان کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جائے گی۔ بعد میں پولیس کی مداخلت سے صورتحال قابو میں آ گئی۔ پولیس نے بتایا کہ ٹریکٹر کے مالک اور ڈرائیور کی تلاش جاری ہے اور مہلوک کے خاندان کو معاوضہ دینے کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔