Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بنیامین نتن یاہو: تاریخِ انسانی کا سب سے سفاک دہشت گرد* *(خون سے رنگی اسرائیلی تاریخ کا شرمناک باب)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بنیامین نتن یاہو: تاریخِ انسانی کا سب سے سفاک دہشت گرد*

*(خون سے رنگی اسرائیلی تاریخ کا شرمناک باب)*

بقلم: *اسماء جبین فلک*

تاریخ کے ہر دور میں ایسے حکمران گزرے ہیں جن کے ہاتھوں انسانیت زخمی ہوئی؛ ہٹلر نے یہودیوں کا قتلِ عام کیا، پول پاٹ نے کمبوڈیا کو لاشوں کا قبرستان بنایا، اگوستو پنوشے نے چلی میں ہزاروں بے گناہوں کو تشدد اور موت کے گھاٹ اتارا؛ مگر یہ سب جرائم اپنے وقت کی اندھیری راتوں میں ہوئے، دنیا کو بعد میں پتہ چلا، تحقیقات ہوئیں اور سزا ملی یا نہ ملی۔ لیکن اکیسویں صدی میں، کیمروں کے سامنے، موبائل فون کی آنکھوں کے آگے، مصنوعی سیارہ تصاویر کی نگاہ تلے، ایک ایسے حکمران نے وہ جرائم کیے جو ہٹلر کو بھی شرمندہ کر دیں، اور اس کا نام ہے بنیامین نتن یاہو۔ یہ محض ایک صحافیانہ الزام نہیں، یہ اقوامِ متحدہ کی باضابطہ کمیشن آف انکوائری کا لکھا ہوا فیصلہ ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت کا جاری کردہ گرفتاری وارنٹ ہے، اور دنیا کے معتبر ترین اداروں کی دستاویزی گواہی ہے، اور یہ سب ایک ہی نتیجے پر ختم ہوتے ہیں کہ نتن یاہو تاریخِ انسانی کے سفاک ترین دہشت گردوں میں سے ایک ہے۔
نتن یاہو کی سیاسی زندگی کا آغاز 1988 سے ہوا جب وہ اسرائیلی پارلیمان میں پہنچا۔ 1996 میں پہلی بار وزیرِ اعظم بنا، 1999 میں اقتدار سے ہاتھ دھویا، پھر 2009 میں واپس آیا اور 2021 تک مسلسل برسرِ اقتدار رہا، اور 2022 میں پھر سے اقتدار میں آ گیا۔ مگر اس پورے سیاسی سفر کا ہر موڑ خون سے رنگا ہوا ہے۔ 1996 میں جب پہلی بار وزیرِ اعظم بنا تو اس نے اوسلو امن عمل کو عملاً سبوتاژ کیا وہ معاہدہ جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو ایک پرامن مستقبل دے سکتا تھا۔ 2014 میں غزہ پر 50 روزہ فوجی آپریشن کا حکم دیا جس میں بین الاقوامی طور پر فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد پر سخت تنقید ہوئی۔ 2006 کی لبنان جنگ سے لے کر 2024 کے لبنان پر زمینی حملے تک نتن یاہو کا ہر دورِ اقتدار ایک نئی تباہی لے کر آیا۔ اکتوبر 2024 میں اس نے لبنان میں زمینی آپریشن کا حکم دیا جس کا اعلان کردہ مقصد حزب اللہ کو تباہ کرنا تھا مگر زمین پر جو ہوا وہ ایک اور انسانی المیہ تھا۔ دسمبر 2024 میں شامی حکومت کے خاتمے کے بعد نتن یاہو نے شام پر بھی فوجی چڑھائی کا حکم دے دیا۔ یعنی غزہ، لبنان، شام ہر طرف آگ لگانا نتن یاہو کی خارجہ پالیسی کا خلاصہ ہے۔
غزہ کی داستان تو خون کے سمندر میں لکھی گئی ہے۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد نتن یاہو نے غزہ پر ایسی فوجی مہم شروع کی جس کی نہ کوئی نظیر تھی نہ کوئی اخلاقی حد۔ لینسٹ گلوبل ہیلتھ دنیا کا معتبر ترین طبی جریدہ تصدیق کرتا ہے کہ جنوری 2025 تک 75000 سے زائد فلسطینی تشدد سے ہلاک ہو چکے تھے۔ فروری 2026 تک یہ تعداد مزید بڑھتی رہی اور بعض آزاد ذرائع نے اسے ایک لاکھ سے زائد قرار دیا۔ مارچ 2025 میں 1516 صفحات پر مشتمل وہ دستاویز جاری ہوئی جس میں 50021 ہلاک افراد کے نام درج تھے اور اس دستاویز کے ابتدائی 350 صفحات صرف 16 سال سے کم عمر بچوں کے ناموں پر مشتمل تھے۔ غزہ کی پوری آبادی کا 3.4 فیصد صرف اسرائیلی بمباری سے موت کی نذر ہو گیا یعنی ہر 30 میں سے ایک انسان۔ 22 لاکھ کی پوری آبادی بے گھر ہوئی، اسپتال تباہ ہوئے، پانی کی لائنیں توڑی گئیں، اور امدادی قافلوں کو جان بوجھ کر روکا گیا۔ یہ دفاع نہیں یہ ایک پوری قوم کا منظم، سوچا سمجھا، حکومتی سطح پر منظور شدہ قتلِ عام ہے۔
جنگ بندیوں کی پامالی کا معاملہ نتن یاہو کے کردار کو اور بھی گھناؤنا بناتا ہے۔ جنوری 2025 میں غزہ میں جنگ بندی کا اعلان ہوا مگر اسرائیلی فوج نے پہلے ہی دن سے اسے توڑنا شروع کر دیا۔ اقوامِ متحدہ کو پیش کردہ رپورٹوں کے مطابق مارچ 2025 تک 1000 سے زائد جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں صرف جنوری 2025 کی جنگ بندی کے حوالے سے۔ اس کے بعد اکتوبر 2025 کی جنگ بندی آئی اور الجزیرہ کے مطابق اکتوبر 2025 سے فروری 2026 تک 1620 خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں جن میں شہریوں کو 560 مرتبہ نشانہ بنایا گیا، رہائشی علاقوں پر 749 مرتبہ بمباری ہوئی، اور 50 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔ نومبر 2025 کی لبنان جنگ بندی کے بعد بھی اقوامِ متحدہ نے تصدیق کی کہ 127 سے زائد شہری اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔ فلسطین کے مستقل مبصر نے اقوامِ متحدہ میں باضابطہ خط لکھا کہ ہزار سے زائد خلاف ورزیوں کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی کو مکمل طور پر پامال کر دیا اور دوبارہ قتل و تباہی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یعنی نتن یاہو نے نہ صرف جنگ بندی کی ایک بار خلاف ورزی کی بلکہ ہزاروں مرتبہ، منظم طریقے سے، جان بوجھ کر، بار بار امن کا گلا گھونٹا۔
لبنان کی داستان بھی کم دردناک نہیں۔ نومبر 2024 کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے اپنے وعدوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق دفتر نے نومبر 2025 کی بریفنگ میں کہا کہ اسرائیل کی منظم کارروائیاں اور شہریوں کا قتل امن کی کوششوں کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اپریل 2026 میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نازک سلسلہ جاری تھا، نتن یاہو نے سرِعام اعلان کیا کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی اور اس اعلان کے فوراً بعد لبنان پر ایسے حملے ہوئے جن میں 254 سے زائد افراد مارے گئے۔ لبنان میں مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیں تو اسرائیل کے تازہ حملوں کے بعد سے لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 1497 افراد ہلاک ہوئے جن میں 130 بچے شامل ہیں، 4639 زخمی ہوئے، اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کے امن دستے کا ایک سپاہی بھی اسرائیلی حملوں کی نذر ہوا۔ یہ وہ لبنان ہے جسے نتن یاہو نے بار بار نشانہ بنایا 2006 میں، 2024 میں، اور پھر 2026 میں۔
اور اب ایران وہ باب جو نتن یاہو کی درندگی کو ایک نئی، خوفناک سطح پر لے جاتا ہے۔ 28 فروری 2026 کو جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا نازک ترین دور جاری تھا، نتن یاہو نے امریکہ کے ساتھ مل کر 12 گھنٹوں میں تقریباً 900 حملے ایران پر کر دیے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب سفارت کاری کا دروازہ کھلا تھا، مذاکرات کی میز سجی تھی مگر نتن یاہو نے امن کی اس کوشش کو میزائلوں سے جواب دیا۔ ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق 2076 افراد ہلاک ہوئے جن میں 212 بچے اور 240 خواتین شامل تھیں، اور 26500 سے زائد زخمی ہوئے جن میں 1621 بچے تھے۔ ریڈ کراس کے مطابق ابتدائی ہلاکتیں 1900 تھیں جو بعد میں مزید بڑھیں۔ حملوں میں فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ اسکول، اسپتال، سرکاری عمارتیں اور ثقافتی ورثے کے مقامات بھی تباہ کیے گئے۔ آٹھ مہینے کے شیرخوار سے لے کر 88 سال کے بوڑھے تک ایران کی وہ فہرست جو ہلاک افراد کی ہے، اکیسویں صدی کی سب سے بڑی انسانی تباہیوں میں سے ایک ہے۔ اور یہ تباہی نتن یاہو کے حکم پر ہوئی ایسے وقت میں جب انسانیت امن چاہتی تھی۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 21 نومبر 2024 کو نتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں۔ عدالتی دستاویزات میں صراحت سے لکھا گیا کہ اس نے جان بوجھ کر 22 لاکھ شہریوں کو خوراک، پانی، ادویات، ایندھن اور بجلی سے محروم کیا۔ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا یہ صرف جنگی جرم نہیں، یہ انسانیت کے خلاف سب سے گھناؤنا جرم ہے کیونکہ اس میں بچے، بوڑھے، بیمار سب کو ایک آہستہ اذیت ناک موت کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ پھر مارچ 2026 میں اقوامِ متحدہ کی آزاد کمیشن آف انکوائری نے نسل کشی کا باضابطہ فیصلہ سنایا 1948 کے نسل کشی کنونشن کے چار معیارات پر اسرائیل کو مجرم پایا گیا۔ کمیشن کی سربراہ ناوی پلائے نے کہا کہ اسرائیل کی سب سے اعلیٰ قیادت نے دو سال تک قصداً نسل کشی کی مہم چلائی۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا اسرائیل نے حالیہ تاریخ میں بے مثال پیمانے پر شہریوں کو مارا اور بھوکا رکھا۔
نتن یاہو کے سیاسی کیریئر کا ایک اور گھناؤنا پہلو اس کا اپنے ذاتی اقتدار کے لیے جنگ کا استعمال ہے۔ وہ بدعنوانی کے تین سنگین مقدمات میں ملزم ہے رشوت، دھوکہ دہی، اور اعتماد کا غلط استعمال۔ اور جب بھی داخلی دباؤ بڑھا، جب بھی عدالتی شکنجہ کسا، تب تب اس نے باہر کی جنگ کو تیز کیا۔ یعنی غزہ، لبنان اور ایران کے شہریوں کا خون صرف کسی سلامتی کی قیمت نہیں یہ ایک مجرم سیاستدان کی کرسی بچانے کی قیمت بھی ہے۔ جب کوئی حکمران اپنی سیاسی بقا کے لیے دوسروں کے بچوں کا خون بہائے تو وہ صرف جنگجو نہیں، وہ تاریخ کا سب سے گھٹیا اور بزدل دہشت گرد ہے۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گرفتاری وارنٹ جاری کیے، اقوامِ متحدہ کی کمیشن نے نسل کشی ثابت کی، ہیومن رائٹس واچ نے بے مثال تباہی دستاویز کی، لینسٹ نے 75000 سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ کیں، لبنان میں 1497 مارے گئے، ایران میں 2076 مارے گئے، غزہ میں ہزاروں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور نتن یاہو آج بھی اقتدار میں ہے، آج بھی بم گرا رہا ہے، اور آج بھی خود کو جمہوریت کا محافظ کہلوا رہا ہے۔ یہ دنیا کے دوہرے معیار کی سب سے شرمناک دستاویز ہے اور یہ شرمندگی ان تمام حکومتوں کی ہے جنہوں نے وارنٹ کے باوجود نتن یاہو کی میزبانی کی، اس کا ہاتھ تھاما، اور خاموش رہیں۔
تاریخ کا فیصلہ سنانے کا وقت آ گیا ہے۔ ہٹلر کو جب یاد کیا جاتا ہے تو آنسو آتے ہیں مگر وہ آنسو لاکھوں یہودیوں کی یاد میں آتے ہیں۔ آنے والی نسلیں جب نتن یاہو کا نام سنیں گی تو وہ آنسو ان 350 صفحات کے بچوں کی یاد میں آئیں گے، ایران کے اس آٹھ ماہ کے شیرخوار کی یاد میں آئیں گے جو حملے میں مارا گیا، لبنان کی ان ماؤں کی یاد میں آئیں گے جن کی گودیں اجڑیں، غزہ کے ان 22 لاکھ انسانوں کی یاد میں آئیں گے جنہیں بھوک اور بموں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ نتن یاہو نے ثابت کیا کہ جب ریاستی طاقت کو ضمیر کے بغیر استعمال کیا جائے، جب قانون کو ہتھیار بنا کر انصاف کو قتل کیا جائے، اور جب دنیا کی آنکھوں کے سامنے خون بہایا جائے اور اسے دفاع کہا جائے تو تہذیب کے تمام دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ ہر جنگ بندی جو توڑی گئی، ہر بچہ جو ملبے میں دبا، ہر اسپتال جو راکھ ہوا، ہر قافلہ جو امداد لے کر چلا اور راستے میں تباہ ہو گیا یہ سب ایک نام کے حساب کی ابدی کتاب میں ثبت ہیں: بنیامین نتن یاہو تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا، سب سے بے شرم، سب سے سفاک اور سب سے مجرم چہرہ اور تاریخ اسے کبھی، کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔