Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بھارت میں ڈیجیٹل سنسر شپ کا بڑھتا رجحان: آزاد صحافت پر بڑھتا ہوا دباؤ* *(کیا بھارت کا ڈیجیٹل عوامی حلقہ ایک زیرِ نگرانی حلقے میں تبدیل ہو رہا ہے؟)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بھارت میں ڈیجیٹل سنسر شپ کا بڑھتا رجحان: آزاد صحافت پر بڑھتا ہوا دباؤ*

*(کیا بھارت کا ڈیجیٹل عوامی حلقہ ایک زیرِ نگرانی حلقے میں تبدیل ہو رہا ہے؟)*

بقلم: اسماء جبین فلک

اکیسویں صدی کے جمہوری معاشروں میں ڈیجیٹل عوامی حلقہ محض رابطے اور معلومات کے تبادلے کا ایک تکنیکی ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ وہ بنیادی اور ناگزیر مکانیت بن چکا ہے جہاں شہری حقوق کی عملی تشریح ہوتی ہے، ریاستی پالیسیوں پر مکالمہ جنم لیتا ہے، اور مروجہ بیانیے کو دلیل اور شواہد کی بنیاد پر چیلنج کیا جاتا ہے۔ ایک ایسے دور میں جب روایتی اور کارپوریٹ میڈیا بڑی حد تک حکومتی یا تجارتی دباؤ کے زیرِ اثر آ چکا ہے، آزاد ڈیجیٹل صحافت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے معاشرے کے ان طبقات کو آواز دی ہے جنہیں عموماً حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے اور جس کا آئین اپنے شہریوں کو آزادیٔ اظہار کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے، حالیہ برسوں میں اس ڈیجیٹل مکالمے اور ریاستی کنٹرول کے درمیان ایک نہایت پیچیدہ، کثیر الجہتی اور تشویشناک کشمکش کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اس علمی، تحقیقی اور تجزیاتی مضمون کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، صحافیوں اور ناقدین کے خلاف کی جانے والی حالیہ کارروائیاں، اگرچہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے قانونی غلاف میں لپٹی ہوئی ہیں، تاہم طریقہ کار کی غیر شفافیت اور عدم تناسب کے باعث یہ اقدامات بھارت کے آئینی فریم ورک اور جمہوری اقدار سے متصادم ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کا ڈیجیٹل منظرنامہ بتدریج ایک آزاد مکالماتی دائرے کے بجائے ایک زیرِ نگرانی حلقے میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
اس ریاستی رجحان اور نظریاتی کشمکش کی سب سے واضح اور حالیہ مثال مارچ 2026 کے اواخر اور اپریل کے اوائل میں پیش آنے والے وہ واقعات ہیں جن میں متعدد متبادل اور آزاد خبر رساں اداروں کے سوشل میڈیا صفحات کو اچانک محدود یا مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا۔ مستند اطلاعات اور متاثرہ فریقین کے بیانات کے مطابق، معروف ڈیجیٹل خبر رساں پلیٹ فارم ’مولیٹکس‘، دلت اور پسماندہ طبقات کی آواز سمجھے جانے والے ’نیشنل دستک‘، سینئر صحافی سنجے شرما کے زیرِ انتظام یوٹیوب چینل ’4PM News‘، آلٹ نیوز کے شریک بانی اور معروف فیکٹ چیکر محمد زبیر کے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس، اور مزاح نگار راجیو نگم  اور بھگت رام کے فیس بک پیجز اس ریاستی کارروائی کا براہِ راست نشانہ بنے۔ ان تمام اداروں اور افراد کی ایک نمایاں اور مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ حکومتی پالیسیوں، سماجی ناانصافیوں، اور مقتدرہ کے قائم کردہ سیاسی بیانیے پر براہِ راست اور بعض اوقات سخت تنقیدی اور طنزیہ سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ جب ایک ہی مخصوص عرصے میں، اور ایک ہی نوعیت کا تنقیدی مواد پیش کرنے والے مختلف پلیٹ فارمز کو یکے بعد دیگرے سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑے، تو علمی اور سیاسی تجزیے کی رو سے اسے محض ایک اتفاق یا معمول کی انتظامی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک منظم حکمتِ عملی کی جانب اشارہ کرتا ہے جس کا مقصد اختلافِ رائے کو منظم انداز میں محدود کرنا ہے۔
اس تمام صورتحال کا منصفانہ اور علمی تجزیہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کے نقطۂ نظر اور اس کے پیش کردہ جوابی استدلال کو بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ زیرِ غور لایا جائے۔ بھارتی حکومت، اور خصوصاً وزارتِ اطلاعات و نشریات، کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69A اور دیگر متعلقہ قواعد کے تحت مکمل طور پر قانونی ہیں۔ حکومت کے مطابق، اکیسویں صدی کے چیلنجز جن میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، منظم گمراہ کن معلومات، اور الگورتھم کے ذریعے پھیلنے والی ہیجان انگیز خبریں شامل ہیں، ریاستی سلامتی اور امنِ عامہ کے لیے ایک حقیقی اور سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ ریاست یہ دعویٰ کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا بعض مواد بھارت کی خودمختاری، سالمیت، ملکی دفاع اور غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اور ایسے مواد کی فوری روک تھام ریاست کی اولین آئینی ذمہ داری ہے۔ علمی سطح پر اس ریاستی مؤقف کی اہمیت سے یکسر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ کسی بھی جمہوری ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو پرتشدد مواد، منظم جھوٹے پراپیگنڈے اور عوامی فساد کو ہوا دینے والے عناصر سے محفوظ رکھے۔ آزادیٔ اظہار مطلق نہیں ہوتی، اور آئینِ بھارت کی دفعہ 19(2) خود اس حق پر ’معقول پابندیوں‘ کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔
تاہم، ایک جمہوری اور آئینی فریم ورک میں اصل بحث محض قانون کی موجودگی یا ریاست کے نیک ارادوں کی نہیں ہوتی، بلکہ اس قانون کے اطلاق کی شفافیت، جواز، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کی ہوتی ہے۔ تنقیدی تجزیے کا پہلا اور سب سے اہم نکتہ ان حالیہ کارروائیوں میں طریقہ کار کی غیر شفافیت ہے۔ جب مولیٹکس یا نیشنل دستک جیسے پلیٹ فارمز کو بلاک کیا گیا، تو متاثرہ اداروں نے یہ صراحت کے ساتھ بیان دیا کہ انہیں نہ تو کوئی پیشگی اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا، نہ ہی ان کے کسی مخصوص مواد یا ویڈیو کی نشاندہی کی گئی، اور نہ ہی انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے سماعت کا کوئی مناسب موقع فراہم کیا گیا۔ دفعہ 69A کے تحت جاری ہونے والے احکامات عام طور پر رازداری کے غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ جس فرد یا ادارے کا مواد روکا جا رہا ہے، اسے بعض اوقات خود اس حکم نامے کی مکمل کاپی اور اس کے پیچھے موجود قانونی و واقعاتی وجوہات تک رسائی نہیں دی جاتی۔ قانونیات اور سیاسیات کے مسلمہ اصولوں کے مطابق، جب کسی شہری یا ادارے کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس کا کون سا عمل یا کون سی تحریر خلافِ قانون سمجھی گئی ہے، تو اس کے لیے اس فیصلے کے خلاف مؤثر قانونی چارہ جوئی کرنا یا اپیل کے حق کو استعمال کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ فطری انصاف کا بنیادی تقاضا ہے کہ سزا سے قبل فردِ جرم اور وجوہات واضح کی جائیں، مگر ڈیجیٹل سنسر شپ کے موجودہ ریاستی ماڈل میں اس تقاضے کو تکنیکی رازداری کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے، جو کہ جمہوری ریاست کے بجائے ایک استبدادی نظام کے طرزِ عمل سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔
اس تجزیاتی بحث کا دوسرا اور یکساں اہمیت کا حامل ستون عدم تناسب کا اصول ہے۔ جدید آئینی قانون میں کارروائی کے متناسب ہونے کا اصول یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاست کسی خطرے سے نمٹنے کے لیے صرف اتنا ہی اختیار استعمال کرے جتنا اس خطرے کو ٹالنے کے لیے ناگزیر ہو، اور اس عمل میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ اگر کسی خبر رساں ادارے کی ایک مخصوص ویڈیو، کسی طنز نگار کی ایک خاص پوسٹ، یا کسی صحافی کے ایک مخصوص تبصرے میں کوئی ایسی بات موجود تھی جو واقعی امنِ عامہ کے لیے خطرہ تھی، تو ریاستی کارروائی کا متناسب اور منصفانہ تقاضا یہ تھا کہ صرف اس مخصوص پوسٹ یا یو آر ایل کو ہٹانے کا حکم جاری کیا جاتا۔ اس کے برعکس، حالیہ واقعات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومت نے مخصوص مواد کی نشاندہی کرنے کے بجائے پورے کے پورے فیس بک پیجز، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پروفائلز کو نشانہ بنایا، جن پر برسوں کی محنت سے تیار کردہ ہزاروں خبریں، تجزیے اور انٹرویوز موجود تھے۔ ایک مخصوص قابلِ اعتراض مواد کی آڑ میں پورے صحافتی ادارے کو خاموش کر دینا ایک ایسی غیر متناسب اور جابرانہ کارروائی ہے جو کسی بھی طور پر آئین کے آرٹیکل 19(2) کے تحت آنے والی معقول پابندی کے دائرے میں تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ اصل ہدف وہ مخصوص مواد نہیں تھا، بلکہ وہ تنقیدی آواز اور وہ پلیٹ فارم تھا جو اس مواد کو نشر کرنے کا سبب بن رہا تھا۔
اس کے علاوہ اس مسئلے کو محض ریاستی طاقت کے استعمال تک محدود سمجھنا ایک بڑی علمی فروگزاشت ہوگی، کیونکہ اس میں وہ بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیاں مثلاً میٹا، ایکس اور گوگل بھی برابر کی شریک ہیں، جو اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے سیکشن 79(3)(b) کے تحت، ان کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارم پر موجود تیسرے فریق کے مواد کی ذمہ داری سے جو قانونی تحفظ حاصل ہے، وہ اس شرط سے مشروط ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر فوری عمل درامد کریں۔ جب حکومت کی جانب سے مولیٹکس، نیشنل دستک یا محمد زبیر کے مواد کو ہٹانے کا حکم موصول ہوتا ہے، تو یہ ٹیکنالوجی کمپنیاں آزادیٔ اظہار کے عظیم تر جمہوری اصولوں کی پاسداری کرنے کے بجائے اپنے تجارتی وجود اور قانونی تحفظ کو ترجیح دیتی ہیں، اور ریاستی احکامات کی تعمیل میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتیں۔ یہ کمپنیاں شاذ و نادر ہی ان احکامات کی قانونی حیثیت اور تناسب کو عدالتوں میں چیلنج کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ریاستی طاقت اور کارپوریٹ مفادات کا ایک ایسا غیر اعلانیہ گٹھ جوڑ وجود میں آ جاتا ہے جس کے درمیان عام شہری، صحافی اور آزاد ڈیجیٹل تخلیق کار مکمل طور پر بے بس ہو کر رہ جاتا ہے۔
اس پورے ریاستی اور تکنیکی گٹھ جوڑ کا سب سے ہولناک اور دیرپا نتیجہ وہ خاموش سماجی اور نفسیاتی اثر ہے جسے سیاسیات کی زبان میں چِلنگ ایفیکٹ اور خود ساختہ سنسر شپ کہا جاتا ہے۔ جب پریس کلب آف انڈیا اور دیگر صحافتی تنظیموں نے ان حکومتی اقدامات کو من مانی اور دستور کے منافی قرار دے کر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا، تو ان کا مقصد صرف چند بلاک ہونے والے چینلز کی بحالی نہیں تھا، بلکہ وہ اس بڑے خطرے کی جانب اشارہ کر رہے تھے جو مستقبل کے صحافتی منظرنامے کو لاحق ہے۔ جب ایک آزاد صحافی، یوٹیوبر یا سیاسی مبصر یہ دیکھتا ہے کہ مولیٹکس جیسے لاکھوں فالورز رکھنے والے ادارے کو کسی پیشگی اطلاع اور واضح ثبوت کے بغیر راتوں رات ڈیجیٹل دنیا سے غائب کیا جا سکتا ہے، تو اس کے ذہن میں ایک لاشعوری خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس خوف کے زیرِ اثر وہ ان موضوعات پر بات کرنے، وہ سخت سوالات پوچھنے، اور اقلیتوں یا پسماندہ طبقات کے وہ مسائل اٹھانے سے گریز کرنے لگتا ہے جو ریاستی مقتدرہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ یوں ریاست کو براہِ راست ہر فرد پر پابندی لگانے کی ضرورت پیش نہیں آتی، بلکہ ریاستی طاقت کا محض ایک مبہم اور غیر شفاف مظاہرہ ہی پورے معاشرے میں خاموشی اور احتیاط کی ایک ایسی فضا قائم کر دیتا ہے جہاں سنسر شپ مسلط نہیں کی جاتی، بلکہ لوگ اسے خود اپنے اوپر نافذ کر لیتے ہیں۔ اور جمہوریت کے لیے یہ خود ساختہ خاموشی براہِ راست سنسر شپ سے کہیں زیادہ مہلک ہوتی ہے۔
اس تمام بحث کو عالمی اور تقابلی تناظر میں رکھنا بھی اشد ضروری ہے۔ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں دنیا بھر، خصوصاً گلوبل ساؤتھ اور جنوبی ایشیا، میں یہ رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے کہ حکومتیں ڈیجیٹل فضا کو کنٹرول کرنے کے لیے قومی سلامتی اور جھوٹی خبروں کے تدارک کے نام پر سخت گیر قوانین متعارف کروا رہی ہیں۔ لیکن بھارت کا معاملہ اس لیے زیادہ حساس اور قابلِ توجہ ہے کیونکہ یہ ملک نہ صرف خود کو جمہوریت کی ماں کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے، بلکہ اس کا آئینی ڈھانچہ اور عدالتی تاریخ آزادیٔ اظہار کے تحفظ کی شاندار روایات کی امین رہی ہے۔ تاہم، پچھلے چند برسوں اور بالخصوص مودی حکومت کے حالیہ ادوار میں، عالمی پریس فریڈم انڈیکس اور بین الاقوامی جمہوری اشاریوں میں بھارت کی درجہ بندی مسلسل گراوٹ کا شکار رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہی ڈیجیٹل پابندیاں اور ناقدین پر بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ جب حکومت طنز نگاروں کی مزاحیہ تحریروں، حقائق کی جانچ کرنے والوں کی جانب سے حقائق پر مبنی نشاندہی، اور متبادل نیوز پلیٹ فارمز کی زمینی رپورٹنگ کو امنِ عامہ کے لیے خطرہ سمجھنے لگے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ریاست خود اعتمادی کھو رہی ہے اور اپنے وجود کو دلیل سے زیادہ طاقت کے بل بوتے پر منوانا چاہتی ہے۔
ان تمام شواہد کی روشنی میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے مولیٹکس، نیشنل دستک، 4PM News، اور دیگر ناقدین کے خلاف کی جانے والی حالیہ کارروائیاں محض چند ویب سائٹس یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تکنیکی بندش کا مسٔلہ نہیں ہے۔ یہ دراصل بھارت کے اس بنیادی آئینی معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو ریاست اور شہری کے درمیان آزادی، مکالمے اور اختلافِ رائے کے احترام پر استوار کیا گیا تھا۔ اگرچہ حکومت ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کا جواز پیش کر سکتی ہے، مگر جب یہ قوانین شفافیت کی روشنی، متناسب اصولوں کی پابندی، اور عدالتی جانچ پڑتال کے بغیر استعمال ہونے لگیں، تو وہ قانون کے دائرے سے نکل کر ریاستی جبر کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔ ایک عظیم اور پختہ جمہوریت کا اصل امتحان یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو کس حد تک وسعت دیتی ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف اٹھنے والی تنقیدی اور چبھتی ہوئی آوازوں کو کتنی بردباری سے برداشت کرتی ہے۔ مودی حکومت کو اگر حقیقی معنوں میں بھارت کی جمہوری ساکھ کو بحال اور برقرار رکھنا ہے، تو اسے ڈیجیٹل فضا کے انتظامی معاملات میں شفافیت، پیشگی اطلاع، اور جوابدہی کے اصولوں کو لازماً شامل کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، قانون کی مبہم زبان میں ناقدین کو خاموش کرنے کا یہ تسلسل بھارت کے ڈیجیٹل عوامی حلقے کو ایک ایسی خاموش وادی میں بدل دے گا جہاں ریاستی بیانیے کی گونج تو ہر طرف سنائی دے گی، لیکن عوام کی حقیقی آواز اور سچائی کی جستجو مکمل طور پر دم توڑ چکی ہوگی۔