Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بجرنگ دل : سیکیولر بھارت کی کمیونل تصویر*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بجرنگ دل : سیکیولر بھارت کی کمیونل تصویر*

*محمد دیپک: فرقہ وارانہ منافرت کے سامنے ہمت، عزم و استقلال کا استعارہ*

*بجرنگ دل اور ریاستی سرپرستی: بھارتی جمہوریت کے لیے ایک چیلنج*

*ازقلم: اسماء جبین فلک*

اتراکھنڈ کے سرسبز پہاڑوں کے دامن میں واقع کوٹ دوار شاید کبھی قومی شہ سرخیوں کا حصہ بننے کے لیے نہیں بنا تھا۔ یہ ایک معمولی تجارتی شہر ہے جہاں بدری ناتھ روڈ سے گزرنے والے زائرین اور مقامی متوسط طبقہ روزمرہ کی زندگی میں مصروف رہتا ہے۔ مگر جنوری 2026 کے آخری ہفتے میں “بابا اسکول ڈریس” نامی ایک پرانی دکان کے سائن بورڈ پر لکھا ہوا محض ایک لفظ “بابا” اچانک اس خطے میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا سیاست، بجرنگ دل کی زور آزمائی اور ریاستی اداروں کی جانبداری کا استعارہ بن گیا۔ دکاندار وکیل احمد کے بقول، تقریباً 30 برس سے چلی آنے والی اس دکان کے نام پر کچھ نوجوان، جو خود کو بجرنگ دل کے کارکن کہہ رہے تھے، اچانک ٹوٹ پڑے اور الزام لگایا کہ لفظ “بابا” ہندو دیوتا بابا سدھ بالی کی توہین ہے۔ انہوں نے دکان کا نام بدلنے یا نتائج بھگتنے کی دھمکی دی، جس پر احمد نے پولیس سے تحریری شکایت کی اور پہلی ایف آئی آر درج ہوئی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اس کہانی میں ایک دوسرا کردار داخل ہوا، کوٹ دوار کا 46 سالہ جم ٹرینر دیپک کمار، جو خود کو محمد دیپک بھی کہتا ہے۔ بھارت ٹائمز اور دیگر ذرائع کے مطابق، دیپک اس وقت منظر پر آئے جب انہوں نے دکاندار کے ساتھ کھڑے ہو کر بجرنگ دل کے کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی۔ جب ان سے نام پوچھا گیا تو انہوں نے صاف الفاظ میں جواب دیا کہ میرا نام محمد دیپک ہے۔ ایک جم ٹرینر، جو اپنے شاگردوں کو جسمانی طاقت سکھاتا تھا، اچانک شہری ہمت اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک علامت بن گیا۔ اگلے چند دنوں میں وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ کس طرح لوگوں کا ہجوم، جن میں بجرنگ دل کے کارکن بھی شامل بتائے جاتے ہیں، پولیس کی موجودگی میں اس کے جم کے باہر جمع ہو کر نعرے بازی کرتا ہے، اور سوشل میڈیا پر “محمد دیپک” بھارت کا مقبول ترین نام بن جاتا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، اس کشیدگی کے جواب میں دو الگ ایف آئی آرز درج ہوئیں، ایک وکیل احمد کی شکایت پر ان نوجوانوں کے خلاف جو دکان کا نام بدلوانے آئے تھے، اور دوسری 30 تا 40 نامعلوم افراد کے خلاف جو 31 جنوری کو گاڑیوں کے قافلے کی شکل میں آئے، قومی شاہراہ 534 کو بند کیا، پولیس سے الجھے اور اشتعال انگیز نعرے لگائے۔ ان پر نئے بھارتی فوجداری قانون کی دفعات 191(2)، 196(2)، 121(2)، 126(2)، 352 اور فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ 1934 کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ نیوز 18 کی ایک رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ ایک علیحدہ مقدمے میں جم ٹرینر دیپک کمار سمیت 35 افراد کو بھی نامزد کیا گیا، جن میں بجرنگ دل کارکن بھی شامل تھے، اگرچہ نو بھارت ٹائمز کے متن میں دیپک کا نام بطور ملزم واضح طور پر درج نہیں۔ اس اختلاف کے باوجود ایک بات واضح ہے کہ جس شخص نے ایک کمزور اور معمر دکاندار کے لیے آواز بلند کی، وہ خود بھی قانونی اور سیاسی تنازع کے دائرے میں کھینچ لیا گیا۔
اس قضیے کی ایک اور ہولناک جہت میڈیا کے ساتھ ریاستی سلوک ہے۔ یوٹیوب چینل “دی ریڈ مائیک” کی زمینی رپورٹ میں واضح طور پر دکھایا گیا کہ کس طرح پولیس نے دیپک کے جم اور گھر کے اطراف رکاوٹیں لگا کر صحافیوں کو اندر جانے سے روکا، اور نامہ نگاروں کے بار بار سوال کے باوجود انہیں متاثرہ شخص تک مکمل رسائی نہیں دی گئی۔ ویڈیو میں ایس ایس پی پوڑی سرویش پانور کی وہ اخباری بریفنگ بھی شامل ہے جس میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میڈیا کو روکے جانے کی خبریں محض افواہ ہیں، جبکہ اسی رپورٹ میں پولیس اہلکاروں کو کیمرے پر برہم اور جھنجھلائے ہوئے انداز میں صحافیوں کو واپس دھکیلتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تضاد رسمی سنسرشپ کے بجائے عملی طور پر میڈیا بلیک آؤٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کا مقصد زمینی حقیقت کو قابو کرنا اور بجرنگ دل کے خلاف بیانیے کو کمزور کرنا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک مقامی تنازع نہیں بلکہ اس وسیع تر تناظر کا حصہ ہے جس میں بجرنگ دل جیسی تنظیمیں بھارت کے سیاسی و سماجی ڈھانچے میں غیر معمولی طاقت حاصل کر چکی ہیں۔ بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد کی نوجوانوں پر مشتمل شاخ ہے، جو 1984 میں رام جنم بھومی تحریک کے لیے عسکری طاقت فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی۔ اس کا نظریاتی رشتہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے جڑا ہوا ہے، اور پچھلی چار دہائیوں میں اس کا کردار رام مندر مہم سے بڑھ کر اخلاقی پولیسنگ، لو جہاد کے نام پر تشدد، گائے کے تحفظ کے نام پر ہجومی حملے، اور اقلیتوں کے مذہبی اجتماعات پر حملوں تک پھیل چکا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں نے گجرات میں 1998 کے مسیحی مخالف حملوں، 2002 کے مسلم کش فسادات اور بعد کے برسوں میں گائے کے نام پر تشدد میں بجرنگ دل اور سنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں کے کردار پر تفصیلی رپورٹیں شائع کی ہیں۔ 2025 میں ایونجلیکل فیلوشپ آف انڈیا کی مذہبی آزادی کے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق محض جنوری تا جولائی کے دوران مسیحی برادری کے خلاف 334 مصدقہ حملے ریکارڈ ہوئے، جن میں کم از کم ایک واقعہ ایسا تھا جہاں چھ پادریوں کو چرچ پر حملے کے بعد جیل کے اندر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس حملے میں مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنوں نے چرچ کا محاصرہ کیا تھا۔ اسی طرح وکی پیڈیا پر جمع دستاویزی ریکارڈ میں 2025 کے دوران دو راہباؤں کو اسمگلنگ کے جھوٹے الزام میں پھنسانے، اوڈیشہ میں ایک مسیحی پادری پر حملہ اور کرسمس تقریبات پر دھاوا بولنے جیسے واقعات میں بھی بجرنگ دل کے کارکنوں کے ملوث ہونے کا ذکر ہے۔
مسئلہ محض یہ نہیں کہ ایسی انتہا پسند تنظیمیں موجود ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ انہیں کس درجے کی ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔ پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک رائٹس نے 2008 میں اپنی مشہور رپورٹ “بجرنگ دل پر پابندی کیوں؟” میں صاف لکھا کہ وی ایچ پی اور بجرنگ دل وسیع ریاستی سرپرستی کے ساتھ خود کو سزا سے بالاتر سمجھتے ہیں، اور مرکزی و ریاستی حکومتیں ان کے ہاتھوں قتل، آبروریزی، آگ زنی اور لوٹ مار جیسے سنگین جرائم کو دانستہ طور پر کم تر دکھاتی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں کبھی مکمل قانونی گرفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ جملے اس وقت لکھے گئے تھے جب بی جے پی مرکز میں اتنی مضبوط نہیں تھی، آج جب پارٹی لگاتار 11 برس سے وفاقی سطح پر اقتدار میں ہے، تو سرپرستی کی یہ نوعیت اور زیادہ گہری اور منظم ہو چکی ہے۔
حالیہ برسوں کے اعداد و شمار اس رجحان کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ “انڈیا ہیٹ لیب” نامی ریسرچ پروجیکٹ کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس سال بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف 1318 براہ راست نفرت انگیز تقاریر کے واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل سب سے زیادہ سرگرم تنظیمیں رہیں، اور مجموعی طور پر 289 تقریبات، یعنی تقریباً 22 فیصد، کے ساتھ وہ سرِ فہرست تھیں۔ یہی رپورٹ بتاتی ہے کہ اپوزیشن کی حکومت والی 7 ریاستوں میں ایسے واقعات کی تعداد 154 رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی ہے، جب کہ مجموعی سطح پر قابلِ ذکر اضافہ ہوا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اور اجتماعات کا بوجھ زیادہ تر وہ خطے اٹھا رہے ہیں جہاں حکمراں جماعت یا اس کے اتحادی برسرِ اقتدار ہیں۔
فرقہ وارانہ تشدد کے جسمانی مظاہر، فسادات اور ہجومی حملے، بھی اسی کہانی کو دہراتے ہیں۔ سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، ملک میں 59 فرقہ وارانہ فسادات رپورٹ ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں 84 فیصد اضافہ ہے۔ ساتھ ہی 12 تا 13 ہجومی تشدد کے واقعات میں 10 یا 11 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت مسلمان تھی۔ ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کی “انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر” رپورٹس نے 2025 کی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں مسلمانوں پر ہندو انتہا پسند غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں درجنوں حملوں اور کم از کم 20 سے زائد اموات ریکارڈ کیں، جب کہ ریاستی اداروں کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل، اجتماعی گرفتاریوں اور جبری بے دخلیوں کو الگ شمار کیا گیا۔ ان رپورٹس میں ہر واقعے کو بجرنگ دل سے منسوب نہیں کیا گیا، لیکن بجرنگ دل انہی ہندو قوم پرست جتھوں کا اہم حصہ ہے جنہیں مجموعی طور پر اس تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
قانونی تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی سپریم کورٹ نے 2018 کے مشہور مقدمہ “تہسین پونہ والا بنام یونین آف انڈیا” میں واضح طور پر کہا تھا کہ ہجومی تشدد روکنا، نشانہ بننے والی برادریوں کا تحفظ، ملزمان کی گرفتاری اور سرکاری اہلکاروں کی جواب دہی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، اور اس میں ناکامی کو عدالت نے آئینی اصولوں سے انحراف قرار دیا۔ کوٹ دوار کا واقعہ، جہاں پولیس کو پیشگی خفیہ اطلاع کے باوجود بجرنگ دل کے کارکنوں کو قافلے کی شکل میں شہر میں داخل ہونے، نعرے بازی کرنے اور جم مالک کو گھیرنے سے روکنے میں ناکام یا بے دل دیکھا گیا، اسی عدالتی معیار کے خلاف کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔ اس کے برعکس، جس جم ٹرینر نے ایک کمزور دکاندار کا ساتھ دیا اور “محمد” اور “دیپک” دونوں شناختوں کو ایک ساتھ اپنا کر فرقہ وارانہ تقسیم کو چیلنج کیا، وہ خود پولیس کیسوں اور میڈیا کے متضاد بیانیوں کے بیچ گھِر گیا۔
میڈیا کا کردار یہاں دوہرا دباؤ جھیل رہا ہے۔ ایک طرف گودی میڈیا کا وہ حصہ ہے جو بجرنگ دل اور ملحقہ تنظیموں کی کارروائیوں کو یا تو نظر انداز کرتا ہے یا انہیں ہندو جذبات کے نام پر جائز ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے، دوسری جانب دی ریڈ مائیک جیسے آزاد پلیٹ فارمز ہیں جنہیں مقامِ وقوعہ تک پہنچنے سے روکا جاتا ہے، کیمروں کے سامنے پولیس اہلکار خود ان کی راہ روکتے ہیں، اور بعد میں اعلیٰ افسر یہ کہہ کر سارا معاملہ جھٹلا دیتے ہیں کہ کوئی پابندی نہیں تھی۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ مسئلہ صرف بجرنگ دل کا نہیں، بلکہ ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کا ہے جو سچ بولنے والوں کو حاشیے پر دھکیل کر کنٹرول شدہ بیانیے کے حق میں جھوٹ کی سرپرستی کرتا ہے۔
کوٹ دوار کی فضا میں، جہاں ایک طرف “بابا اسکول ڈریس” کے ادھیڑ عمر مالک وکیل احمد اپنے کاروبار اور محفوظ شناخت کے لیے فکرمند ہیں، وہیں دوسری طرف محمد دیپک نامی جم ٹرینر اپنے شاگردوں کے بیچ اب صرف فٹنس کوچ نہیں بلکہ شہری مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔ بی بی سی ہندی کی ایک رپورٹ میں اس واقعے کے بعد وکیل احمد اور محمد دیپک کی پہلی بالمشافہ ملاقات کو دو مختلف نسلوں اور دو مختلف سماجی طبقات کے درمیان خوف کے ماحول میں ابھرتی ہوئی یکجہتی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ تصویر اس کہانی کا سب سے امید افزا پہلو ہے، لیکن یہی وہ منظر بھی ہے جو ہندوتوا سیاست کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے، اس لیے کہ اگر ایک ہندو جم ٹرینر کھل کر ایک مسلمان دکاندار کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے تو نفرت کی پوری عمارت ہلنے لگتی ہے۔
نتیجتاً، بجرنگ دل کو صرف ایک بے لگام جتھہ کہہ کر بات مکمل نہیں ہوتی، اصل مسئلہ اس سیاسی و ریاستی منصوبے کا ہے جس نے ایسے جتھوں کو نہ صرف پیدا کیا بلکہ انہیں تحفظ اور ابلاغی مدد بھی فراہم کی۔ جب تفتیشی ایجنسیاں، پولیس افسران اور حکمراں سیاست دان کسی غیر ریاستی تنظیم کو قوم پرست جذبات کا علم بردار بنا کر اس کے تشدد کو نظر انداز کرتے ہیں، تو درحقیقت وہ آئین کے سیکولر اور جمہوری وعدوں کو عملاً منسوخ کر رہے ہوتے ہیں۔ کوٹ دوار میں وکیل احمد اور محمد دیپک کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ایک شہر کی مقامی کہانی ضرور ہے، مگر اس میں پورے بھارت کی موجودہ سمت کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ اگر ریاست بجرنگ دل جیسے گروہوں کو قانون کی حقیقی گرفت میں نہیں لاتی، آزاد میڈیا پر غیر مرئی تالے نہیں ہٹاتی، اور محمد دیپک جیسے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح نہیں دیتی، تو بھارت عالمی سطح پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کم اور منظم ہجومی حکمرانی کی ایک عملی تجربہ گاہ زیادہ نظر آنے لگے گا۔