برن پور کے 14 سالہ لڑکے شبھم اگروال کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں آسنسول کی عدالت نے آج اہم فیصلہ سناتے ہوئے بٹّو منڈل اور اس کے ماموں اُدے منڈل کو عمر قید کی سزا سنائی۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ 26 مارچ 2023 کو پیش آیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران ثابت ہوا کہ شبھم اگروال 26 مارچ کو گھر سے کھیلنے کے لیے نکلا تھا، مگر اس کے بعد لاپتہ ہوگیا۔ دو دن بعد اس کی لاش دامودر ندی کے کنارے جھاڑیوں میں ایک بوری کے اندر بند حالت میں برآمد ہوئی۔ واقعے کے بعد ہیراپور تھانے کی پولیس نے تفتیش شروع کی، جس میں انکشاف ہوا کہ اس قتل میں مقتول کے دوست، اس کے بڑے بھائی بٹّو منڈل اور دونوں کے ماموں اُدے منڈل ملوث تھے۔
پولیس کے مطابق شبھم کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا، مگر اغوا کے دوران منہ پر ٹیپ باندھنے کی وجہ سے بچے کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد ملزمان نے لاش کو بوری میں بند کرکے دامودر ندی کے کنارے پھینک دیا، جبکہ مقتول کا موبائل فون آسنسول ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر سات کے قریب پھینک دیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اغوا کے بعد ملزمان نے مقتول کے موبائل سے اس کی تصویر کھینچ کر اہلِ خانہ کو بھیجنے کی کوشش کی، تاکہ تاوان کی رقم وصول کی جا سکے، مگر اس سے پہلے ہی بچے کی موت واقع ہوگئی۔
پولیس تفتیش میں ایک اور چونکا دینے والا انکشاف یہ ہوا کہ اغوا سے ایک دن پہلے بٹّو منڈل نے انڈال میں اپنی ایک دوست کو فون کرکے کہا تھا کہ وہ جلد امیر بننا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک بچے کو اغوا کرکے تاوان وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اس نوجوان لڑکی نے پوچھ گچھ کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے۔ اس کیس میں بٹّو منڈل کا چھوٹا بھائی بھی قصوروار پایا گیا ہے، تاہم وہ نابالغ ہونے کے سبب اس کے خلاف فیصلہ جووینائل عدالت میں سنایا جائے گا۔ عدالت کے آج کے فیصلے سے مقتول کے اہلِ خانہ کو کسی حد تک انصاف ملا ہے، جبکہ علاقے میں اس واقعے کو لے کر اب بھی گہرا صدمہ پایا جاتا ہے۔










