*بھارت اور یورپی یونین: ایک نئی اقتصادی صبح کا آغاز*
*ٹرمپ-ٹیرف کے معاشی سائے اور یورپی منڈی کی اہمیت*
*بھارت کی یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری: چیلنجز اور ثمرات*
*بھارت کی عالمی معیشت میں نئی صف بندی اور آزاد تجارت کا نیا محاذ*
*مقامی صنعت بمقابلہ یورپی مصنوعات: توازن کی تلاش*
*ازقلم: اسماء جبین فلک*
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والا تازہ تجارتی معاہدہ ایک ایسے تاریخی لمحے میں سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت بیک وقت امریکی تحفظ پسندی، چینی صنعتی برتری اور روس یوکرین جنگ کے سائے میں نئی صف بندیاں کر رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد امریکہ کی سخت تجارتی پالیسی، جس کے تحت اگست 2025 سے متعدد بھارتی برآمدات پر 50 فیصد تک محصولات عائد کیے گئے، دہلی کے لیے یہ تلخ یاد دہانی تھی کہ واحد بڑی منڈی پر انحصار کسی بھی ابھرتی ہوئی طاقت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں بھارتی کرنسی کی کمزوری، جو 2026 کے آغاز پر 92 کے قریب کی سطح چھو چکی ہے، اس دباؤ کی معاشی جھلک پیش کرتی ہے۔ ایسے میں یورپی یونین کے ساتھ آزادانہ تجارتی معاہدہ صرف ایک اقتصادی قدم نہیں بلکہ ایک وسیع تزویراتی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جسے نیویارک ٹائمز نے بجا طور پر ٹرمپ کے سائے میں ابھرتی ہوئی شراکت داری قرار دیا ہے۔
یہ معاہدہ تقریباً دو دہائیوں پر محیط ایک طویل اور پیچیدہ مذاکراتی عمل کا حاصل ہے، جس کا آغاز 2007 میں ہوا اور 2013 میں اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ اس وقت بنیادی تنازعات میں یورپی گاڑیوں اور شراب پر بھارتی محصولات، دواسازی کی دانشورانہ املاک کے حقوق، خدمات کے شعبے تک رسائی اور ڈیٹا پروٹیکشن جیسے حساس موضوعات شامل تھے۔ 2021 میں مذاکرات کی بحالی کے بعد دونوں فریقین نے بتدریج اس سمت پیش رفت کی جس کا منطقی نتیجہ 2026 کا یہی معاہدہ ہے۔ یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک میں اس کی توثیق ابھی باقی ہے، لیکن سیاسی قیادت اسے پہلے ہی تمام تجارتی معاہدوں کی ماں کا نام دے چکی ہے، جو اس کی وسعت اور گہرائی دونوں کی علامت ہے۔
اعداد و شمار کی سطح پر دیکھا جائے تو یہ معاہدہ تقریباً 140 ارب ڈالر سالانہ کے موجودہ دوطرفہ تجارتی حجم کو 2030 تک کم از کم 220 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف سے جڑا ہوا ہے۔ دہلی اور برسلز دونوں اس امید کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ محصولات میں بڑے پیمانے پر کمی اور ضابطہ جاتی تعاون کے نتیجے میں تجارت میں دو طرفہ اعتماد بڑھے گا، سپلائی چین زیادہ مستحکم ہو گی اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔ معاہدے کے ڈھانچے کے مطابق یورپی یونین بھارتی برآمدات کے تقریباً 99 فیصد مالیتی حصے پر محصولات ختم یا نمایاں طور پر کم کرے گی، جبکہ بھارت تقریباً 97 فیصد یورپی برآمدات کے لیے یہی سہولت فراہم کرے گا، اگرچہ کچھ حساس شعبوں خصوصاً زرعی اجناس اور مکمل طور پر درآمد شدہ گاڑیوں کو مکمل آزاد تجارت سے جزوی طور پر مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
بھارت کے لیے سب سے نمایاں فائدہ صنعتی برآمدات، خاص طور پر محنت طلب شعبوں، میں متوقع اضافہ ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، جواہرات، کیمیکلز اور انجینئرنگ سامان کو یورپی منڈی میں کئی برسوں سے اضافی محصولات کے باعث قیمت کے محاذ پر نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ اب توقع ہے کہ یورپی یونین ان اشیا پر ڈیوٹی کو بتدریج صفر کے قریب لے جائے گی، جس سے بھارت کو بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریفوں کے مقابلے میں زیادہ منصفانہ ماحول ملے گا۔ بھارتی حکومت اس بنیاد پر 60 سے 70 لاکھ نئی ملازمتوں کا ہدف بیان کر رہی ہے اور برآمدات میں دوگنا اضافہ ممکن سمجھتی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکہ کی منڈی بھارتی مصنوعات کے لیے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہو چکی ہے۔ تاہم، محض محصولات کی کمی کافی نہیں، بھارت کی پیداواری لاگت اب بھی چین کے مقابلے میں تقریباً 20 تا 25 فیصد زیادہ ہے، اور توانائی، رسد اور مالیاتی شعبوں میں اندرونی اصلاحات کے بغیر یورپی منڈی میں پائیدار مسابقت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
معاہدے کا سب سے متنازع پہلو بھارت کی جانب سے یورپی مصنوعات، بالخصوص آٹوموبائل اور شراب، پر دی جانے والی رعایتیں ہیں۔ دہلی کو طویل عرصہ تک یہ تشویش رہی کہ اگر جرمن اور دیگر یورپی برانڈز کے لیے محصولات میں بھاری کمی کی گئی تو مقامی صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ موجودہ معاہدے کے تحت بھارت نے یورپی گاڑیوں پر ڈیوٹی کو بتدریج 110 فیصد سے 40 فیصد تک لانے پر آمادگی ظاہر کی ہے، اگرچہ یہ سہولت بنیادی طور پر زیادہ قیمت والی گاڑیوں تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر تیار ہونے والی بھارتی کاروں کو کچھ حد تک تحفظ حاصل رہے۔ ناقدین اسے پرتعیش اشیا کے بدلے روزگار کا فارمولہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ حامیوں کا استدلال ہے کہ اس سے بھارتی آٹو انڈسٹری کو معیار اور ٹیکنالوجی میں بہتری لانے کی ترغیب ملے گی، اور ممکن ہے کہ یورپی کمپنیاں مقامی سطح پر میک ان انڈیا کے تحت سرمایہ کاری اور مشترکہ پیداوار کی راہ اختیار کریں۔
اسی طرح، غیر ملکی شراب اور دیگر اعلیٰ درجے کی صارفین کی اشیا پر محصولات میں کمی سے شہری متوسط اور اعلیٰ طبقے کو فوری فائدہ پہنچ سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں درآمدی بل کتنا بڑھے گا اور مقامی چھوٹی صنعتوں پر اس کا کیا اثر ہو گا؟ اپوزیشن جماعتیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر تجارتی توازن کی سمت پر کڑی نظر نہ رکھی گئی تو سستی یورپی مصنوعات بھارتی منڈی میں سیلاب کی طرح داخل ہو سکتی ہیں، جس سے گھریلو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ دسمبر 2025 تک بھارت کا مجموعی تجارتی خسارہ پہلے ہی 25 ارب ڈالر سے اوپر جا چکا تھا، اور 2024 کے مقابلے میں اس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ اندیشہ بے بنیاد نہیں کہ معاہدہ اگر درست حکمتِ عملی کے بغیر نافذ ہوا تو برآمدی مواقع کے ساتھ ساتھ درآمدی دباؤ بھی بڑھے گا۔
ماحولیاتی محاذ پر یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم اس معاہدے کی حقیقی آزمائش ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میکانزم کے تحت یورپی منڈی میں داخل ہونے والی لوہے، فولاد، سیمنٹ، ایلومینیم اور چند دیگر مصنوعات پر ان کے کاربن اخراج کے مطابق اضافی فیس عائد کی جائے گی، اور یہ نظام 2026 سے مرحلہ وار پوری طرح نافذ ہو رہا ہے۔ بھارتی فولاد اور ایلومینیم کی صنعت ابھی بڑی حد تک ایسے پیداواری طریقوں پر انحصار کرتی ہے جن سے کاربن کا اخراج نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، تجزیوں کے مطابق اگر فوری طور پر صاف ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی نہ کی گئی تو ان مصنوعات کی یورپی منڈی میں قیمت 15 تا 22 فیصد تک بڑھ سکتی ہے، جس سے بھارتی برآمد کنندگان کی مسابقت مزید کم ہو گی۔ معاہدے میں اگرچہ پائیدار ترقی اور ٹیکنالوجی تعاون کے حوالے سے مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے، لیکن ابھی تک بھارت کو اس نظام سے کوئی جامع استثنا یا خصوصی رعایت نہیں مل سکی۔ اس لیے، اگر دہلی اس چیلنج کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے تو اسے ماحول دوست ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور کم کاربن پیداوار میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر کے اپنی صنعتی ساخت کو فوری طور پر جدید بنانا ہو گا۔
خدمات اور انسانی سرمائے کی سطح پر تصویر نسبتاً روشن دکھائی دیتی ہے، مگر یہاں بھی پیچیدگیاں کم نہیں۔ معاہدہ بھارتی آئی ٹی ماہرین، انجینئرز، طبی عملے، ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ماہرین اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے 27 یورپی ممالک کی منڈیوں میں رسائی بہتر کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ ورک ویزا کے قواعد میں جزوی نرمی، پیشہ ورانہ اہلیت کی باہمی تسلیم اور ڈیجیٹل سروسز کے لیے ضابطہ جاتی ہم آہنگی سے بھارت کے لیے خدمات کی برآمدات میں اضافے کے امکانات واضح ہیں۔ تاہم، یورپی یونین کے سخت ڈیٹا پروٹیکشن اصول اور بھارت کے اپنے ڈیٹا پروٹیکشن فریم ورک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ناگزیر ہو گا، ورنہ حساس شعبوں میں حقیقی کھلاؤ محدود رہ سکتا ہے۔ اسی طرح، امیگریشن پر داخلی یورپی سیاست اور دائیں بازو کی جماعتوں کا دباؤ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ معاہدہ فوراً وسیع پیمانے پر افرادی قوت کی منتقلی میں بدل جائے گا، اس کے لیے مستقل سفارت کاری اور اعتماد سازی درکار ہو گی۔
جیو پولیٹیکل سطح پر یہ معاہدہ بھارت، یورپی یونین، امریکہ، روس اور چین کے درمیان بنتے بگڑتے توازنات کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یورپی یونین ایک طرف روسی توانائی پر انحصار کم کرنے اور چین سے اسٹریٹجک مسابقت میں مصروف ہے، تو دوسری جانب اپنی سپلائی چینز کو متنوع بنانے کے لیے بھارت کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ دہلی کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ کثیر رخی شراکت داری کے اپنے ماڈل کو آگے بڑھاتے ہوئے واشنگٹن اور بیجنگ دونوں پر انحصار کم کرے اور یورپ کے ساتھ ایک مستقل اور باوقار تعلق استوار کرے۔ البتہ اپوزیشن کا یہ خدشہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ تجارتی مراعات کے بدلے میں یورپی طاقتیں بھارت پر روس سے فاصلہ بڑھانے، انسانی حقوق اور ماحولیاتی پالیسیوں کے حوالے سے زیادہ سخت شرائط عائد کرنے یا اندرونی معاملات میں نرم یا سخت دباؤ ڈالنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ ابھی تک سرکاری مؤقف یہی ہے کہ بھارت اپنی تزویراتی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، مگر حقیقتاً اس توازن کو برقرار رکھنا ایک نازک سفارتی مشق ہو گی۔
بالآخر سوال یہ نہیں کہ بھارت یورپی یونین تجارتی معاہدہ معجزہ ہے یا سراب، بلکہ یہ ہے کہ بھارت اسے کس طرح برتتا ہے۔ اگر دہلی اس موقع کو خودکاری، ماحول دوست توانائی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور مہارتوں کی تربیت میں وسیع سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑ دے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو نئی مسابقتی فضا کے لیے تیار کرے، اور ضابطہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کاروباری ماحول کو زیادہ شفاف اور واضح بنائے، تو یہ معاہدہ واقعی آنے والی دہائی میں بھارت کی اقتصادی تقدیر بدلنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر اسے صرف سفارتی کامیابی کے شور میں دبا کر چھوڑ دیا گیا، تو خطرہ ہے کہ یورپی مصنوعات کی یلغار، کاربن ٹیکس جیسے ضابطہ جاتی اقدامات اور اندرونی ساختی کمزوریاں اسے ایک مشکل سودا بنا دیں گی جس کا سیاسی فائدہ وقتی اور معاشی نقصان دیرپا ہو سکتا ہے۔
نیویارک اور برسلز سے لے کر دہلی اور ممبئی تک مالیاتی منڈیاں اس معاہدے کو ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں، لیکن موقع اور کامیابی کے درمیان فاصلہ ہمیشہ پالیسی کے معیار، عمل درآمد کی سنجیدگی اور داخلی اصلاحات کی رفتار سے طے ہوتا ہے۔ بھارت کے سامنے اب یہ امتحان ہے کہ وہ اس تاریخی معاہدے کو صرف ایک سرخی نہیں بلکہ ایک مستحکم اقتصادی داستان میں کیسے تبدیل کرتا ہے۔









