*بہوجن راج قائم کرنا ہے تو کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہوگا*
*عوام مجھے آشیرواد دیں کہ میں مودی، کے سی آر اور ریونت ریڈی سے مقابلہ کرسکوں*
*پنچایت سے پارلیمنٹ تک مسلم خواتین کی نمائندگی میرا خواب*
*چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حلقہ انتخاب کوڑنگل میں صدر ٹی آر ایس کے کویتا کی للکار*

کوسگی: تلنگانہ رکشنا سینا چیف کلواکنٹلہ کویتا نے محبوب نگر ضلع کے عوام کو پی سائنا، طرہ بازخان اور رانی لکشمماں کے وارث قرار دیتے ہوئے انہیں سلام پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2009 میں ٹی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کے دوران وہ چندرابابو اور ریونت ریڈی کے ساتھ کوسگی آئی تھیں اور آج وہ دونوں ریاست کے چیف منسٹر بن چکے ہیں۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ کوسگی، کوڑنگل اور تلنگانہ کے عوام کی دعاؤں اور آشیرواد سے وہ بھی ریاست کو چلائیں گی۔ کویتا نے کہا کہ کانگریس، بی جے پی اور بی آر ایس موجود ہونے کے باوجود ایک اور پارٹی کی ضرورت کیوں ہے، اس بارے میں ان کی بہنیں اور بھائی سوچتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان جماعتوں سے کیا عوام کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پہلے جتنی مزدوری ملتی تھی، آج بھی اتنی ہی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں ملیں تو یہ سمجھا گیا کہ اس کی وجہ آندھرائی لوگ ہیں، لیکن تلنگانہ بننے کے بعد بھی نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں اور آج بھی نوجوانوں کو کچھ کرنے کے لئے والدین پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی لئے وہ عوام سے رجوع ہوکران کا آشیرواد مانگ رہی ہیں۔کویتا نے کہا کہ ان کی پارٹی نے پانچ اہم نکات کی بنیاد پر ’’پنچا جنیم‘‘ کی صدا بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری اسمبلی کو دیکھیں تو وہ کیسی ہے؟انہوں نے کہا کہ غیر ذمہ دار سیاسی قائدین موجود ہیں، اسی لئے اب عوام کے لئے میدان جنگ میں جدوجہد کرنے والے قائدین کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی صرف ان کے لئے یا یہاں موجود چند قائدین کے لئے نہیں بلکہ تلنگانہ کے عوام کے لئے ہے۔کویتا نے کہا کہ اگر عوام انہیں کامیاب بناتے ہیں تو وہ تلنگانہ کے ہر بچے کو تعلیم دلانے کی ذمہ داری لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تعلیم کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی ہے اور گروکل اسکولوں میں فوڈ پوائزننگ کے واقعات متواتر پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالی ٹیکنک تعلیم ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے اور چیف منسٹر کہتے ہیں کہ بیرون ملک جاکر مزدوری کرلو۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ تلنگانہ نہیں ہے جو ہم چاہتے تھے اور اس صورتحال کو لازمی طور پر تبدیل ہونا چاہیے۔ ہر گاؤں میں ایک اسکول اور ہر جماعت کے لئے ایک ٹیچر ہونا چاہئے۔کویتا نے کہا کہ جنم باٹا کے دوران جب وہ ناگرکرنول گئیں تو وہاں کے سرکاری اسپتال کی صورتحال انتہائی خراب تھی۔ ایک نومولود بچے کی ماں نے آکر اپنی شکایت بیان کی اور بتایا کہ اپنی بیٹی کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کو دیکھنے کے لئے بھی اس سے ایک ہزار روپئے رشوت مانگی گئی۔ انہوں نے کہا کہ زچگی کے بعد خواتین کے پاس کم از کم اپنے کپڑے دھونے کی سہولت بھی نہیں ہے لیکن اگر وہ اقتدار میں آئیں تو کوئی بھی بڑی بیماری ہو، اس پر ایک روپیہ بھی خرچ کئے بغیر سارا بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔ کویتا نے کہا کہ جب وہ یہ باتیں کہتی ہیں تو کچھ لوگ ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ چھوٹی بچی ہیں، لڑکی ہیں، انہیں کیا معلوم؟ لیکن وہ ایک ماں ہیں اور ماں اپنے بچوں کی بھلائی کے بارے میں سوچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی بھلائی کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپئے بھی خرچ ہوجائیں تو کوئی بات نہیں، مفت تعلیم اور مفت علاج ہونا چاہئے۔
کویتا نے کہا کہ وہ نوجوانوں پر اعتماد کرتی ہیں اور ان کے خیالات کی حوصلہ افزائی کریں گی۔ ان کے کاروباری آئیڈیا کے مطابق دو لاکھ روپئے سے 20 کروڑ روپے تک قرض فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کہتے ہیں کہ نوجوانوں پر بھروسہ نہ کریں، تو کیا ان کی گالیوں پر بھروسہ کیا جائے؟
انہوں نے کہا کہ محبوب نگر میں کاگنا، تنگبھدرا اور کرشنا ندیاں بہنے کے باوجود یہاں کے عوام کو پانی نہیں مل رہا ہے۔ پہلے اسے آندھرائی حکمرانی کا نتیجہ سمجھا گیا، لیکن 12 سال گزرنے کے باوجود صورتحال کیوں تبدیل نہیں ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ پانی نہ ملنے پر پالمورو کے کسانوں نے جورالہ ریگولیٹر توڑ کر پانی حاصل کیا۔ چیف منسٹر کو بتانا چاہئے کہ اگر انہوں نے پانی دیا ہوتا تو کسان ایسا کیوں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں چیف منسٹر نے کسانوں سے بڑے بڑے وعدے کئے تھے لیکن آج کسان یوریا، پانی، بجلی، رعیتو بھروسہ، امدادی قیمت اور بونس کے لئے بھی پریشان ہیں۔کویتا نے کہا کہ جورالہ سے روزانہ تین ٹی ایم سی پانی اٹھانے کا موقع موجود ہے، اس کے باوجود چیف منسٹر ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ تین سال ہوگئے، وہ آخر کب سیکھیں گے؟ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں گی تو جورالہ سے پانی لاکر ابراہیم پٹنم تک 10 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی دیں گی، ورنہ اپنا نام بدل لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ پانی، یوریا اور بجلی کے لئے انہیں عہدیداروں کے پاؤں پکڑنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گدوال میں جنم باٹا کے دوران جب وہ گئی تھیں تو امدادی قیمت نہ ملنے پر ایک کسان مکئی کے ڈھیر پر ہی مر گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دوبارہ کسانوں کے سامنے زہر پینے کی صورتحال پیدا ہونی چاہئے؟ کیا یہی وہ تلنگانہ ہے جو ہم چاہتے تھے؟کویتا نے کہا کہ ریاست میں یقینی طور پر سماجی ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2024 میں پولیس نے ایک خاندان کو بری طرح مارا، لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بیوی، شوہر اور بیٹے کو بری طرح مارا گیا، لیکن اب تک کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کمّیرہ گاؤں میں چاکلی ذات سے تعلق رکھنے والی دو ماہ کی بچی کی موت کے باوجود اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ مکتھل میں ایتنھیل فیکٹری کے خلاف دھرنا دینے پر ایک ٹیچر اور کسانوں کے خلاف روڈی شیٹ کھول دی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ سماجی ناانصافی نہیں ہے؟ کیا کانگریس کی اس مبینہ تکبرانہ روش پر سوال نہیں کیا جانا چاہئے؟
کویتا نے کہا کہ چیف منسٹر خود کو طاقتور سمجھ کر غرور میں مبتلا ہیں، لیکن جس طرح ایک طاقتور سانپ چیونٹیوں کے ہاتھوں مر جاتا ہے، اسی طرح انہیں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ مدیراج ، مسلمانوں، نیتنّا اور گیتنّا کو ان کی آبادی کے مطابق نمائندگی ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مادیگا اور مالا برادریوں کو بھی سماج میں وہ احترام حاصل نہیں ہے جو انہیں ملنا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ لَگّچرلہ میں چیف منسٹر کی جانب سے لمباڑی خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر کیا گیا سلوک ناانصافی نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں لمباڑہ طبقہ کو موقع نہ دینے والی یہ پہلی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے تک مسلمانوں کو بھی وزیر کے طور پر موقع نہیں دیا گیا، بار بار حکومت کو اس طرف توجہ دلانے پر اظہرالدین کو منسٹر بنایا گیا۔ اور گزشتہ تین سالوں میں مسلمانوں کے لئے رقم بھی بالکل کم خرچ کی گئی، ۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ یہ ایسی حکومت ہے جو پہلے سال 10 فیصد، دوسرے سال 20 فیصد اور تیسرے سال 30 فیصد کمیشن لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کہتی ہے کہ وہ کانگریس سے نکلا ہوا تیر ہیں جبکہ چیف منسٹر اسمبلی میں بی آر ایس والوں کے اثاثوں کا حساب ان کے ساتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ وہ بی آر ایس سے نکلا ہوا تیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دوسرے لوگ جانتے بوجھتے یا لاعلمی میں انہیں بی جے پی کا تیر قرار دے رہے ہیں۔ کویتا نے کہا کہ وہ بہوجنوں کی تیر ہیں، نوجوانوں کے جنگی نعرے کی آواز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ امبیڈکر کے نظریے کی پیروکار اور پھولے کے خودداری کے نعرے کی صدا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساوتری بائی پھولے کے نظریات کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہوکر مرد حکمرانوں کو چیلنج کرنے والی بہادر خاتون ہیں۔کویتا نے کہا کہ اگر عوام انہیں آشیرواد دیں تو وہ مودی، کے سی آر اور ریوَنَت ریڈی سے لڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ثابت کریں گی کہ کسی کے سہارے کے بغیر ایک خاتون سیاسی طور پر آگے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے قائدین خواتین کو لکشمی دیوی سے تشبیہ دیتے ہیں، لیکن انہیں مواقع فراہم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف ایک ریاست میں خاتون چیف منسٹر ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ تلنگانہ میں ہم مادر شاہی لے کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب لوگ مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑے رہیں تو یہ یقینی طور پر ممکن ہے۔
کویتا نے کہا کہ یہاں کے گٹّو اور کیتوڑّو منڈلوں میں شرح خواندگی افغانستان کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کا قلمدان رکھنے والے چیف منسٹر کو شرم سے سر جھکا لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے پاس اب صرف دو سال کا وقت باقی ہے، انہیں اب بھی یہاں کی صورتحال تبدیل کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔کویتا نے کہا کہ بہوجن راج قائم کرنا ہے تو کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریوَنَت ریڈی انتخابات میں دی گئی ضمانتوں کو نافذ کئے بغیر بچتے پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کی بیداری رکھنے والے محبوب نگر ضلع کے عوام کو اس بات کو سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ محبوب نگر میں کانگریس کو 13 نشستیں دینے کے باوجود ارکان اسمبلی ریت، مٹی اور اندرمّا مکانات کے معاملات میں دھاندلی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے حلقہ انتخاب میں بھی اندرمّا مکانات کے لئے پیسے مانگے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے تحریک کاروں، ملازمین اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔کویتا نے سوال کیا کہ آخر ہمیں اب بھی کانگریس کے ساتھ کیوں رہنا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر بہوجن راج قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی میں بہوجنوں اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے انہیں آشیرواد دینے کی اپیل کی۔










