Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بھارت میں ڈیجیٹل سنسرشپ: آزادیِ اظہار پر بڑھتا ہوا حکومتی دباؤ* *(ڈیجیٹل آمریت کا ابھراؤ اور آئینی تحفظات)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بھارت میں ڈیجیٹل سنسرشپ: آزادیِ اظہار پر بڑھتا ہوا حکومتی دباؤ*

*(ڈیجیٹل آمریت کا ابھراؤ اور آئینی تحفظات)*

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اظہارِ رائے پر حکومتی قابو کی بحث عصرِ حاضر کے جمہوری معاشروں کا ایک پیچیدہ ترین چیلنج بن چکی ہے۔ بھارت میں، ڈیجیٹل نظم و نسق کا موجودہ خاکہ اور خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے سیکشن A-69 میں مجوزہ ترامیم اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ریاست کس طرح بتدریج ڈیجیٹل فضا پر اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے۔ موجودہ قانونی ڈھانچے کے مطابق کسی بھی آن لائن مواد کو ملکی سلامتی اور امن و امان کے جواز پر روکنے کا حتمی اختیار صرف الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے پاس ہے، لیکن اب ایک نئے مسودے کے تحت اس اختیار کو غیر مرکزی کر کے داخلہ، دفاع، خارجہ اور اطلاعات و نشریات سمیت متعدد وزارتوں کو سونپنے کے لیے بین الوزارتی مشاورت جاری ہے۔ اس کے علاوہ مالیاتی اثر اندازوں کو باقاعدہ بنانے کے لیے سیبی کو بھی ایسے ہی اختیارات دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد ڈیپ فیک، جھوٹی خبروں اور غیر مصدقہ مالیاتی مشوروں کا تدارک ہے، لیکن گہرے تنقیدی اور آئینی تناظر میں یہ پالیسی ریاستی سنسرشپ اور انتظامیہ کے حد سے تجاوز کے سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔
سیاسیات اور عمرانیات کے نقطہ نظر سے اس حکومتی پیش رفت کو فرانسیسی فلسفی مِشیل فوکو کے نظریے پینوپٹیکون کی ڈیجیٹل شکل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق جب شہریوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ایک طاقتور ریاستی مشینری ہر وقت ان کی نگرانی کر رہی ہے، تو وہ خوف میں مبتلا ہو کر خود ہی اپنی آواز کو سنسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک سے زائد وزارتوں کو براہ راست مواد روکنے کی طاقت دینا دراصل اس ڈیجیٹل آمریت کی طرف ایک قدم ہے جہاں ریاست کو شہریوں کے خیالات تراشنے کا مکمل اختیار مل جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت ملکی دفاع اور امن کو جواز بناتی ہے، لیکن ناقدین کا بجا طور پر یہ ماننا ہے کہ مختلف وزارتوں کی جانب سے الگ الگ معیار طے ہونے سے نہ صرف انتظامی تضادات پیدا ہوں گے، بلکہ یہ نظام سیاسی اختلاف رائے اور تنقیدی صحافت کو کچلنے کا ہتھیار بن جائے گا۔
اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے بھارت کے آئینی فریم ورک اور عدالتی نظائر کا حوالہ ناگزیر ہے۔ آئینِ بھارت کا دفعہ 19(1)(a) ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی کی مکمل ضمانت دیتا ہے، جبکہ دفعہ 19(2) ریاست کو صرف چند مخصوص اور ناگزیر حالات میں اس پر معقول پابندیاں لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس حوالے سے 2015 میں سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ شریا سنگھل بنام یونین آف انڈیا ایک بنیادی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مقدمے میں عدالتِ عظمیٰ نے آئی ٹی ایکٹ کے متنازع سیکشن 66 اے کو آزادیِ اظہار کے منافی قرار دے کر کالعدم کر دیا تھا۔ تاہم عدالت نے سیکشن 69-A کو اس شرط پر برقرار رکھا تھا کہ اس کے تحت مواد ہٹانے کا عمل ایک سخت طریقہ کار، ایک مرکزی کمیٹی کے جائزے اور شفافیت کا پابند ہوگا۔ اگر حکومت نئی ترامیم کے ذریعے تمام وزارتوں کو براہ راست یہ طاقت دے دیتی ہے، تو سپریم کورٹ کی جانب سے طے کردہ وہ تمام حفاظتی شقیں اور قانونی دائرہ کار بے معنی ہو کر رہ جائیں گے جس سے براہِ راست آئینی بحران پیدا ہوگا۔
ان حکومتی تجاویز کی ایک اور بڑی مثال حقیقت کی جانچ کرنے والے یونٹ کا قیام تھا، جسے آئی ٹی رولز 2023 کی ترامیم کے ذریعے متعارف کرایا گیا۔ اس ترمیم کے تحت حکومت نے خود کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ ملکی امور سے متعلق کسی بھی آن لائن مواد کو جعلی یا گمراہ کن قرار دے کر سوشل میڈیا سے ہٹوا سکتی ہے۔ تاہم ستمبر 2024 میں بمبے ہائی کورٹ نے مزاحیہ فنکار کنال کامرا اور دیگر کی درخواستوں پر اس متنازع ترمیم کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ اس عدالتی فیصلے نے واضح کر دیا کہ جمہوری ریاست کسی بھی طرح وزارتِ سچائی کا کردار ادا نہیں کر سکتی جہاں حکومت ہی مدعی اور منصف دونوں بن جائے۔ اس پس منظر میں متعدد وزارتوں کو مواد روکنے کے اختیارات دینے کا نیا خاکہ بظاہر اسی رد شدہ اختیار کو پچھلے دروازے سے واپس لانے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتا ہے۔
ان سخت قوانین کا ایک انتہائی خطرناک پہلو سوشل میڈیا کمپنیوں کا طرزِ عمل بھی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق حکومت ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کے لیے مواد ہٹانے کی وقت کی حد کو انتہائی کم کر کے مخصوص حالات میں محض 2 سے 3 گھنٹے تک محدود کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ جب میٹا، یوٹیوب، اور ایکس جیسی کثیر القومی کمپنیوں کو متعدد وزارتوں سے سینکڑوں احکامات اور بھاری جرمانوں کی دھمکیاں ملیں گی، تو قانونی اصطلاح میں اسے ہراساں کرنے کا اثر کہا جاتا ہے۔ اس دباؤ کے تحت یہ کمپنیاں ضرورت سے زیادہ تعمیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ مواد بھی ہٹا دیں گی جو قانونی طور پر جائز ہے، تاکہ حکومت سے براہ راست ٹکراؤ اور مقدمات سے بچا جا سکے۔ اس کا عملی مظاہرہ مارچ 2026 میں بڑے پیمانے پر نظر آیا جب ایکس اور انسٹاگرام پر وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرنے والے سینکڑوں صفحات، اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والے کھاتوں اور سیاسی کارٹونز کو ریاستی احکامات کے تحت روک دیا گیا۔
عالمی تقابلی جائزے کی روشنی میں، بھارت کی یہ پیش رفت دیگر جمہوری ملکوں کے معیارات سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ اگر ہم یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ یا برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ایکٹ کو دیکھیں، تو وہاں مواد ہٹانے کا اختیار حکومتی وزارتوں کے بجائے خود مختار اور آزاد نگران اداروں یا عدلیہ کے پاس رکھا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ برسرِ اقتدار جماعت اپنے سیاسی مفادات اور حزبِ مخالف کی آواز دبانے کے لیے ان قوانین کا غلط استعمال نہ کر سکے۔ لہٰذا، قومی سلامتی اور جھوٹی خبروں کے نام پر بے قابو انتظامی اختیارات کا یہ نیا خاکہ جمہوریت کے بنیادی اصول اختیارات کی تقسیم سے براہِ راست متصادم ہے۔
مختصر یہ کہ ڈیجیٹل سنسرشپ کی اس ابھرتی ہوئی لہر کو روکنے اور آئینی آزادیوں کو بچانے کے لیے ایک متوازن پالیسی مرتب کرنا وقت کی اولین ضرورت ہے۔ پہلی سفارش کے طور پر، مواد ہٹانے کے احکامات کے لیے حکومتی افسر شاہی کے بجائے ایک خود مختار ڈیجیٹل کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے جس میں سپریم کورٹ کے سبکدوش ججز، سول سوسائٹی کے نمائندے اور سائبر سیکیورٹی کے غیر جانبدار ماہرین شامل ہوں۔ دوسری سفارش یہ ہے کہ کسی بھی صارف کا مواد ہٹانے سے قبل اطلاع اور سماعت کا حق لازمی دیا جائے تاکہ وہ اپنا مؤقف پیش کر سکے۔ تیسرا اور اہم ترین قدم یہ ہے کہ حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیاں ان تمام احکامات کی تفصیلی سالانہ شفافیت کی رپورٹ جاری کرنے کی پابند ہوں۔ جب تک انٹرنیٹ کو منظم کرنے کا عمل قانون کی شفاف حکمرانی کے تابع نہیں ہوگا، تب تک سیکیورٹی کے نام پر ریاست کا یہ شکنجہ شہریوں کو جمہوری آزادی سے محروم کرتا رہے گا۔